بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 30
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 15672 مسند احمد
سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَبَاهُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصَلِّ فِي السُّبْحَةِ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دوران سفر رات کے وقت اپنی سواری پر ہی نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے خواہ سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15672]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1104 تعليقا ، م: 701
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1104 تعليقا ، م: 701
حدیث نمبر: 15673 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ التَّيْمِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الْقَبْرُ؟" قَالُوا: قَبْرُ فُلَانَةَ , قَالَ:" أَفَلَا آذَنْتُمُونِي؟" قَالُوا: كُنْتَ نَائِمًا، فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا، فَادْعُونِي لِجَنَائِزِكُمْ" , فَصَفَّ عَلَيْهَا فَصَلَّى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر کسی قبر پر ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: یہ کس کی قبر ہے لوگوں نے بتایا فلاں عورت کی قبر ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں لوگوں نے عرض کیا: کہ آپ سوئے ہوئے تھے آپ کو جگانا ہمیں اچھا معلوم نہیں ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کیا کر و بلکہ جنازے میں بلالیا کر و اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت کی قبر پر صف بندی کر کے نماز جنازہ پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15673]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15674 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ جَنَازَةً فَقُمْ حَتَّى تُجَاوِزَكَ أَوْ قَالَ: قِفْ حَتَّى تُجَاوِزَكَ" , قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا رَأَى جَنَازَةً , قَامَ حَتَّى تُجَاوِزَهُ، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ، وَلَّى ظَهْرَهُ الْمَقَابِرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی جنازے کو دیکھا کر و تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے سیدنا ابن عمر جب کسی جنازے کو دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ وہ گزر جاتا اور جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو اپنی پشت دوسری قبروں کی طرف فرما لیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15674]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
حدیث نمبر: 15675 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ ، عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الْجَنَازَةَ وَلَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا، فَلْيَقُمْ حَتَّى تُجَاوِزَهُ أَوْ تُوضَعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی جنازے کو دیکھا کر و اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15675]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
حدیث نمبر: 15676 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے ایک جوتی سے دو جوتیوں کے عوض نکاح کر لیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے نکاح کو برقرار رکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15676]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 15677 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، نَافِعًا ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا , يَقُولُ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَأْثُرُ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الْجِنَازَةَ، فَلْيَقُمْ حِينَ يَرَاهَا حَتَّى تُخَلِّفَهُ، إِذَا كَانَ غَيْرَ مُتَّبِعِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی جنازے کو دیکھا کر و اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15677]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
حدیث نمبر: 15678 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَا أَعُدُّ , وَمَا لَا أُحْصِي:" يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ" , وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مَا لَا أُحْصِي يَتَسَوَّكُ وَهُوَ صَائِمٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حالت صیام میں اتنی مرتبہ مسواک کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ میں شمار نہیں کر سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15678]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
حدیث نمبر: 15679 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةَ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ، قَالَ: فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: ذَاكَ لَهُ، فَقَالَ:" أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَ شُعْبَةُ , فَقُلْتُ لَهُ: كَأَنَّهُ أَجَازَ ذَلِكَ؟ قَالَ: كَأَنَّهُ أَجَازَهُ , قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ، فَقَالَ:" أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟" فَقَالَتْ: رَأَيْتُ ذَاكَ، فَقَالَ:" وَأَنَا أَرَى ذَاكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے دو جوتیوں کے عوض نکاح کر لیا وہ عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور اس بات کا ذکر کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم اپنے نفس اور مال کے بدلے میں دو جوتیوں پر راضی ہواس نے کہا جی ہاں شعبہ نے عاصم سے اس کا مطلب پوچھا کہ اس سے اجازت مراد ہے انہوں نے کہا ہاں دوسری مرتبہ ملاقات ہو نے پر عاصم نے اس میں عورت کا جواب یہ نقل کیا کہ میں اسے صحیح سمجھتی ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر میری بھی یہی رائے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15679]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
حدیث نمبر: 15680 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ:" مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً، لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا صَلَّى عَلَيَّ، فَلْيُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامربن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوران خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مجھ پر درود پڑھے تو جب تک وہ مجھ پر درود پڑھتا رہے گا فرشتے اس پر درود پڑھتے رہیں گے اب انسان کی مرضی ہے کہ کم پڑھے یا زیادہ؟ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15680]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، وقد توبع
حدیث نمبر: 15681 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ مِنْ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَيُؤَخِّرُونَهَا عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلُّوهَا مَعَهُمْ، فَإِنْ صَلَّوْهَا لِوَقْتِهَا وَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ، فَلَكُمْ وَلَهُمْ، وَإِنْ أَخَّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا فَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ، فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ، مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ نَكَثَ الْعَهْدَ وَمَاتَ نَاكِثًا لِلْعَهْدِ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ" , قُلْتُ لَهُ: مَنْ أَخْبَرَكَ هَذَا الْخَبَرَ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يُخْبِرُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عاصم بن عبیداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد کچھ ایسے امراء بھی آئیں گے جو کبھی وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیآ کر یں گے اور کبھی تاخیر کر دیآ کر یں گے تم ان کے ساتھ نماز پڑھتے رہنا اگر وہ بروقت نماز پڑھیں اور تم بھی ان کے ساتھ شامل ہو تو تمہیں ثواب ملے گا اور انہیں بھی اگر وہ موخر کر دیں اور تم ان کے ساتھ ہی نماز پڑھو تمہیں ثواب ملے گا اور انہیں تاخیر کی سزا ملے گی جو شخص جماعت سے علیحدگی اختیار کر لیتا ہے اور مرجاتا ہے تو جاہلیت کی موت مرتا ہے اور جو شخص وعدہ توڑ دیتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15681]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
الحكم: بعضه صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 15682 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الْجِنَازَةَ، فَلْيَقُمْ حَتَّى تُخَلِّفَهُ أَوْ تُوضَعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی جنازے کو دیکھا کر و اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15682]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
حدیث نمبر: 15683 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15683]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
حدیث نمبر: 15684 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصَلِّي عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ النَّوَافِلَ فِي كُلِّ جِهَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دوران سفر رات کے وقت اپنی سواری پر ہی نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے خواہ سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15684]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1104 تعليقا، م: 701
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1104 تعليقا، م: 701
حدیث نمبر: 15685 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتَ جَنَازَةً فَإِنْ لَمْ تَكُ مَاشِيًا مَعَهَا , فَقُمْ لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكَ أَوْ تُوضَعَ" , قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رُبَّمَا تَقَدَّمَ الْجِنَازَةَ فَقَعَدَ، حَتَّى إِذَا رَآهَا قَدْ أَشْرَفَتْ , قَامَ حَتَّى تُوضَعَ، وَرُبَّمَا سَتَرَتْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی جنازے کو دیکھا کر و تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے سیدنا ابن عمر جب کسی جنازے کو دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ وہ گزر جاتا اور جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو اپنی پشت دوسری قبروں کی طرف فرما لیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15685]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
حدیث نمبر: 15686 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دوران سفر رات کے وقت اپنی سواری پر ہی نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے خواہ سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15686]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1093، م: 701
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1093، م: 701
حدیث نمبر: 15687 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ ، عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمْ الْجِنَازَةَ، فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی جنازے کو دیکھا کر و اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15687]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
حدیث نمبر: 15688 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَسْتَاكُ مَا لَا أَعُدُّ , وَلَا أُحْصِي وَهُوَ صَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حالت صیام میں اتنی مرتبہ مسواک کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ میں شمار نہیں کر سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15688]
حکم دارالسلام
حسن لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
الحكم: حسن لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 15689 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا صَلَّى عَلَيَّ أَحَدٌ صَلَاةً إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ مَا دَامَ يُصَلِّي عَلَيَّ، فَلْيُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامربن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوران خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مجھ پر درود پڑھے تو جب تک وہ مجھ پر درود پڑھتا رہے گا فرشتے اس پر درود پڑھتے رہیں گے اب انسان کی مرضی ہے کہ کم پڑھے یا زیادہ؟ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15689]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، وقد توبع
حدیث نمبر: 15690 مسند احمد
شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً" فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15690]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، وقد توبع
حدیث نمبر: 15691 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ أَبِيهِ ،" أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ، فَأَجَازَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے ایک عورت سے دو جوتیوں کے عوض نکاح کر لیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے نکاح کو برقرار رکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15691]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله