بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَاسْمُهَا فَاخِتَةُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 25
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 26907 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٍ ، أَبِي النَّضْرِ ، أَبِي مُرَّةَ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّهَا ذَهَبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، قَالَتْ: فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَ فَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ، وَذَلِكَ ضُحًى، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" , فَقُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِئٍ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ، فُلَانَ بْنَ هُبَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا. أُمَّ هَانِئٍ" , فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غُسْلِهِ، قَامَ، فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے تھے پناہ دیدی اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گرد و غبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپٹے ہوئے تشریف لائے مجھے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فاختہ ام ہانی کو خوش آمدید، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے ہیں پناہ دیدی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جسے تم نے پناہ دیدی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں جسے تم نے امن دیا اسے ہم بھی امن دیتے ہیں پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو حکم دیا انہوں نے پانی رکھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے غسل فرمایا پھر ایک کپڑے میں اچھی طرح لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ فتح مکہ کے دن چاشت کے وقت کی بات ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26907]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 280، م: 336
الحكم: إسناده صحيح، خ: 280، م: 336
حدیث نمبر: 26908 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، أَبِي النَّضْرِ ، أَبَا مُرَّةَ ، أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ
قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ هَذَا الْحَدِيثَ: مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَيْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ , ذَهَبَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26908]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 280، م: 336
الحكم: إسناده صحيح، خ: 280، م: 336
حدیث نمبر: 26909 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَعْدَةَ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ وَهِيَ جَدَّتُهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْفَتْحِ، فَأُتِيَ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَنِي، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُتَطَوِّعَ أَمِيرٌ عَلَى نَفْسِهِ، فَإِنْ شِئْتِ فَصُومِي، وَإِنْ شِئْتِ فَأَفْطِرِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے پانی منگوا کر اسے نوش فرمایا پھر وہ برتن انہیں پکڑا دیا انہوں نے بھی اس کا پانی پی لیا پھر یاد آیا تو کہنے لگیں یا رسول اللہ میں تو روزے سے تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ رمضان کا قضاء روزہ تھا تو اس کی جگہ قضاء کرلو اور اگر نفلی روزہ تھا تو تمہاری مرضی ہے چاہے تو قضاء کرلو اور چاہے تو نہ کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26909]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة جعدة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة جعدة
حدیث نمبر: 26910 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، هَارُونَ ابْنِ بِنْتِ أُمِّ هَانِئٍ أَوْ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ هَارُونَ ابْنِ بِنْتِ أُمِّ هَانِئٍ أَوْ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , شَرِبَ شَرَابًا، فَنَاوَلَهَا لِتَشْرَبَ، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ، فَقَالَ: يَعْنِي " إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ، فَاقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ، وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا، فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِي، وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَقْضِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں بوڑھی اور کمزور ہوگئی ہوں مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو میں بیٹھے بیٹھے کرلیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سو مرتبہ سبحان اللہ کہا کرو کہ یہ اولاد اسماعیل میں سے سو غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا، سو مرتبہ الحمد للہ کہا کرو کہ یہ اللہ کے راستے میں زین کسے ہوئے اور لگام ڈالے ہوئے سو گھوڑوں پر مجاہدین کو سوار کرانے کے برابر ہے اور سو مرتبہ اللہ اکبر کہا کرو، کہ یہ قلادہ باندھے ہوئے ان سو اونٹوں کے برابر ہوگا جو قبول ہوچکے ہوں اور سو مرتبہ لا الہ الا اللہ کہا کرو کہ یہ زمین و آسمان کے درمیان کی فضاء کو بھر دیتا ہے اور اس دن کی کا کوئی عمل اس سے آگے نہیں بڑھ سکے گا الاّ یہ کہ کوئی شخص تمہاری ہی طرح کا عمل کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26910]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطراب سنده و نكارة متنه ، فقد اضطرب فيه سماك بن حرب
الحكم: إسناده ضعيف لاضطراب سنده و نكارة متنه ، فقد اضطرب فيه سماك بن حرب
حدیث نمبر: 26911 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مُوسَى بْنُ خَلَفٍ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ
قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَلَفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ , قَالَ: قَالَتْ: مَرَّ بِي ذَاتَ يَوْمٍ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ أَوْ كَمَا قَالَتْ , فَمُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ وَأَنَا جَالِسَةٌ، قَالَ: " سَبِّحِي اللَّهَ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ، فَإِنَّهَا تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ رَقَبَةٍ تُعْتِقِينَهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَاحْمَدِي اللَّهَ مِائَةَ تَحْمِيدَةٍ، تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ فَرَسٍ مُسْرَجَةٍ مُلْجَمَةٍ، تَحْمِلِينَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَكَبِّرِي اللَّهَ مِائَةَ تَكْبِيرَةٍ، فَإِنَّهَا تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ بَدَنَةٍ مُقَلَّدَةٍ مُتَقَبَّلَةٍ، وَهَلِّلِي اللَّهَ مِائَةَ تَهْلِيلَةٍ قَالَ ابْنُ خَلَفٍ أَحْسِبُهُ قَالَ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَلَا يُرْفَعُ يَوْمَئِذٍ لِأَحَدٍ عَمَلٌ , إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ بِمِثْلِ مَا أَتَيْتِ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں بوڑھی اور کمزور ہوگئی ہوں مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو میں بیٹھے بیٹھے کرلیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سو مرتبہ سبحان اللہ کہا کرو، کہ یہ اولاد اسماعیل میں سے سو غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا سو مرتبہ الحمد للہ کہا کرو کہ یہ اللہ کے راستے میں زین کسے ہوئے اور لگام ڈالے ہوئے سو گھوڑوں پر مجاہدین کو سوار کرانے کے برابر ہے اور سو مرتبہ اللہ اکبر کہا کرو، کہ یہ قلادہ باندھے ہوئے ان سو اونٹوں کے برابر ہوگا جو قبول ہوچکے ہوں اور سو مرتبہ لا الہ الا اللہ کہا کرو کہ یہ زمین و آسمان کے درمیان کی فضاء کو بھردیتا ہے اور اس دن کی کا کوئی عمل اس سے آگے نہیں بڑھ سکے گا الاّ یہ کہ کوئی شخص تمہاری ہی طرح کا عمل کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26911]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى صالح
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى صالح