بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث اَبِی رَزِین العقَیلِیِّ لَقِیطِ بنِ عَامِر المنتَفِقِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه ...
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 25
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 16182 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبَّرْ، فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ"، قَالَ:" وَالرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ"، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ، قَالَ:" لَا يَقُصُّهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خواب پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے تاقتی کہ اس کی تعبیر نہ دی جائے اور جب تعبیر دے دی جائے تو وہ اسی کے موافق پورا ہو جاتا ہے اور فرمایا کہ خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہے اور غالباً یہ بھی فرمایا کہ خواب صرف اسی شخص کے سامنے بیان کیا جائے جو محبت کرنے والا ہو یا اس معاملے میں رائے دے سکتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16182]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
حدیث نمبر: 16183 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الرُّؤْيَا مُعَلَّقَةٌ بِرِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُحَدِّثْ بِهَا صَاحِبُهَا، فَإِذَا حَدَّثَ بِهَا وَقَعَتْ، وَلَا تُحَدِّثُوا بِهَا إِلَّا عَالِمًا أَوْ نَاصِحًا أَوْ لَبِيبًا، وَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابو رزین سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خواب پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے تاقتی کہ اس کی تعبیر نہ دی جائے اور جب تعبیر دے دی جائے تو وہ اسی کے موافق پورا ہو جاتا ہے اور فرمایا کہ خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہے اور غالباً یہ بھی فرمایا کہ خواب صرف اسی شخص کے سامنے بیان کیا جائے جو محبت کرنے والا ہو یا اس معاملے میں رائے دے سکتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16183]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
حدیث نمبر: 16184 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ. قَالَ:" حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین عقیلی سے مروی ہے کہ وہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میرے والد صاحب انتہائی ضعیف آدمی ہیں وہ حج عمرہ کی طاقت نہیں رکھتے خواتین کی بھی خواہش نہیں رہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر تم ان کی طرف سے حج اور عمرہ کر لو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16184]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16185 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ، قَالَ:" حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہمارے نسخے میں یہاں صرف حدثنا لکھا ہوا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16185]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16186 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكُلُّنَا يَرَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟، قَالَ:" يَا أَبَا رَزِينٍ أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ مُخْلِيًا بِهِ؟"، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَاللَّهُ أَعْظَمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! قیامت کے دن کیا ہم میں سے ہر شخص اللہ کا دیدار کر سکے گا اور اس کی مخلوق میں اس کی علامت کیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابورزین کیا تم میں سے ہر شخص آزادی کے ساتھ چاند نہیں دیکھ سکتا میں نے کہا یا رسول اللہ! کیوں نہیں فرمایا: تو پھر اللہ اس سے بھی زیادہ عظیم ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16186]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال وكيع بن حدس
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال وكيع بن حدس
حدیث نمبر: 16187 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ضَحِكَ رَبُّنَا مِنْ قُنُوطِ عَبْدِهِ، وَقُرْبِ غَيْرِهِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَيَضْحَكُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ؟، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: لَنْ نَعْدَمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمارا پروردگار اپنے بندوں کی مایوسی اور دوسرے کے قریب جاتے ہوئے انہیں دیکھ کر ہنستا ہے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اللہ بھی ہنستا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے عرض کیا: پھر ہم ہنسنے والے رب سے خیر سے محروم نہیں رہیں گے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16187]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 16188 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟ قَالَ:" كَانَ فِي عَمَاءٍ، مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ، وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ، ثُمَّ خَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ہمارا رب کہاں تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ نامعلوم مقام پر تھا اس کے اوپر نیچے صرف خلاء تھا پھر اس نے پانی پر اپنا عرش پیدا کیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16188]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 16189 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ ، أَبِي رَزِينٍ عَمِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ عَمِّهِ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ أُمِّي؟، قَالَ:" أُمُّكَ فِي النَّارِ"، قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ مَنْ مَضَى مِنْ أَهْلِكَ؟، قَالَ:" أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ مَعَ أُمِّي" قَالَ أَبِي: الصَّوَابُ حُدُسٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میری والدہ کہاں ہو گی فرمایا: جہنم میں میں نے عرض کیا: کہ پھر آپ کے جو اہل خانہ فوت ہو گئے وہ کہاں ہوں گے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہاری ماں میری ماں کے ساتھ ہو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16189]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
حدیث نمبر: 16190 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ ، عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ؟ قَالَ:" حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: کہ میرے والد صاحب انتہائی بوڑھے اور ضعیف ہو چکے ہیں وہ حج عمرہ کی طاقت نہیں رکھتے خواتین کی بھی خواہش نہیں رہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر تم ان کی طرف سے حج اور عمرہ کر لو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16190]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16191 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، أَبِي رَزِينٍ لَقِيطٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ لَقِيطٍ ، عَنْ عَمِّهِ رَفَعَهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ" أَشُكُّ أَنَّهُ قَالَ:" رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُخْبِرْ بِهَا، فَإِذَا أَخْبَرَ بِهَا وَقَعَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خواب اجزاء نبوت میں سے چالیسواں جز ہے اور خواب پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے تاوقتیکہ اس کی تعبیر نہ دی جائے اور جب تعبیر دے دی جائے تو وہ اسی کے موافق ہو جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16191]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد وقع فيه خطأ، فقد سقط منه وكيع ابن حدس، ولم يدري أهذا الخطأ من أحد الرواة أم من النساخ
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد وقع فيه خطأ، فقد سقط منه وكيع ابن حدس، ولم يدري أهذا الخطأ من أحد الرواة أم من النساخ
حدیث نمبر: 16192 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ حُدَسٍ ، أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدَسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَنْظُرُ إِلَى الْقَمَرِ مُخْلِيًا بِهِ؟"، قَالَ: بَلَى، قَالَ:" فَاللَّهُ أَعْظَمُ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى، وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ:" أَمَا مَرَرْتَ بِوَادِي أَهْلِكَ مَحْلًا؟"، قَالَ: بَلَى، قَالَ:" أَمَا مَرَرْتَ بِهِ يَهْتَزُّ خَضِرًا؟"، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ مَحْلًا؟"، قَالَ: بَلَى، قَالَ:" فَكَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى، وَذَلِكَ آيَتُهُ فِي خَلْقِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! قیامت کے دن کیا ہم میں سے ہر شخص اللہ کا دیدار کر سکے گا اور اس کی مخلوق میں اس کی علامت کیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابورزین کیا تم میں سے ہر شخص آزادی کے ساتھ چاند نہیں دیکھ سکتا میں نے کہا یا رسول اللہ! کیوں نہیں فرمایا: تو پھر اللہ اس سے بھی زیادہ عظیم ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16192]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال وكيع بن حدس
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال وكيع بن حدس
حدیث نمبر: 16193 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، أَبِي رَزِينٍ عَمِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ عَمِّهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى؟، فَقَالَ:" أَمَا مَرَرْتَ بِالْوَادِي مُمْحِلًا، ثُمَّ تَمُرُّ بِهِ خَضِرًا؟"، قَالَ شُعْبَةُ: قَالَهُ أَكْثَرَ مِنْ مَرَّتَيْنِ" كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کر ے گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کبھی ایسی وادی میں سے نہیں گزرے جہاں پہلے پھل نہ ہو پھر دوبارہ گزرنے پر وہ سرسبز شاداب ہو چکا ہو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16193]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال وكيع بن حدس
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال وكيع بن حدس
حدیث نمبر: 16194 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى؟، قَالَ:" أَمَا مَرَرْتَ بِأَرْضٍ مِنْ أَرْضِكَ مُجْدِبَةٍ، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهَا مُخْصَبَةً؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" كَذَلِكَ النُّشُورُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْإِيمَانُ؟، قَالَ:" أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ تُحْرَقَ بِالنَّارِ أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تُشْرِكَ بِاللَّهِ، وَأَنْ تُحِبَّ غَيْرَ ذِي نَسَبٍ لَا تُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا كُنْتَ كَذَلِكَ فَقَدْ دَخَلَ حُبُّ الْإِيمَانِ فِي قَلْبِكَ، كَمَا دَخَلَ حُبُّ الْمَاءِ لِلظَّمْآنِ فِي الْيَوْمِ الْقَائِظِ"، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ لِي بِأَنْ أَعْلَمَ أَنِّي مُؤْمِنٌ؟ قَالَ:" مَا مِنْ أُمَّتِي أَوْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَبْدٌ يَعْمَلُ حَسَنَةً فَيَعْلَمُ أَنَّهَا حَسَنَةٌ، وَأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَازِيهِ بِهَا خَيْرًا، وَلَا يَعْمَلُ سَيِّئَةً فَيَعْلَمُ أَنَّهَا سَيِّئَةٌ، وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهَا، وَيَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ إِلَّا هُوَ إِلَّا وَهُوَ مُؤْمِنٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کر ے گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم کبھی ایسی وادی سے نہیں گزرے جہاں پہلے پھل نہ ہو پھر دوبارہ گزرنے پر وہ سرسبز شاداب ہو چکا ہو میں نے عرض کیا: جی ہاں فرمایا: اسی طرح مردے زندہ ہو جائیں گے۔ پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! ایمان کیا چیز ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ اللہ اور اس کے رسول تمہاری نگاہوں میں اپنے علاوہ سب سے زیادہ محبوب ہو جائیں تمہیں دوبارہ شرک کی طرف لوٹنے سے زیادہ آگ میں جل جانا پسند ہو جائے اور کسی ایسے شخص سے جو تمہارے ساتھ نسبی قرابت نہ رکھتا ہو صرف اللہ کی رضا کے لے محبت کرتا ہو جب تم اس کیفیت تک پہنچ جاؤ تو سمجھ لو کہ ایمان کی محبت تمہارے دل میں اترچکی ہے جیسے سخت گرمی کے موسم میں پیاسے آدمی کے دل میں خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے بارے میں کیسے معلوم کر سکتا ہوں کہ میں مومن ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرا جو امتی بھی کوئی نیک عمل کر ے اور وہ اسے نیکی سمجھتا بھی ہواور یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ ضرور دے گا یا کوئی گناہ کر ے اور اسے یقین ہو جائے کہ یہ گناہ ہے اور وہ اس پر استغفار کر ے اور یہ یقین رکھتا ہو کہ اللہ کے علاوہ اسے کوئی معاف نہیں کر سکتا تو وہ مومن ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16194]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، سليمان بن موسى لم يدرك أحدة من الصحابة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، سليمان بن موسى لم يدرك أحدة من الصحابة
حدیث نمبر: 16195 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، وَكِيعَ بْنَ حُدُسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَكِيعَ بْنَ حُدُسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَهِيَ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُحَدِّثْ بِهَا، فَإِذَا حَدَّثَ بِهَا وَقَعَتْ"، قَالَ: أَظُنُّهُ قَالَ:" لَا يُحَدِّثُ بِهَا إِلَّا حَبِيبًا أَوْ لَبِيبًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خواب پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے تاوقتیکہ اس کی تعبیر نہ دی جائے اور جب تعبیر دے دی جائے تو وہ اسی کے موافق پورا ہو جاتا ہے اور فرمایا کہ خواب اجزاء نبوت میں سے چالیسواں جزو ہے اور غالباً یہ بھی فرمایا کہ خواب صرف اسی شخص کے سامنے بیان کیا جائے جو محبت کرنے والا ہو یا اس معاملے میں رائے دے سکتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16195]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وكيع بن حدس مجهول
الحكم: حسن لغيره، وكيع بن حدس مجهول
حدیث نمبر: 16196 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى؟، فَقَالَ:" أَمَا مَرَرْتَ بِوَادٍ مُمْحِلٍ، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ خَصِيبًا؟" قَالَ: ابْنُ جَعْفَرٍ:" ثُمَّ تَمُرُّ بِهِ خَضِرًا؟"، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کر ے گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کبھی ایسی وادی سے نہیں گزرے جہاں پہلے پھل نہ ہو پھر دوبارہ گزرنے پر وہ سرسبز شاداب ہو چکا ہو میں نے عرض کیا: کیوں نہیں فرمایا: اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو بھی زندہ کر دے گا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16196]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
