بَهْزٌ ، وَحَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ حُدَسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَسَنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدَسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ حَسَنٌ الْعُقَيْلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" ضَحِكَ رَبُّنَا مِنْ قُنُوطِ عَبْدِهِ وَقُرْبِ غَيْرِهِ"، قَالَ أَبُو رَزِينٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَوَ يَضْحَكُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ الْعَظِيمُ، لَنْ نَعْدَمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا؟، قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ:" نَعَمْ، لَنْ نَعْدَمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمارا پروردگار اپنے بندوں کی مایوسی اور دوسروں کے قریب جاتے ہوئے انہیں دیکھ کر ہنستا ہے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اللہ بھی ہنستا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے عرض کیا: کہ پھر ہم ہنسنے والے رب سے خیر سے محروم نہیں رہیں گے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16201]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجهول