بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَاسْمُهَا فَاخِتَةُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 25
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 26887 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ بِأَعْلَى مَكَّةَ، فَأَتَيْتُهُ، فَجَاءَ أَبُو ذَرٍّ بِجَفْنَةٍ فِيهَا مَاءٌ , قَالَتْ: إِنِّي لَأَرَى فِيهَا أَثَرَ الْعَجِينِ. قَالَتْ: فَسَتَرَهُ يَعْنِي أَبَا ذَرٍّ " فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَذَلِكَ فِي الضُّحَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اسی دوران حضرت ابوذر ایک پیالہ لے کر آئے جس میں پانی تھا اور اس پر آٹے کے اثرات لگے ہوئے مجھے نظر آرہے تھے حضرت ابوذر نے آڑ کی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غسل فرمالیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26887]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قصة أبى ذر مع النبى ، والثابت أن فاطمة هي التى كانت تستر النبى ، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الملطب بن عبدالله لم يلق أم هاني
الحكم: حديث صحيح دون قصة أبى ذر مع النبى ، والثابت أن فاطمة هي التى كانت تستر النبى ، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الملطب بن عبدالله لم يلق أم هاني
حدیث نمبر: 26888 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ , قَالَتْ: دَخَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ " اغْتَسَلَ بِمَاءٍ كَانَ فِي صَحْفَةٍ، إِنِّي لَأَرَى فِيهَا أَثَرَ الْعَجِينِ، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي ضُحًى" , قُلْتُ: إِخَالُ خَبَرَ أُمِّ هَانِئٍ هَذَا ثَبَتَ؟ قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: ابْنُ بَكْرٍ: الضُّحَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اسی دوران حضرت ابوذر ایک پیالہ لے کر آئے جس میں پانی تھا اور اس پر آٹے کے اثرات لگے ہوئے مجھے نظر آرہے تھے حضرت ابوذرنے آڑ کی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غسل فرمالیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26888]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عطاء لم يسمع من أم هاني
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عطاء لم يسمع من أم هاني
حدیث نمبر: 26889 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ وَكَانَ نَازِلًا عَلَيْهَا , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ " سُتِرَ عَلَيْهِ، فَاغْتَسَلَ فِي الضُّحَى، فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، لَا يُدْرَى، أَقِيَامُهَا أَطْوَلُ أَمْ سُجُودُهَا؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، حضرت ابوذر نے آڑ کی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غسل فرمالیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا، یہ معلوم نہیں کہ ان کا قیام لمبا تھا یا سجدہ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26889]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الزهري
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الزهري
حدیث نمبر: 26890 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ مَرَّةً، وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بالوں کے چار حصے چار مینڈھیوں کی طرح تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26890]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه ، مجاهد لم يسمع من أم هانئ
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه ، مجاهد لم يسمع من أم هانئ
حدیث نمبر: 26891 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، وَرَوْحٌ ، حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أُمُّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ . ح وَرَوْحٌ قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ , حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ ، قَالَتْ لِي: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ سورة العنكبوت آية 29 , قَالَ: " كَانُوا يَخْذِفُونَ أَهْلَ الطَّرِيقِ وَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ، فَذَاكَ الْمُنْكَرُ الَّذِي كَانُوا يَأْتُونَ" , قَالَ رَوْحٌ: فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ سورة العنكبوت آية 29.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اس ارشاد باری تعالیٰ وتاتو ن فی نادیکم المنکر سے کیا مراد ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قوم لوط کا یہ کام تھا کہ وہ راستے میں چلنے والوں پر کنکریاں اچھالتے تھے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے، یہ ہے وہ ناپسندیدہ کام جو وہ کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26891]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى صالح مولى أم هانئ
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى صالح مولى أم هانئ
حدیث نمبر: 26892 مسند احمد
زيدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي مُرَّةَ ، فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا زيدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ، أَجَرْتُ حَمْوَيْنِ لِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِذْ طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيْهِ رَهْجَةُ الْغُبَارِ فِي مِلْحَفَةٍ مُتَوَشِّحًا بِهَا، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ:" مَرْحَبًا بِفَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَجَرْتُ حَمْوَيْنِ لِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ" , ثُمَّ أَمَرَ فَاطِمَةَ، فَسَكَبَتْ لَهُ مَاءً، فَتَغَسَّلَ بِهِ، فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي الثَّوْبِ مُتَلَبِّبًا بِهِ، وَذَلِكَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ضُحًى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے تھے پناہ دیدی اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گرد و غبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپٹے ہوئے تشریف لائے مجھے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فاختہ ام ہانی کو خوش آمدید کہو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے ہیں پناہ دیدی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جسے تم نے پناہ دیدی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں جسے تم نے امن دیا اسے ہم بھی امن دیتے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو حکم دیا انہوں نے پانی رکھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے غسل فرمایا پھر ایک کپڑے میں اچھی طرح لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ فتح مکہ کے دن چاشت کے وقت کی بات ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26892]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26893 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، شُعْبَةُ ، جَعْدَةَ ، أُمِّ هَانِئٍ ، أَبُو صَالِحٍ
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَدَعَا بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَهَا فَشَرِبَتْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِيرُ نَفْسِهِ، إِنْ شَاءَ صَامَ، وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ" , قَالَ: قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ أَنْتَ مِنْ أُمِّ هَانِئٍ؟ قَالَ: لَا، حَدَّثَنِيهِ أَبُو صَالِحٍ وَأَهْلُنَا، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: كُنْتُ أَسْمَعُ سِمَاكًا , يَقُولُ: حَدَّثَنَا ابْنَ أُمِّ هَانِئٍ، فَأَتَيْتُ أَنَا خَيْرَهُمَا وَأَفْضَلَهُمَا، فسألته، وكان يقال له: جعدة.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے پانی منگوا کر اسے نوش فرمایا پھر وہ برتن انہیں پکڑا دیا انہوں نے بھی اس کا پانی پی لیا پھر یاد آیا تو کہنے لگیں یا رسول اللہ! میں تو روزے سے تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نفلی روزہ رکھنے والا اپنی ذات پر خود امیر ہوتا ہے چاہے تو روزہ برقرار رکھے اور چاہے تو روزہ ختم کردے۔ ابن ام ہانی کہتے ہیں کہ میں ان دونوں میں سے بہترین اور سب سے افضل کے پاس گیا اور ان سے مذکورہ حدیث کی تصدیق کی ان کا نام جعدہ تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26893]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة جعدة، وأبو صالح ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة جعدة، وأبو صالح ضعيف
حدیث نمبر: 26894 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ ، هِلَالٌ يَعْنِي ابْنَ خَبَّابٍ ، يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ بْنِ أُمِّ هَانِئٍ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ يَعْنِي ابْنَ خَبَّابٍ , قَالَ: نَزَلْتُ أَنَا وَمُجَاهِدٌ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ بْنِ أُمِّ هَانِئٍ فَحَدَّثَنَا , عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: " أَنَا أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي هَذَا، وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن خباب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور مجاہد یحییٰ بن جعدہ کے پاس گئے تو انہوں نے حضرت ام ہانی کے حوالے سے ہمیں یہ حدیث سنائی کہ میں رات کے آدھے حصے میں نبی علیہ السلا کی قرأت سن رہی تھی اس وقت میں اپنے اسی گھر کی چھت پر تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خانہ کعبہ کے قریب تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26894]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26895 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: " اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت میمونہ نے ایک ہی برتن سے غسل فرمایا وہ ایک پیالہ تھا جس میں آٹے کے اثرات واضح تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26895]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهو فى الحقيقة حديثان جمعا معا، أما الأول - وهو قصة اغتساله صلى الله عليه و آله وسلم و ميمونة من إناء واحد - فثابت من حديث ميمونة، وأما الثاني - وهو قصة اغتساله صلى الله عليه و آله وسلم... فهو ثابت من حديث ام هاني
الحكم: حديث صحيح، وهو فى الحقيقة حديثان جمعا معا، أما الأول - وهو قصة اغتساله ﷺ و ميمونة من إناء واحد - فثابت من حديث ميمونة، وأما الثاني - وهو قصة اغتساله ﷺ... فهو ثابت من حديث ام هاني
حدیث نمبر: 26896 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَبِي مُرَّةَ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُرَّةَ وَكَانَ شَيْخًا قَدْ أَدْرَكَ أُمَّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَجَرْتُ حَمْوَيْنِ لِي، فَزَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتَلَهُ تَعْنِي عَلِيًّا، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ" , وَصُبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءٌ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبٍ عَلَيْهِ، وَخَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقِهِ، فَصَلَّى الضُّحَى، ثَمَانِي رَكَعَاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے تھے،، پناہ دیدی اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گرد و غبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپٹے ہوئے تشریف لائے مجھے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فاختہ ام ہانی کو خوش آمدید، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اپنے دودیوروں کو جو مشرکین میں سے ہیں پناہ دیدی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جسے تم نے پناہ دیدی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں، جسے تم نے امن دیا اسے ہم بھی امن دیتے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو حکم دیا انہوں نے پانی رکھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے غسل فرمایا پھر ایک کپڑے میں اچھی طرح لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ فتح مکہ کے دن چاشت کے وقت کی بات ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26896]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26897 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، رَجُلٍ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ، جَاءَتْ فَاطِمَةُ حَتَّى قَعَدَتْ عَنْ يَسَارِهِ , وَجَاءَتْ أُمُّ هَانِئٍ، وَقَعَدَتْ عَنْ يَمِينِهِ , وَجَاءَتْ الْوَلِيدَةُ بشراب، فتناوله النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَالَتْ: لَقَدْ كُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ لَهَا:" أَشَيْءٌ تَقْضِينَهُ عَلَيْكِ؟" , قَالَتْ: لَا، قَالَ:" لَا يَضُرُّكِ إِذًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن حضرت فاطمہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب بیٹھ گئیں پھر ام ہانی آکر دائیں جانب بیٹھ گئیں، ایک بچی پانی لے کر آئی نبی علیہ السلا نے اس سے پانی لے کر پی لیا پھر اپنی دائیں جانب بیٹھی ہوئی ام ہانی کو دیدیا، انہوں نے (پانی پینے کے بعد یاد آنے پر) عرض کیا کہ میں تو روزے سے تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم کسی روزے کی قضاء کر رہی تھی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26897]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الاضطراب سنده و نكارة متنه، فقد اضطرب فيه سماك بن حرب
الحكم: إسناده ضعيف الاضطراب سنده و نكارة متنه، فقد اضطرب فيه سماك بن حرب
حدیث نمبر: 26898 مسند احمد
يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ:" لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، حَجَبُوهُ، وَأُتِيَ بِمَاءٍ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ صَلَّى الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، مَا رَآهُ أَحَدٌ بَعْدَهَا صَلَّاهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اسی دوران حضرت ابوذر ایک پیالہ لے کر آئے جس میں پانی تھا اور اس پر آٹے کے اثرات لگے ہوئے مجھے نظر آرہے تھے حضرت ابوذرنے آڑ کی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غسل فرمالیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا، جو اس کے بعد میں نے انہیں کبھی پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26898]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى صالح
