بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)

حدیث نمبر: 136 — اگر آدمی نماز میں بھول جائے تو کیا کرے
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) سجدہ تلاوت و سہو کا بیان اگر آدمی نماز میں بھول جائے تو کیا کرے حدیث 136
156- مالك عن داود بن الحصين عن أبى سفيان مولى ابن أبى أحمد قال: سمعت أبا هريرة يقول: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم العصر فسلم فى ركعتين، فقام ذو اليدين فقال: أقصرت الصلاة يا رسول الله أم نسيت؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: كل ذلك لم يكن. فقال: قد كان بعض ذلك يا رسول الله. فأقبل رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم على الناس فقال: ”أصدق ذو اليدين؟“ فقالوا: نعم. فأتم رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم ما بقي من الصلاة ثم سجد سجدتين وهو جالس بعد السلام..
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، پھر ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پوچھا: یا رسول اللہ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوئی۔ ذوالیدین نے کہا: یا رسول اللہ! ان دونوں میں سے ایک بات ضرور ہوئی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کی طرف ر خ کر کے پوچھا: کیا زوالیدین نے سچ کہا: ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باقی رہ جانے والی نماز پوری کی پھر سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 136]
تخریج الحدیث
«156- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 94/1 ح 207، ك 3 ب 15 ح 59) التمهيد 311/2، الاستذكار:179 , 182، و أخرجه مسلم (1573/99) من حديث مالك به، من رواية يحييٰ بن يحييٰ وجاء فى الأصل: حميد.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
← پچھلی حدیث (135) باب پر واپس اگلی حدیث (137) →