أَبُو مَعْمَرٍ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِ يَدِهِ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، وَهِيَ أُمُّ وَلَدِ الْعَبَّاسِ أُخْتُ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَجَعَلْتُ أَبْكِي، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكِ؟" , قُلْتُ: خِفْنَا عَلَيْكَ، وَمَا نَدْرِي مَا نَلْقَى مِنَ النَّاسِ بَعْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " أَنْتُمْ الْمُسْتَضْعَفُونَ بَعْدِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الوفات میں ایک دن میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور رونے لگی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھا کر فرمایا کیوں روتی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ ہمیں آپ کے متعلق (دنیا سے رخصتی کا اندیشہ ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کے بعد لوگوں کا ہمارے ساتھ کیسا رویہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے بعد تم لوگ کمزور سمجھے جاؤ گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26876]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: إسناده ضعيف الضعف يزيد بن أبى زياد