عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى؟، فَقَالَ:" أَمَا مَرَرْتَ بِوَادٍ مُمْحِلٍ، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ خَصِيبًا؟" قَالَ: ابْنُ جَعْفَرٍ:" ثُمَّ تَمُرُّ بِهِ خَضِرًا؟"، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کر ے گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کبھی ایسی وادی سے نہیں گزرے جہاں پہلے پھل نہ ہو پھر دوبارہ گزرنے پر وہ سرسبز شاداب ہو چکا ہو میں نے عرض کیا: کیوں نہیں فرمایا: اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو بھی زندہ کر دے گا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16196]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجهول