قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ التَّيْمِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الْقَبْرُ؟" قَالُوا: قَبْرُ فُلَانَةَ , قَالَ:" أَفَلَا آذَنْتُمُونِي؟" قَالُوا: كُنْتَ نَائِمًا، فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا، فَادْعُونِي لِجَنَائِزِكُمْ" , فَصَفَّ عَلَيْهَا فَصَلَّى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر کسی قبر پر ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: یہ کس کی قبر ہے لوگوں نے بتایا فلاں عورت کی قبر ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں لوگوں نے عرض کیا: کہ آپ سوئے ہوئے تھے آپ کو جگانا ہمیں اچھا معلوم نہیں ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کیا کر و بلکہ جنازے میں بلالیا کر و اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت کی قبر پر صف بندی کر کے نماز جنازہ پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15673]
الحكم: إسناده صحيح