بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 23518
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 23518
حدیث نمبر: 23518 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاقُ بنُ إِبرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، سَلَمَةُ بنُ الْفَضْلِ ، مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ ، يَزِيدَ بنِ يَزِيدَ بنِ جَابرٍ ، الْقَاسِمِ بنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ يَعِيشَ ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ إِبرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ يَزِيدَ بنِ جَابرٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَعِيشَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ إِذَا صَلَّى الصُّبحَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ، كُنَّ كَعَدْلِ أَرْبعِ رِقَاب، وَكُتِب لَهُ بهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِيَ عَنْهُ بهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ بهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ حَرَسًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِذَا قَالَهَا بعْدَ الْمَغْرِب فَمِثْلُ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو میرے یہاں جلوہ افروز ہوئے اور مجھ سے فرمایا اے ابوایوب! کیا میں تمہیں کچھ تعلیم نہ دوں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دے گا دس گناہ معاف فرما دے گا ورنہ اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہوگا اور شام تک یہ کلمات اس کے لئے شیطان سے بچاؤ کی ڈھال بن جائیں گے اور جو شخص شام کے وقت یہ کلمات کہہ لے اس کا بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23518]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن يعيش
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن يعيش
← پچھلی حدیث (23517) باب پر واپس اگلی حدیث (23519) →