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى صالح
حدیث نمبر: 26899 مسند احمد
هَارُونُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَى بَعْدَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَأَمَرَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ قَامَ، فَرَكَعَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ أَوْ رُكُوعُهُ أَوْ سُجُودُهُ؟ كُلُّ ذَلِكَ مِنْهُ مُتَقَارِبٌ، قَالَتْ: فَلَمْ أَرَهُ سَبَّحَهَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، حضرت ابوذرنے آڑ کی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غسل فرمالیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا، اب یہ یاد نہیں کہ اس میں قیام لمبا یا رکوع سجدہ، تقریبا سب ہی برابر تھے اور اس کے بعد یہ اس سے پہلے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی یہ نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26899]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1103، م: 336
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1103، م: 336
حدیث نمبر: 26900 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ ، فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، مَا رَأَتْهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غسل فرمالیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا، میں نے انہیں اس سے زیادہ ہلکی نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا بس وہ رکوع سجود مکمل کر رہے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26900]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1103، م: 336
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1103، م: 336
حدیث نمبر: 26901 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ عَنْ صَلَاةِ الضُّحَى، فَقَالَ: أَدْرَكْتُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ مُتَوَافِرُونَ، فَمَا حَدَّثَنِي أَحَدٌ مِنْهُمْ , أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ ، فَإِنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ يَوْمَ جُمُعَةٍ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غسل فرمایا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26901]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: يوم جمعة، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: حديث صحيح دون قوله: يوم جمعة، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26902 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، أَبِي عُثْمَانَ الْجَحْشِيِّ ، مُوسَى ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْجَحْشِيِّ ، عَنْ مُوسَى أَوْ فُلَانِ - بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّخِذِي غَنَمًا يَا أُمَّ هَانِئٍ، فَإِنَّهَا تَرُوحُ بِخَيْرٍ، وَتَغْدُو بِخَيْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا ام ہانی (چاشت کی نماز کو) غنیمت سمجھو، کیونکہ یہ شام کو بھی خیر لاتی ہے اور دن کو بھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26902]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عثمان، وموسي بن عبدالرحمن، وقد اختلف فيه على معمر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عثمان، وموسي بن عبدالرحمن، وقد اختلف فيه على معمر
حدیث نمبر: 26903 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَبِي مُرَّةَ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ , أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ، ثَمَانِ رَكَعَاتٍ بِمَكَّةَ، يَوْمَ الْفَتْحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے ایک کپڑے میں اچھی طرح لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں اور کپڑے کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال لئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26903]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26904 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُمَّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: لَمْ يُخْبِرْنَا أَحَدٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى إِلَّا أُمَّ هَانِئٍ ، فَإِنَّهَا قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي، " فَاغْتَسَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُخِفُّ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں آئے، غسل فرمایا پھر مختصر رکوع و سجود کے ساتھ آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26904]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1103، م: 336
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1103، م: 336
حدیث نمبر: 26905 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، أَبِي الْعَلَاءِ الْعَبْدِيِّ ، يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ میں رات کے آدھے حصے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرأت سن رہی تھی، اس وقت میں اپنے اسی گھر کی چھت پر تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خانہ کعبہ کے قریب تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26905]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26906 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي مُرَّةَ ، فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ، أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي، فَأَدْخَلْتُهُمَا بَيْتًا، وَأَغْلَقْتُ عَلَيْهِمَا بَابًا، فَجَاءَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَتَفَلَّتَ عَلَيْهِمَا بِالسَّيْفِ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَجِدْهُ، وَوَجَدْتُ فَاطِمَةَ، فَكَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ زَوْجِهَا , قَالَتْ: فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْغُبَارِ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" يَا أُمَّ هَانِئٍ، قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے تھے پناہ دیدی اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گرد و غبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپٹے ہوئے تشریف لائے مجھے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فاختہ ام ہانی کو خوش آمدید میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے ہیں پناہ دیدی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جسے تم نے پناہ دیدی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26906]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح