بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 100
صفحہ 2 از 5
حدیث نمبر: 23518 مسند احمد
إِسْحَاقُ بنُ إِبرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، سَلَمَةُ بنُ الْفَضْلِ ، مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ ، يَزِيدَ بنِ يَزِيدَ بنِ جَابرٍ ، الْقَاسِمِ بنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ يَعِيشَ ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ إِبرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ يَزِيدَ بنِ جَابرٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَعِيشَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ إِذَا صَلَّى الصُّبحَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ، كُنَّ كَعَدْلِ أَرْبعِ رِقَاب، وَكُتِب لَهُ بهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِيَ عَنْهُ بهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ بهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ حَرَسًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِذَا قَالَهَا بعْدَ الْمَغْرِب فَمِثْلُ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو میرے یہاں جلوہ افروز ہوئے اور مجھ سے فرمایا اے ابوایوب! کیا میں تمہیں کچھ تعلیم نہ دوں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دے گا دس گناہ معاف فرما دے گا ورنہ اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہوگا اور شام تک یہ کلمات اس کے لئے شیطان سے بچاؤ کی ڈھال بن جائیں گے اور جو شخص شام کے وقت یہ کلمات کہہ لے اس کا بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23518]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن يعيش
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن يعيش
حدیث نمبر: 23519 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، إِسْحَاقُ ابنُ أَخِي أَنَسٍ ، رَافِعِ بنِ إِسْحَاقَ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبرَنَا إِسْحَاقُ ابنُ أَخِي أَنَسٍ ، عَنْ رَافِعِ بنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّهُ قَالَ: مَا نَدْرِي كَيْفَ نَصْنَعُ بكَرَابيسِ مِصْرَ وَقَدْ" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبلَ الْقِبلَتَيْنِ وَنَسْتَدْبرَهُمَا" ، وقَالَ هَمَّامٌ: يَعْنِي الْغَائِطَ وَالْبوْلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے مصر میں ایک مرتبہ فرمایا کہ واللہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہاں کے بیت الخلاء کس طرح استعمال کروں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب پائخانے کے لئے جائے تو قبلہ کی جانب رخ کرے اور نہ پشت کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23519]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23520 مسند احمد
سَعِيدُ بنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي الْخُرَاسَانِيَّ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ عَبدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ ، ابنَ شِهَاب ، عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي الْخُرَاسَانِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ عَبدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابنَ شِهَاب ، يَقُولُ: أَشْهَدُ عَلَى عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَه، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، إِلَّا كَتَب اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قَدْرَ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرِ ذَلِكَ الْغَرْسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک پودا لگاتا ہے تو اس سے جتنا پھل نکلتا ہے اللہ اس شخص کے لئے اتنا ہی اجر لکھ دیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23520]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عبدالعزيز
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عبدالعزيز
حدیث نمبر: 23521 مسند احمد
قُتَيْبةُ بنُ سَعِيدٍ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، أَسْلَمَ أَبي عِمْرَانَ ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا قُتَيْبةُ بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ أَسْلَمَ أَبي عِمْرَانَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بادِرُوا بصَلَاةِ الْمَغْرِب قَبلَ طُلُوعِ النَّجْمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے نماز مغرب ستارے نکلنے سے پہلے پڑھنے میں سبقت کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23521]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23522 مسند احمد
قُتَيْبةُ بنُ سَعِيدٍ ، ابنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، رَاشِدٍ الْيَافِعِيِّ ، حَبيب بنِ أَوْسٍ ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا قُتَيْبةُ بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ رَاشِدٍ الْيَافِعِيِّ ، عَنْ حَبيب بنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَرَّب طَعَامًا، فَلَمْ أَرَ طَعَامًا كَانَ أَعْظَمَ برَكَةً مِنْهُ أَوَّلَ مَا أَكَلْنَا، وَلَا أَقَلَّ برَكَةً فِي آخِرِهِ، قُلْنَا: كَيْفَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لِأَنَّا ذَكَرْنَا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ أَكَلْنَا، ثُمَّ قَعَدَ بعْدُ مَنْ أَكَلَ وَلَمْ يُسَمِّ، فَأَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھانا پیش کیا گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23522]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة راشد اليافعي وحبيب بن أوس، وابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواية قتيبة عنه صالحة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة راشد اليافعي وحبيب بن أوس، وابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواية قتيبة عنه صالحة
حدیث نمبر: 23523 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، عَاصِمٍ ، رَجُلٍ ، أَبو أَيُّوب
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ يَزِيدَ بنَ مُعَاوِيَةَ كَانَ أَمِيرًا عَلَى الْجَيْشِ الَّذِي غَزَا فِيهِ أَبو أَيُّوب، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَقَالَ لَهُ أَبو أَيُّوب : إِذَا مِتُّ فَاقْرَءُوا عَلَى النَّاسِ مِنِّي السَّلَامَ، فَأَخْبرُوهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ باللَّهِ شَيْئًا، جَعَلَهُ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ" ، وَلْيَنْطَلِقُوا بي فَلْيَبعُدُوا بي فِي أَرْضِ الرُّومِ مَا اسْتَطَاعُوا، فَحَدَّثَ النَّاسُ لَمَّا مَاتَ أَبو أَيُّوب، فَاسْتَلْأَمَ النَّاسُ، وَانْطَلَقُوا بجِنَازَتِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اہل مکہ میں سے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ یزید بن معاویہ اس لشکر کا امیر تھا جس میں حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بھی جہاد کے لئے شریک تھے یزید مرض الموت میں ان کی عیادت کے لئے آیا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ جب میں مرجاؤں تو لوگوں کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں بتادینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور مجھے لے کر چلتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو مجھے لے کر ارض روم میں بڑھتے چلے جاؤ جب حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے تو یزید نے لوگوں کو یہ باتیں بتائیں لوگوں نے اسلحہ زیب تن کیا اور ان کا جنازہ لے کر چل پڑے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23523]
حکم دارالسلام
صحيح بمجموع طرقه، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل المكي
الحكم: صحيح بمجموع طرقه، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل المكي
حدیث نمبر: 23524 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرُ بنُ رَاشِدٍ ، الزُّهْرِيُّ ، عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ مَعْمَرُ بنُ رَاشِدٍ ، أَخْبرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْغَائِطَ، فَلَا يَسْتَقْبلَنَّ الْقِبلَةَ، وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّب" ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَرَاحِيضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبلَةِ، فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہوجائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23524]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 144، م: 264
الحكم: إسناده صحيح، خ: 144، م: 264
حدیث نمبر: 23525 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، سِمَاكِ بنِ حَرْب ، جَابرِ بنِ سَمُرَةَ ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سِمَاكِ بنِ حَرْب ، عَنْ جَابرِ بنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ، وَبعَثَ بفَضْلِهِ إِلَيَّ، وَإِنَّهُ بعَثَ يَوْمًا بقَصْعَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا، فِيهَا ثُومٌ، فَسَأَلْتُهُ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: " لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ"، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ مجھے اس کی بو پسند نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پھر جو چیز آپ کو پسند نہیں وہ مجھے بھی پسند نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23525]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2053
الحكم: إسناده صحيح، م: 2053
حدیث نمبر: 23526 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، وَاصِلٌ الرَّقَاشِيُّ ، أَبي سَوْرَةَ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَبي سَوْرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بطَعَامٍ نَالَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَنَالَ، ثُمَّ يَبعَثُ بسَائِرِهِ إِلَى أَبي أَيُّوب وَفِيهِ أَثَرُ يَدِهِ، فَأُتِيَ بطَعَامٍ فِيهِ الثُّومُ، فَلَمْ يَطْعَمْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، وَبعَثَ بهِ إِلَى أَبي أَيُّوب، فَقَالَ لَهُ أَهْلُهُ، فَقَالَ: ادْنُوهُ مِنِّي، فَإِنِّي أَحْتَاجُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا لَمْ يَرَ أَثَرَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، كَفَّ يَدَهُ مِنْهُ، وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبيَّ اللَّهِ، بأَبي وَأُمِّي، هَذَا الطَّعَامُ لَمْ تَأْكُلْ مِنْهُ، آكُلُ مِنْهُ؟ قَالَ: " فِيهِ تِلْكَ الثُّومَةُ فَيَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ جِبرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام"، قَالَ: فَآكُلُ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ فَكُلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے (علیہم السلام)) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23526]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا من أجل واصل بن السائب وأبي سورة، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب
الحكم: إسناده ضعيف جدا من أجل واصل بن السائب وأبي سورة، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب
حدیث نمبر: 23527 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَاصِلٍ الرَّقَاشِيِّ ، أَبي سَوْرَةَ ، أَبي أَيُّوب ، عَطَاءٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ وَاصِلٍ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَبي سَوْرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، وعَنْ عَطَاءٍ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَبذَا الْمُتَخَلِّلُونَ"، قِيلَ: وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ؟ قَالَ:" فِي الْوُضُوءِ وَالطَّعَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور عطار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خلال کرنے والے لوگ کیا خوب ہیں؟ کسی نے پوچھا کہ خلال کرنے والوں سے کون لوگ مراد ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وضو اور کھانے کے دوران خلال کرنے والے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23527]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا من أجل واصل بن السائب وأبي سورة، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب، وهذا الحديث من جهة عطاء مرسل
الحكم: إسناده ضعيف جدا من أجل واصل بن السائب وأبي سورة، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب، وهذا الحديث من جهة عطاء مرسل
حدیث نمبر: 23528 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، يَذْكُرُ فِيهِ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، يَلْتَقِيَانِ، فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبدَأُ بالسَّلَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے کہ ایک دوسرے سے ملیں تو وہ ادھر منہ کرلے اور وہ ادھر اور ان دونوں میں سے بہترین وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23528]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6237 ، م: 2560
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6237 ، م: 2560
حدیث نمبر: 23529 مسند احمد
سُفْيَانُ ، زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، إِبرَاهِيمَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ حُنَيْنٍ ، أَبيهِ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: اخْتَلَفَ الْمِسْوَرُ، وَابنُ عَباسٍ، وَقَالَ مَرَّةً: امْتَرَى فِي الْمُحْرِمِ يَصُب عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ، قَالَ: فَأَرْسَلُوا إِلَى أَبي أَيُّوب : كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ؟ فَقَالَ: هَكَذَا، مُقْبلًا وَمُدْبرًا" ، وَصَفَهُ سُفْيَانُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مسور اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک مرتبہ اختلاف رائے ہوگیا انہیں اس محرم کے بارے میں شک تھا جو اپنے سر پر پانی بہاتا ہے پھر انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنا سر کس طرح دھوتے ہوئے دیکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا اس طرح آگے پیچھے سے راوی نے اس کی کیفیت بیان کر کے دکھائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23529]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1840 ، م: 1205
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1840 ، م: 1205
حدیث نمبر: 23530 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، الْحَجَّاجُ ، الزُّهْرِيِّ ، حَكِيمِ بنِ بشِيرٍ ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بنِ بشِيرٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ الصَّدَقَةُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو اپنے اس رشتہ دار پر کیا جائے جو اس سے پہلو تہی کرتا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23530]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة حجاج، وهو مدلس، ولم يسمع من الزهري، وقول الحجاج : "حكيم بن بشير عن أبى أيوب" خطأ صوابه : الزهري، عن أيوب بن بشير الأنصاري عن الحكيم بن حزام
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة حجاج، وهو مدلس، ولم يسمع من الزهري، وقول الحجاج : "حكيم بن بشير عن أبى أيوب" خطأ صوابه : الزهري، عن أيوب بن بشير الأنصاري عن الحكيم بن حزام
حدیث نمبر: 23531 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ السَّائِبةِ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ سُعَادَ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ السَّائِبةِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ سُعَادَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وجوب غسل خروج منیٰ پر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23531]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن السائبة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن السائبة
حدیث نمبر: 23532 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، عُبيْدَةُ ، إِبرَاهِيمَ ، سَهْمِ بنِ مِنْجَاب ، قَزَعَةَ ، الْقَرْثَعِ ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُبيْدَةُ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ سَهْمِ بنِ مِنْجَاب ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنِ الْقَرْثَعِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: أَدْمَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبعَ رَكَعَاتٍ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ الرَّكَعَاتُ الَّتِي أَرَاكَ قَدْ أَدْمَنْتَهَا؟ قَالَ: " إِنَّ أَبوَاب السَّمَاءِ تُفْتَحُ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى تُصَلَّى الظُّهْرُ، فَأُحِب أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا خَيْرٌ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَقْرَأُ فِيهِنَّ كُلِّهِنَّ؟ قَالَ: قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: قُلْتُ: فَفِيهَا سَلَامٌ فَاصِلٌ؟ قَالَ:" لَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زوال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ چار رکعتیں پڑھتے تھے ایک دن میں نے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ! یہ کیسی نماز ہے جس پر میں آپ کو مداومت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زوال کے وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں کئے جاتے جب تک ظہر کی نماز نہ ادا کرلی جائے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی نیک عمل آسمان پر چڑھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ ان چاروں رکعتوں میں قرأت فرماتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! میں نے پوچھا کہ کیا ان میں دو رکعتوں پر سلام بھی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23532]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبيدة، ولاضطرابه ، وقرع الضبي فيه ضعف
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبيدة، ولاضطرابه ، وقرع الضبي فيه ضعف
حدیث نمبر: 23533 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، سَعْدُ بنُ سَعِيدٍ ، عُمَرَ بنِ ثَابتٍ ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، ثُمَّ أَتْبعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے اور عیدالفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھ لے تو اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23533]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1164
الحكم: إسناده صحيح، م: 1164
حدیث نمبر: 23534 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ ، يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، أَبو أَيُّوب
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبرَنَا مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبو أَيُّوب غَازِيًا، وَعُقْبةُ بنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ، فَأَخَّرَ الْمَغْرِب، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبو أَيُّوب ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبةُ؟ فَقَالَ: شُغِلْنَا، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا بي إِلَّا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَزَالُ أُمَّتِي بخَيْرٍ، أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِب إِلَى أَنْ يَشْتَبكَ النُّجُومُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مرثد بن عبداللہ یزنی (رح) کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں مصر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ جہاد کے سلسلے میں تشریف لائے اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمارا امیر حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ہوا تھا، ایک دن حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کو نماز مغرب میں تاخیر ہوگئی نماز سے فراغت کے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور فرمایا اے عقبہ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز مغرب اسی طرح پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کے نکلنے تک مؤخر نہیں کرے گی؟ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23534]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23535 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ أَبي عَدِيٍّ ، مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، أَبو أَيُّوب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ أَبي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، عَنْ مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبو أَيُّوب ، وَعُقْبةُ بنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23535]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23536 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ فَلَا يَسْتَقْبلْ الْقِبلَةَ وَلَا يَسْتَدْبرْهَا، وَلْيُشَرِّقْ وَلْيُغَرِّب" قَالَ أَبو أَيُّوب: فَلَمَّا أَتَيْنَا الشَّامَ، وَجَدْنَا مَقَاعِدَ تَسْتَقْبلُ الْقِبلَةَ، فَجَعَلْنَا نَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہوجائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23536]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 144، م: 264
الحكم: إسناده صحيح، خ: 144، م: 264
حدیث نمبر: 23537 مسند احمد
يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، شُعْبةَ ، سِمَاكٌ ، جَابرِ بنِ سَمُرَةَ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ ، عَنْ جَابرِ بنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا بعَثَ بفَضْلِهِ إِلَى أَبي أَيُّوب، قَالَ: فَأُتِيَ يَوْمًا بقَصْعَةٍ فِيهَا ثُومٌ، فَبعَثَ بهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ رِيحَهُ" ، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ مجھے اس کی بو پسند نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پھر جو چیز آپ کو پسند نہیں وہ مجھے بھی پسند نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23537]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2053
الحكم: إسناده صحيح، م: 2053