مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ ، أَبِي رَزِينٍ عَمِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ عَمِّهِ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ أُمِّي؟، قَالَ:" أُمُّكَ فِي النَّارِ"، قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ مَنْ مَضَى مِنْ أَهْلِكَ؟، قَالَ:" أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ مَعَ أُمِّي" قَالَ أَبِي: الصَّوَابُ حُدُسٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میری والدہ کہاں ہو گی فرمایا: جہنم میں میں نے عرض کیا: کہ پھر آپ کے جو اہل خانہ فوت ہو گئے وہ کہاں ہوں گے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہاری ماں میری ماں کے ساتھ ہو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16189]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجهول