بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَهِيَ أُخْتُ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 19
حدیث نمبر: 26868 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أُمِّهِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّهِ , أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ ب الْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز مغرب میں سورة مرسلات کی تلاوت فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26868]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4429، م: 462
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4429، م: 462
حدیث نمبر: 26869 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أُمُّ الْفَضْلِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّهُ أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ، أُتِيَ بِرُمَّانٍ، فَأَكَلَهُ، وَقَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْفَضْلِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ، أَتَتْهُ بِلَبَنٍ، فَشَرِبَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عباس کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے میدان عرفہ میں روزہ نہ رکھنے کا اظہار اس طرح کیا کہ ان کے پاس ایک انار لایا گیا جو انہوں نے کھالیا اور فرمایا کہ مجھے (میری والدہ) حضرت ام الفضل نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھا تھا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں دودھ لے کر حاضر ہوئی تھیں جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نوش فرمایا لیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26869]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1658، م: 1123
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1658، م: 1123
حدیث نمبر: 26870 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عِكْرِمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ عَبَّاسٍ، وَهِيَ فَوْقَ الْفَطِيمِ، قَالَتْ: فَقَالَ: " لَئِنْ بَلَغَتْ بُنَيَّةُ الْعَبَّاسِ هَذِهِ وَأَنَا حَيٌّ، لَأَتَزَوَّجَنَّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ام حبیب بنت عباس کو دیکھا، اس وقت وہ دودھ پیتی بچی سے کچھ بڑی تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر عباس کی یہ بیٹی میری زندگی میں جوان ہوگئی تو میں اس سے شادی کرلوں گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26870]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حسين بن عبدالله
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 26871 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ ، أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ مُتَوَشِّحًا فِي ثَوْبِ الْمَغْرِبِ، فَقَرَأَ الْمُرْسَلَاتِ، مَا صَلَّى صَلَاةً بَعْدَهَا , حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اپنے گھر میں ایک کپڑے میں لپیٹ کر مغرب کی نماز پڑھائی اور اس میں سورت مرسلات کی تلاوت فرمائی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھا سکے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26871]
حکم دارالسلام
هذا اسناد اخطا فيه موسي بن داود، فقولها: "صلي بنا رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فى بيته متوشحا فى ثوب" انما هو من حديث انس، واما حديث: "قرا رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فى المغرب..." فهو من حديث ام الفضل، وهذا الحديث صحيح
الحكم: هذا اسناد اخطا فيه موسي بن داود، فقولها: "صلي بنا رسول الله ﷺ فى بيته متوشحا فى ثوب" انما هو من حديث انس، واما حديث: "قرا رسول الله ﷺ فى المغرب..." فهو من حديث ام الفضل، وهذا الحديث صحيح
حدیث نمبر: 26872 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي النَّضْرِ ، عُمَيْرًا ، أُمِّ الْفَضْلِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ أُمِّ بَنِي الْعَبَّاسِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ: شَكُّوا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: " أَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ، فَبَعَثَتْ بِلَبَنٍ، فَشَرِبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) عرفہ کے دن لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روزے کے متعلق شک تھا حضرت ام الفضل نے فرمایا میں ابھی تمہیں معلوم کر کے بتاتی ہوں چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھجوایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26872]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1658، م: 1123
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1658، م: 1123
حدیث نمبر: 26873 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، أَبِي الْخَلِيلِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ ، أُمِّ الْفَضْلِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَتْ لِي امْرَأَةٌ، فَتَزَوَّجْتُ عَلَيْهَا امْرَأَةً أُخْرَى، فَزَعَمَتْ امْرَأَتِي الْأُولَى أَنَّهَا أَرْضَعَتْ امْرَأَتِي الْحُدْثَى إِمْلَاجَةً، أَوْ إِمْلَاجَتَيْنِ وَقَالَ مَرَّةً: رَضْعَةً أَوْ رَضْعَتَيْنِ , فَقَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ، وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ" أَوْ قَالَ" الرَّضْعَةُ أَوْ الرَّضْعَتَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے گھر میں تھے کہ ایک دیہاتی آگیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میری ایک بیوی تھی جس کی موجودگی میں، میں نے ایک اور عورت سے نکاح کرلیا لیکن میری پہلی بیوی کا کہنا ہے کہ اس نے میری اس دوسری نئی بیوی کو ایک دو گھونٹ دودھ پلایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک دو گھونٹ سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26873]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1451
الحكم: إسناده صحيح، م: 1451
حدیث نمبر: 26874 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، لَيْثٌ ، وَيُونُسُ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أُمِّ الْفَضْلِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ , وَيُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ وَهُوَ يَشْتَكِي، فَتَمَنَّى الْمَوْتَ، فَقَالَ:" يَا عَبَّاسُ , يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ , لَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتَ مُحْسِنًا تَزْدَادُ إِحْسَانًا إِلَى إِحْسَانِكَ خَيْرٌ لَكَ، وَإِنْ كُنْتَ مُسِيئًا، فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ خَيْرٌ لَكَ، فَلَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ" , قَالَ يُونُسُ:" وَإِنْ كُنْتَ مُسِيئًا، فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ مِنْ إِسَاءَتِكَ خَيْرٌ لَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ حضرت عباس کی عیادت کے لئے تشریف لائے وہ بیمار تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے موت کی تمنا کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عباس! اے پیغمبر اللہ کے چچا! موت کی تمنا نہ کریں اس لئے کہ اگر آپ نیکو کار ہیں تو آپ کی نیکیوں میں اضافہ ہونا آپ کے حق میں بہتر ہے اور اگر آپ گنہگار ہیں اور آپ کو توبہ کی مہلت دی جا رہی ہو تو یہ بھی آپ کے حق میں بہتر ہے اس لئے موت کی تمنانہ کیا کریں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26874]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة هند بنت الحارث
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة هند بنت الحارث
حدیث نمبر: 26875 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، قَابُوسَ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ، أُمِّ الْفَضْلِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ فِي بَيْتِي عُضْوًا مِنْ أَعْضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: فَجَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" خَيْرًا، تَلِدُ فَاطِمَةُ غُلَامًا، فَتَكْفُلِينَهُ بِلَبَنِ ابْنِكِ قُثَمٍ" , قَالَتْ: فَوَلَدَتْ حَسَنًا، فَأُعْطِيتُهُ، فَأَرْضَعْتُهُ حَتَّى تَحَرَّكَ أَوْ فَطَمْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسْتُهُ فِي حِجْرِهِ، فَبَالَ، فَضَرَبْتُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقَالَ:" ارْفُقِي بِابْنِي، رَحِمَكِ اللَّهُ أَوْ أَصْلَحَكِ اللَّهُ أَوْجَعْتِ ابْنِي" , قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اخْلَعْ إِزَارَكَ، وَالْبَسْ ثَوْبًا غَيْرَهُ حَتَّى أَغْسِلَهُ، قَالَ: " إِنَّمَا يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ، وَيُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی عضو میرے گھر میں آگیا ہے، مجھے اس خواب سے بڑی پریشانی لاحق ہوئی میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنا خواب ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے اچھا خواب دیکھا ہے، فاطمہ کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوگا اور تم اپنے بیٹے قثم کے ذریعے آنے والے دودھ سے اس کی بھی پرورش کرو گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت فاطمہ کے یہاں امام حسن پیدا ہوئے اور میں نے ہی انہیں دودھ پلایا یہاں تک کہ وہ چلنے پھرنے لگے اور میں نے ان کا دودھ چھڑادیا۔ پھر میں انہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں بٹھادیا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پیشاب کردیا یہ دیکھ کر میں نے ان کے کندھوں کے درمیان ہلکا سا ہاتھ مارا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تم پر رحم کرے میرے بیٹے پر ترس کھاؤ! تم نے میرے بیٹے کو تکلیف دی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ اپنی یہ چادر اتار دیں اور دوسرے کپڑے پہن لیں تاکہ میں اسے دھودوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دھویا تو بچی کا پیشاب جاتا ہے، بچے کے پیشاب پر صرف چھینٹے مار لئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26875]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سماك بن حرب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سماك بن حرب
حدیث نمبر: 26876 مسند احمد
أَبُو مَعْمَرٍ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِ يَدِهِ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، وَهِيَ أُمُّ وَلَدِ الْعَبَّاسِ أُخْتُ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَجَعَلْتُ أَبْكِي، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكِ؟" , قُلْتُ: خِفْنَا عَلَيْكَ، وَمَا نَدْرِي مَا نَلْقَى مِنَ النَّاسِ بَعْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " أَنْتُمْ الْمُسْتَضْعَفُونَ بَعْدِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الوفات میں ایک دن میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور رونے لگی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھا کر فرمایا کیوں روتی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ ہمیں آپ کے متعلق (دنیا سے رخصتی کا اندیشہ ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کے بعد لوگوں کا ہمارے ساتھ کیسا رویہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے بعد تم لوگ کمزور سمجھے جاؤ گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26876]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: إسناده ضعيف الضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26877 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، لُبَابَةَ أُمِّ الْفَضْلِ ، عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٌ ، عَطَاءٌ ، أَبِي عِيَاضٍ ، لُبَابَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وَبَهْزٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ لُبَابَةَ أُمِّ الْفَضْلِ , أَنَّهَا كَانَتْ تُرْضِعُ الْحَسَنَ أَوْ الْحُسَيْنَ , قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاضْطَجَعَ فِي مَكَانٍ مَرْشُوشٍ، فَوَضَعَهُ عَلَى بَطْنِهِ، فَبَالَ عَلَى بَطْنِهِ، فَرَأَيْتُ الْبَوْلَ يَسِيلُ عَلَى بَطْنِهِ، فَقُمْتُ إِلَى قِرْبَةٍ لِأَصُبَّهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُمَّ الْفَضْلِ، إِنَّ بَوْلَ الْغُلَامِ يُصَبُّ عَلَيْهِ الْمَاءُ، وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ" , وَقَالَ بَهْزٌ:" غُسْلًا" , حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: حُمَيْدٌ , كَانَ عَطَاءٌ يَرْوِيهِ , عَنْ أَبِي عِيَاضٍ , عَنْ لُبَابَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ میں امام حسن یا حسین کو دودھ پلارہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آ کر گیلی جگہ پر بیٹھ گئے میں انہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں بٹھادیا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پیشاب کردیا یہ دیکھ کر میں نے ایک مشکیزہ اٹھانا چاہا تاکہ اس پر پانی بہادوں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دھویا تو بچی کا پیشاب جاتا ہے، بچے کے پیشاب پر صرف چھینٹے مار لئے جاتے ہیں [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26877]
حکم دارالسلام
قوله: "ايا ام الفضل ان بول الغلام.." صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عطاء لم يسمع من أم الفضل. ثم ذكر الامام احمد قول حميد: كان عطاء يرويه عن ابي عياض، ولم يتبين لنا من هو ابو عياض
الحكم: قوله: "ايا ام الفضل ان بول الغلام.." صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عطاء لم يسمع من أم الفضل. ثم ذكر الامام احمد قول حميد: كان عطاء يرويه عن ابي عياض، ولم يتبين لنا من هو ابو عياض
حدیث نمبر: 26878 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أُمِّ الْفَضْلِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي مَنَامِي أَنَّ فِي بَيْتِي أَوْ حُجْرَتِي عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِكَ، قَالَ: " تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غُلَامًا، فَتَكْفُلِينَهُ" , فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ حَسَنًا، فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهَا، فَأَرْضَعَتْهُ بِلَبَنِ قُثَمَ، وَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَزُورُهُ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ، فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ، فَأَصَابَ الْبَوْلُ إِزَارَهُ، فَزَخَخْتُ بِيَدِي عَلَى كَتِفَيْهِ، فَقَالَ:" أَوْجَعْتِ ابْنِي أَصْلَحَكِ اللَّهُ" أَوْ قَالَ:" رَحِمَكِ اللَّهُ" , فَقُلْتُ: أَعْطِنِي إِزَارَكَ أَغْسِلْهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ، وَيُصَبُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی عضو میرے گھر میں آگیا ہے، مجھے اس خواب سے بڑی پریشانی لاحق ہوئی میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنا خواب ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے اچھا خواب دیکھا ہے، فاطمہ کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوگا اور تم اپنے بیٹے قثم کے ذریعے آنے والے دودھ سے اس کی بھی پرورش کرو گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت فاطمہ کے یہاں امام حسن پیدا ہوئے اور میں نے ہی انہیں دودھ پلایا یہاں تک کہ وہ چلنے پھرنے لگے اور میں نے ان کا دودھ چھڑادیا۔ پھر میں انہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں بٹھادیا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پیشاب کردیا یہ دیکھ کر میں نے ان کے کندھوں کے درمیان ہلکا سا ہاتھ مارا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تم پر رحم کرے میرے بیٹے پر ترس کھاؤ! تم نے میرے بیٹے کو تکلیف دی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ اپنی یہ چادر اتاردیں اور دوسرے کپڑے پہن لیں تاکہ میں اسے دھودوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دھویا تو بچی کا پیشاب جاتا ہے، بچے کے پیشاب پر صرف چھینٹے مارلئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26878]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26879 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْخَلِيلِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أُمِّ الْفَضْلِ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، أَنَّ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ، أَوْ الْإِمْلَاجَتَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک دو گھونٹ سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26879]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1451
الحكم: إسناده صحيح، م: 1451
حدیث نمبر: 26880 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أُمِّ الْفَضْلِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ: إِنَّ آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ سُورَةَ الْمُرْسَلَاتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ میں نے سب سے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز مغرب میں سورت مرسلات کی تلاوت فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26880]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4429، م: 462
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4429، م: 462
حدیث نمبر: 26881 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكٍ ، سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، عُمَيْرٍ ، أُمَّ الْفَضْلِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ , حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ , أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، " فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِلَبَنٍ، فَشَرِبَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) عرفہ کے دن لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روزے کے متعلق شک تھا حضرت ام الفضل نے فرمایا میں ابھی تمہیں معلوم کرکے بتاتی ہوں چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھجوایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرمالیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26881]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1988، م: 1123
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1988، م: 1123
حدیث نمبر: 26882 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ ، أُمِّ الْفَضْلِ
26185 حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَذَكَرَتْ مِثْلَ حَدِيثِ عَفَّانَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26882]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سماك بن حرب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سماك بن حرب
حدیث نمبر: 26883 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، سَالِمٍ أَبُو النَّضْرِ ، عُمَيْرٍ ، أُمِّ الْفَضْلِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَالِمٍ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ , أَنَّهُمْ تَمَارَوْا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، " فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحٍ فِيهِ لَبَنٌ، فَشَرِبَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) عرفہ کے دن لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روزے کے متعلق شک تھا حضرت ام الفضل نے فرمایا میں ابھی تمہیں معلوم کر کے بتاتی ہوں چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھجوایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرمالیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26883]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5636، م: 1123
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5636، م: 1123
حدیث نمبر: 26884 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ . ح وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ الْمَعْنَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يُقْرَأُ: (وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا) , فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، وَاللَّهِ لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةَ،" إِنَّهَا لَآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس کی سورت مرسلات پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا واللہ پیارے بیٹے تم نے یہ سورت پڑھ کر مجھے یاددلا دیا ہے کہ یہ آخری سورت ہے جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز مغرب میں تلاوت فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26884]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 763، م: 462
الحكم: إسناده صحيح، خ: 763، م: 462
حدیث نمبر: 26885 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أُمُّ الْفَضْلِ
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّهُ أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ الْفَضْلِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ، أَتَتْهُ بِلَبَنٍ، فَشَرِبَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عباس کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے میدان عرفہ میں روزہ نہ رکھنے کا اظہار اس طرح کیا کہ ان کے پاس ایک انار لایا گیا جو انہوں نے کھالیا اور فرمایا کہ مجھے (میری والدہ) حضرت ام الفضل نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھا تھا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں دودھ لے کر حاضر ہوئی تھیں جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نوش فرما لیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26885]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1658، م: 1123
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1658، م: 1123
حدیث نمبر: 26886 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي الْخَلِيلِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُحَرِّمُ الْمَصَّةُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا" , وَقَالَ عَفَّانُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے گھر میں تھے کہ ایک دیہاتی آگیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! کیا ایک دو گھونٹ دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک دو گھونٹ سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26886]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1451
الحكم: إسناده صحيح، م: 1451