وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي مُرَّةَ ، فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ، أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي، فَأَدْخَلْتُهُمَا بَيْتًا، وَأَغْلَقْتُ عَلَيْهِمَا بَابًا، فَجَاءَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَتَفَلَّتَ عَلَيْهِمَا بِالسَّيْفِ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَجِدْهُ، وَوَجَدْتُ فَاطِمَةَ، فَكَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ زَوْجِهَا , قَالَتْ: فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْغُبَارِ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" يَا أُمَّ هَانِئٍ، قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے تھے پناہ دیدی اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گرد و غبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپٹے ہوئے تشریف لائے مجھے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فاختہ ام ہانی کو خوش آمدید میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے ہیں پناہ دیدی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جسے تم نے پناہ دیدی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26906]
الحكم: إسناده صحيح