حدیث نمبر: 16197 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَبَهْزٌ الْمَعْنَى ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، وَكِيعَ بْنَ حُدَسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَبَهْزٌ الْمَعْنَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ. قَالَ: سَمِعْتُ وَكِيعَ بْنَ حُدَسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَهِيَ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُحَدِّثْ بِهَا، فَإِذَا حَدَّثَ بِهَا سَقَطَتْ". وَأَحْسِبُهُ قَالَ:" لَا يُحَدِّثُ بِهَا إِلَّا حَبِيبًا أَوْ لَبِيبًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خواب پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے تاوقتیکہ اس کی تعبیر نہ دی جائے اور جب تعبیر دے دی جائے تو وہ اسی کے موافق پورا ہو جاتا ہے اور فرمایا کہ خواب اجزاء نبوت میں سے چالیسواں جزو ہے اور غالباً یہ بھی فرمایا کہ خواب صرف اسی شخص کے سامنے بیان کیا جائے جو محبت کرنے والاہو یا اس معاملے میں رائے دے سکتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16197]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
حدیث نمبر: 16198 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَبَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ بَهْزٌ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ بَهْزٌ: أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ كَيْفَ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟، فَقَالَ:" أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَنْظُرُ إِلَى الْقَمَرِ مُخْلِيًا بِهِ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى. قَالَ:" فَإِنَّهُ أَعْظَمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! قیامت کے دن کیا ہم میں سے ہر شخص اللہ کا دیدار کر سکے گا اور اس کی مخلوق میں اس کی علامت کیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابورزین کیا تم میں سے ہر شخص آزادی کے ساتھ چاند نہیں دیکھ سکتا میں نے کہا یا رسول اللہ! کیوں نہیں فرمایا: تو پھر اللہ اس سے بھی زیادہ عظیم ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16198]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
حدیث نمبر: 16199 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ ، عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو رَزِينٍ. قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يُطِيقُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ، قَالَ:" حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین عقیلی سے مروی ہے کہ وہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: کہ میرے والد صاحب انتہائی ضعیف اور بوڑھے ہو چکے ہیں وہ حج وعمرہ کی طاقت نہیں رکھتے خواتین کی بھی خواہش نہیں رہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر تم ان کی طرف سے حج اور عمرہ کر لو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16199]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16200 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ؟، قَالَ:" فِي عَمَاءٍ، مَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ، وَتَحْتَهُ هَوَاءٌ، ثُمَّ خَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ہمارا رب کہاں تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نامعلوم مقام پر تھا اس کے اوپر نیچے صرف خلاء تھا پھر اس نے پانی پر اپنا عرش پیدا کیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16200]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة وكيع بن حدس
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة وكيع بن حدس
حدیث نمبر: 16201 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَحَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ حُدَسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَسَنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدَسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ حَسَنٌ الْعُقَيْلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" ضَحِكَ رَبُّنَا مِنْ قُنُوطِ عَبْدِهِ وَقُرْبِ غَيْرِهِ"، قَالَ أَبُو رَزِينٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَوَ يَضْحَكُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ الْعَظِيمُ، لَنْ نَعْدَمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا؟، قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ:" نَعَمْ، لَنْ نَعْدَمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمارا پروردگار اپنے بندوں کی مایوسی اور دوسروں کے قریب جاتے ہوئے انہیں دیکھ کر ہنستا ہے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اللہ بھی ہنستا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے عرض کیا: کہ پھر ہم ہنسنے والے رب سے خیر سے محروم نہیں رہیں گے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16201]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجهول