يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ:" لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، حَجَبُوهُ، وَأُتِيَ بِمَاءٍ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ صَلَّى الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، مَا رَآهُ أَحَدٌ بَعْدَهَا صَلَّاهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اسی دوران حضرت ابوذر ایک پیالہ لے کر آئے جس میں پانی تھا اور اس پر آٹے کے اثرات لگے ہوئے مجھے نظر آرہے تھے حضرت ابوذرنے آڑ کی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غسل فرمالیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا، جو اس کے بعد میں نے انہیں کبھی پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26898]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى صالح
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى صالح