بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 26910
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 26910
حدیث نمبر: 26910 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، هَارُونَ ابْنِ بِنْتِ أُمِّ هَانِئٍ أَوْ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ هَارُونَ ابْنِ بِنْتِ أُمِّ هَانِئٍ أَوْ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , شَرِبَ شَرَابًا، فَنَاوَلَهَا لِتَشْرَبَ، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ، فَقَالَ: يَعْنِي " إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ، فَاقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ، وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا، فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِي، وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَقْضِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں بوڑھی اور کمزور ہوگئی ہوں مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو میں بیٹھے بیٹھے کرلیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سو مرتبہ سبحان اللہ کہا کرو کہ یہ اولاد اسماعیل میں سے سو غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا، سو مرتبہ الحمد للہ کہا کرو کہ یہ اللہ کے راستے میں زین کسے ہوئے اور لگام ڈالے ہوئے سو گھوڑوں پر مجاہدین کو سوار کرانے کے برابر ہے اور سو مرتبہ اللہ اکبر کہا کرو، کہ یہ قلادہ باندھے ہوئے ان سو اونٹوں کے برابر ہوگا جو قبول ہوچکے ہوں اور سو مرتبہ لا الہ الا اللہ کہا کرو کہ یہ زمین و آسمان کے درمیان کی فضاء کو بھر دیتا ہے اور اس دن کی کا کوئی عمل اس سے آگے نہیں بڑھ سکے گا الاّ یہ کہ کوئی شخص تمہاری ہی طرح کا عمل کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26910]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطراب سنده و نكارة متنه ، فقد اضطرب فيه سماك بن حرب
الحكم: إسناده ضعيف لاضطراب سنده و نكارة متنه ، فقد اضطرب فيه سماك بن حرب
← پچھلی حدیث (26909) باب پر واپس اگلی حدیث (26911) →