أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، لَيْثٌ ، وَيُونُسُ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أُمِّ الْفَضْلِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ , وَيُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ وَهُوَ يَشْتَكِي، فَتَمَنَّى الْمَوْتَ، فَقَالَ:" يَا عَبَّاسُ , يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ , لَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتَ مُحْسِنًا تَزْدَادُ إِحْسَانًا إِلَى إِحْسَانِكَ خَيْرٌ لَكَ، وَإِنْ كُنْتَ مُسِيئًا، فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ خَيْرٌ لَكَ، فَلَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ" , قَالَ يُونُسُ:" وَإِنْ كُنْتَ مُسِيئًا، فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ مِنْ إِسَاءَتِكَ خَيْرٌ لَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ حضرت عباس کی عیادت کے لئے تشریف لائے وہ بیمار تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے موت کی تمنا کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عباس! اے پیغمبر اللہ کے چچا! موت کی تمنا نہ کریں اس لئے کہ اگر آپ نیکو کار ہیں تو آپ کی نیکیوں میں اضافہ ہونا آپ کے حق میں بہتر ہے اور اگر آپ گنہگار ہیں اور آپ کو توبہ کی مہلت دی جا رہی ہو تو یہ بھی آپ کے حق میں بہتر ہے اس لئے موت کی تمنانہ کیا کریں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26874]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة هند بنت الحارث
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة هند بنت الحارث