أَبُو النَّضْرِ ، وَحُسَيْنٌ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ يَعْنِي ابْنَ رَبِيعَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَحُسَيْنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ يَعْنِي ابْنَ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ وَلَيْسَتْ عَلَيْهِ طَاعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، فَإِنْ خَلَعَهَا مِنْ بَعْدِ عَقْدِهَا فِي عُنُقِهِ، لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَيْسَتْ لَهُ حُجَّةٌ , أَلَا لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ لَا تَحِلُّ لَهُ، فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ، إِلَّا مَحْرَمٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ، وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ، وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ" , قَالَ حُسَيْنٌ:" بَعْدَ عَقْدِهِ إِيَّاهَا فِي عُنُقِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس پر کسی کی اطاعت کا ذمہ نہ ہواور مر جائے تو جاہلیت کی موت مرا اور اگر کسی اطاعت کا عہد کرنے بعد اپنے گلے سے اتار پھینکے تو اللہ اسے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہو گی۔ خبردار کوئی مرد کسی غیر محرم کے ساتھ خلوت میں نہ بیٹھے کیونکہ ان کے ساتھ تیسرا شخص شیطان ہوتا ہے الاّ یہ کہ وہ محرم ہو کیونکہ شیطان ایک کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور دو سے دور ہوتا ہے۔ جسے اپنا گناہ ناگوارگزرے اور اپنی نیکی سے خوشی ہو تو وہ مؤمن ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15696]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله