مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةَ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ، قَالَ: فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: ذَاكَ لَهُ، فَقَالَ:" أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَ شُعْبَةُ , فَقُلْتُ لَهُ: كَأَنَّهُ أَجَازَ ذَلِكَ؟ قَالَ: كَأَنَّهُ أَجَازَهُ , قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ، فَقَالَ:" أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟" فَقَالَتْ: رَأَيْتُ ذَاكَ، فَقَالَ:" وَأَنَا أَرَى ذَاكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے دو جوتیوں کے عوض نکاح کر لیا وہ عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور اس بات کا ذکر کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم اپنے نفس اور مال کے بدلے میں دو جوتیوں پر راضی ہواس نے کہا جی ہاں شعبہ نے عاصم سے اس کا مطلب پوچھا کہ اس سے اجازت مراد ہے انہوں نے کہا ہاں دوسری مرتبہ ملاقات ہو نے پر عاصم نے اس میں عورت کا جواب یہ نقل کیا کہ میں اسے صحیح سمجھتی ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر میری بھی یہی رائے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15679]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله