بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اگر آدمی نماز میں بھول جائے تو کیا کرے
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) سجدہ تلاوت و سہو کا بیان اگر آدمی نماز میں بھول جائے تو کیا کرے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 133 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
24- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قال: ”إن أحدكم إذا قام يصلي جاءه الشيطان فلبس عليه حتى لا يدري كم صلى، فإذا وجد ذلك أحدكم فليسجد سجدتين وهو جالس.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھتا ہے تو اس کے پاس شیطان آ کر اس کی نماز کے بارے میں شک و شبہ ڈالتا ہے حتیٰ کہ اسے یہ پتا نہیں ہوتا کہ وہ کتنی نماز پڑھ چکا ہے۔ اگر تم میں سے کوئی شخص ایسی حالت پائے تو بیٹھے بیٹھے (آخری تشہد کے آخر میں) دو سجدے کرے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 133]
تخریج الحدیث
«24- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 100/1 ح 220، ك 4 ب 1 ح 1) التمهيد 89/7، الاستذكار: 193 و أخرجه البخاري (1232) ومسلم 389/2 بعد ح 569) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 134 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
81- مالك عن ابن شهاب عن عبد الرحمن الأعرج عن عبد الله بن بحينة أنه قال: صلى لنا رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم ركعتين ثم قام فلم يجلس فقام الناس معه. فلما قضى صلاته وانتظرنا تسليمه كبر، فسجد سجدتين وهو جالس قبل السلام، ثم سلم.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو گئے (اور تشہد کے لئے) نہ بیٹھے تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز مکمل کی اور ہم آپ کے سلام کا انتظار کرنے لگے تو آپ نے تکبیر کہی اور دو سجدے سلام سے پہلے بیٹھے ہوئے کئے پھر آپ نے سلام پھیرا ۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 134]
تخریج الحدیث
«81- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 96/1 ح 214، ك 3 ب 17 ح 65) التمهيد 183/10، الاستذكار: 184،185، و أخرجه البخاري (1224) ومسلم (570) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 135 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
128- قال مالك: حدثني أيوب بن أبى تميمة عن محمد بن سيرين عن أبى هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم انصرف من اثنتين، فقال له ذو اليدين: أقصرت الصلاة أم نسيت يا رسول الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”أصدق ذو اليدين؟“ فقال الناس: نعم. فقام رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فصلى اثنتين أخريين ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده أو أطول، ثم رفع ثم كبر فسجد مثل سجوده أو أطول، ثم رفع.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا تو (ایک صحابی) ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے آپ سے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (لوگوں سے) کہا: کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے؟ تو لوگوں نے کہا: جی ہاں! پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور (ظہر یا عصر کی) آخری دو رکعتیں پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر تکبیر کہی تو اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے طویل سجدہ کیا پھر (تکبیر کہہ کر) سر اٹھایا پھر تکبیر کہی تو اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے طویل سجدہ کیا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 135]
تخریج الحدیث
«128- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 93/1 ح 206، ك 3 ب 15 ح 58) التمهيد 341/1، الاستذكار: 178، و أخرجه البخاري (1228) من حديث مالك به ورواه مسلم (573/97) من حديث أيوب السخنياني به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
حدیث نمبر: 136 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
156- مالك عن داود بن الحصين عن أبى سفيان مولى ابن أبى أحمد قال: سمعت أبا هريرة يقول: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم العصر فسلم فى ركعتين، فقام ذو اليدين فقال: أقصرت الصلاة يا رسول الله أم نسيت؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: كل ذلك لم يكن. فقال: قد كان بعض ذلك يا رسول الله. فأقبل رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم على الناس فقال: ”أصدق ذو اليدين؟“ فقالوا: نعم. فأتم رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم ما بقي من الصلاة ثم سجد سجدتين وهو جالس بعد السلام..
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، پھر ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پوچھا: یا رسول اللہ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوئی۔ ذوالیدین نے کہا: یا رسول اللہ! ان دونوں میں سے ایک بات ضرور ہوئی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کی طرف ر خ کر کے پوچھا: کیا زوالیدین نے سچ کہا: ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باقی رہ جانے والی نماز پوری کی پھر سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 136]
تخریج الحدیث
«156- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 94/1 ح 207، ك 3 ب 15 ح 59) التمهيد 311/2، الاستذكار:179 , 182، و أخرجه مسلم (1573/99) من حديث مالك به، من رواية يحييٰ بن يحييٰ وجاء فى الأصل: حميد.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
حدیث نمبر: 137 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
489- وعن يحيى بن سعيد عن عبد الرحمن الأعرج عن عبد الله بن بحينة أنه قال: إن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قام من اثنتين من الظهر لم يجلس فيهما، فلما قضى صلاته سجد سجدتين ثم سلم بعد ذلك.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی دو رکعتوں کے بعد (تشہد میں) بیٹھے بغیر کھڑے ہو گئے۔ جب نماز مکمل ہوئی تو دو سجدے کئے پھر ان کے بعد سلام پھیرا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 137]
تخریج الحدیث
«489- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 96/1، 97 ح 215، ك 3 ب 17 ح 66) التمهيد 226/23، و أخرجه البخاري (1225) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح