مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَعْدَةَ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ وَهِيَ جَدَّتُهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْفَتْحِ، فَأُتِيَ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَنِي، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُتَطَوِّعَ أَمِيرٌ عَلَى نَفْسِهِ، فَإِنْ شِئْتِ فَصُومِي، وَإِنْ شِئْتِ فَأَفْطِرِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے پانی منگوا کر اسے نوش فرمایا پھر وہ برتن انہیں پکڑا دیا انہوں نے بھی اس کا پانی پی لیا پھر یاد آیا تو کہنے لگیں یا رسول اللہ میں تو روزے سے تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ رمضان کا قضاء روزہ تھا تو اس کی جگہ قضاء کرلو اور اگر نفلی روزہ تھا تو تمہاری مرضی ہے چاہے تو قضاء کرلو اور چاہے تو نہ کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26909]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة جعدة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة جعدة