بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 30
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 15692 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا , قَالَ: لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنَا فِي السَّرِيَّةِ يَا بُنَيَّ مَا لَنَا زَادٌ إِلَّا السَّلْفُ مِنَ التَّمْرِ، فَيَقْسِمُهُ قَبْضَةً قَبْضَةً، حَتَّى يَصِيرَ إِلَى تَمْرَةٍ تَمْرَةٍ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتِ وَمَا عَسَى أَنْ تُغْنِيَ التَّمْرَةُ عَنْكُمْ؟ قَالَ: لَا تَقُلْ ذَلِكَ يَا بُنَيَّ، فَبَعْدَ أَنْ فَقَدْنَاهَا، فَاخْتَلَلْنَا إِلَيْهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر بن ربیعہ جو بدری صحابی تھے مروی ہے کہ بعض مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں کسی دستے کے ساتھ روانہ فرماتے تو بیٹا ہمارے پاس سوارئے چند کھجوروں کے اور کوئی چیز نہ ہو تی جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان ایک ایک مٹھی تقسیم کر دیتے یہاں تک کہ ایک ایک کھجور تک نوبت آجاتی عبداللہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اباجان ایک کھجور آپ کے کس کام آتی ہو گی انہوں نے فرمایا کہ بیٹا یوں نہ کہو جب ہمیں ایک کھجور بھی نہ ملی تو ہمیں اس کی قدر آئی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15692]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاختلاط المسعودي
الحكم: إسناده ضعيف لاختلاط المسعودي
حدیث نمبر: 15693 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَيَكُونُ أُمَرَاءُ بَعْدِي يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَيُؤَخِّرُونَهَا، فَصَلُّوهَا مَعَهُمْ، فَإِنْ صَلَّوْهَا لِوَقْتِهَا وَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ، فَلَكُمْ وَلَهُمْ، وَإِنْ أَخَّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا وَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ، فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ، مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ نَكَثَ الْعَهْدَ فَمَاتَ نَاكِثًا لِلْعَهْدِ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ" قُلْتُ: مَنْ أَخْبَرَكَ هَذَا الْخَبَرَ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُخْبِرُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عاصم بن عبیداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد کچھ ایسے امراء بھی آئیں گے جو کبھی وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیآ کر یں گے اور کبھی تاخیر کر دیآ کر یں گے تم ان کے ساتھ نماز پڑھتے رہنا اگر وہ بروقت نماز پڑھیں اور تم بھی ان کے ساتھ شامل ہو تو تمہیں ثواب ملے گا اور انہیں بھی اگر وہ موخر کر دیں اور تم ان کے ساتھ ہی نماز پڑھو تمہیں ثواب ملے گا اور انہیں تاخیر کی سزا ملے گی جو شخص جماعت سے علیحدگی اختیار کر لیتا ہے اور مرجاتا ہے تو جاہلیت کی موت مرتا ہے اور جو شخص وعدہ توڑ دیتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہو گی۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عاصم سے پوچھا: یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی انہوں نے بتایا کہ مجھے یہ حدیث عبداللہ بن عامر نے اپنے والد کے حوالے سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے بتائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15693]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
الحكم: بعضه صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 15694 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّ مُتَابَعَةً بَيْنَهُمَا تَنْفِي الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حج وعمرہ تسلسل سے کیا کر و کیونکہ ان دونوں کے درمیان تسلسل فقر و فاقہ اور گناہوں کو ایسے دور کر دیتا ہے کہ جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15694]
حکم دارالسلام
صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله ، وقد اضطرب فى هذا الحديث، و ابن جريج مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله ، وقد اضطرب فى هذا الحديث، و ابن جريج مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 15695 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , أَنَّ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُسَبِّحُ وَهُوَ عَلَى الرَّاحِلَةِ وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دوران سفر اپنی سواری پر ہی سر کے اشارے سے نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے خواہ سواری کا رخ کسی دوسری طرف ہی ہوتا البتہ فرض نمازوں میں اس طرح نہ کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15695]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1097، م: 701
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1097، م: 701
حدیث نمبر: 15696 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، وَحُسَيْنٌ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ يَعْنِي ابْنَ رَبِيعَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَحُسَيْنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ يَعْنِي ابْنَ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ وَلَيْسَتْ عَلَيْهِ طَاعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، فَإِنْ خَلَعَهَا مِنْ بَعْدِ عَقْدِهَا فِي عُنُقِهِ، لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَيْسَتْ لَهُ حُجَّةٌ , أَلَا لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ لَا تَحِلُّ لَهُ، فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ، إِلَّا مَحْرَمٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ، وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ، وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ" , قَالَ حُسَيْنٌ:" بَعْدَ عَقْدِهِ إِيَّاهَا فِي عُنُقِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس پر کسی کی اطاعت کا ذمہ نہ ہواور مر جائے تو جاہلیت کی موت مرا اور اگر کسی اطاعت کا عہد کرنے بعد اپنے گلے سے اتار پھینکے تو اللہ اسے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہو گی۔ خبردار کوئی مرد کسی غیر محرم کے ساتھ خلوت میں نہ بیٹھے کیونکہ ان کے ساتھ تیسرا شخص شیطان ہوتا ہے الاّ یہ کہ وہ محرم ہو کیونکہ شیطان ایک کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور دو سے دور ہوتا ہے۔ جسے اپنا گناہ ناگوارگزرے اور اپنی نیکی سے خوشی ہو تو وہ مؤمن ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15696]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 15697 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَسْوَدُ: وَرُبَّمَا ذَكَرَ شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّ مُتَابَعَةً بَيْنَهُمَا تَزِيدُ فِي الْعُمُرِ وَالرِّزْقِ، وَتَنْفِيَانِ الذُّنُوبَ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حج وعمرہ تسلسل سے کیا کر و کیونکہ ان دونوں کے درمیان تسلسل فقر وفاقہ اور گناہوں کو ایسے دور کر دیتا ہے کہ جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15697]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: تزيد فى العمر والرزق، وهذا إسناد ضعيف علته عاصم، وقد اضطرب فيه، وشريك سيئ الحفظ
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: تزيد فى العمر والرزق، وهذا إسناد ضعيف علته عاصم، وقد اضطرب فيه، وشريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 15698 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , يُحَدِّثُ , عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ، وَقَالَ مَرَّةً , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّ مُتَابَعَةً بَيْنَهُمَا يَنْفِيَانِ الذُّنُوبَ وَالْفَقْرَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ الْخَبَثَ" , قَالَ سُفْيَانُ: لَيْسَ فِيهِ أَبُوهُ" ويزيد في العمر" مئة مرة.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حج وعمرہ تسلسل سے کیا کر و کیونکہ ان دونوں کے درمیان تسلسل فقر و فاقہ اور گناہوں کو ایسے دور کر دیتا ہے کہ جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15698]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: ويزيد فى العمر، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: ويزيد فى العمر، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 15699 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ , أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ أَحَدُ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمْ الْجِنَازَةَ , فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی جنازے کو دیکھا کر و اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15699]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1308، م:958
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1308، م:958
حدیث نمبر: 15700 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبِي ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، أُمَيَّةَ بْنِ هِنْدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا , أَبِي , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ هِنْدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , قَالَ: انْطَلَقَ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ , وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يُرِيدَانِ الْغُسْلَ، قَالَ: فَانْطَلَقَا يَلْتَمِسَانِ الْخَمَرَ , قَالَ: فَوَضَعَ عَامِرٌ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ مِنْ صُوفٍ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَأَصَبْتُهُ بِعَيْنِي، فَنَزَلَ الْمَاءَ يَغْتَسِلُ، قَالَ: فَسَمِعْتُ لَهُ فِي الْمَاءِ فَرْقَعَةً، فَأَتَيْتُهُ فَنَادَيْتُهُ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُجِبْنِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَجَاءَ يَمْشِي فَخَاضَ الْمَاءَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ، قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرَهُ بيده، ثُمَّ قَال:" اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا" قَالَ: فَقَامَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ، أَوْ مِنْ نَفْسِهِ، أَوْ مِنْ مَالِهِ مَا يُعْجِبُهُ، فَلْيُبَرِّكْهُ، فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عامر بن ربیعہ اور سہل بن حنیف غسل کے ارادے سے نکلے وہ دونوں کسی آڑ کی تلاش میں تھے سیدنا عامر نے اپنے جسم سے اون کا بنا ہوا جبہ اتارا میری نظر ان پر پڑی تو وہ پانی میں اترچکے تھے اور غسل کر رہے تھے اچانک میں نے پانی میں ان کے پکارنے کی آواز سنی میں فورا وہاں پہنچا تو انہیں تین مرتبہ آواز دی لیکن انہوں نے ایک مرتبہ بھی جواب نہ دیا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور اس واقعہ کی خبردی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلتے ہوئے اس جگہ پر تشریف لائے اور پانی میں غوطہ لگایا مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پنڈلی اب تک اپنی نظروں میں پھرتی محسوس ہو تی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے سینے پر اپنا ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اے اللہ اس کی گرمی سردی اور بیماری کو دور فرما وہ اس وقت کھڑے ہو گئے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی جان میں کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے تعجب میں مبتلا کر دے تو اس کے لئے برکت کی دعا کر ے کیونکہ نظر لگ جانا برحق ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15700]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف مع وهم فيه ، أمية بن هند مجهول الحال
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف مع وهم فيه ، أمية بن هند مجهول الحال
حدیث نمبر: 15701 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، فُلَيْحٌ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَسُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُرَيْجٌ: ابْنِ رَبِيعَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامربن ربیعہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک عمرہ دوسرے عمرے تک درمیان کے گناہوں اور لغزشوں کا کفارہ ہوتا ہے اور حج مبرور کی جزاء جنت کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15701]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن