أَبو سَعِيدٍ ، ثَابتٌ يَعْنِي أَبا زَيْدٍ ، عَاصِمٌ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ ، أَفْلَحَ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا أَبو سَعِيدٍ مَوْلَى بنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ثَابتٌ يَعْنِي أَبا زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبي أَيُّوب، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ، فَنَزَلَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ، وَأَبو أَيُّوب فِي الْعُلُوِّ، فَانْتَبهَ أَبو أَيُّوب ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ: نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! فَتَحَوَّلَ فَباتُوا فِي جَانِب، فَلَمَّا أَصْبحَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السُّفْلُ أَرْفَقُ بي"، فَقَالَ أَبو أَيُّوب: لَا أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا، فَتَحَوَّلَ أَبو أَيُّوب فِي السُّفْلِ، وَالنَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلُوِّ، فَكَانَ يَصْنَعُ طَعَامَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبعَثُ إِلَيْهِ، فَإِذَا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابعِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَّبعُ أَثَرَ أَصَابعِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْكُلُ مِنْ حَيْثُ أَثَرِ أَصَابعِهِ، فَصَنَعَ ذَاتَ يَوْمٍ طَعَامًا فِيهِ ثُومٌ، فَأَرْسَلَ بهِ إِلَيْهِ، فَسَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَثَرِ أَصَابعِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: لَمْ يَأْكُلْ، فَصَعِدَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْرَهُهُ"، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ، أَوْ مَا كَرِهْتَهُ، وَكَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں فروکش ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیچے کی منزل میں رہتے اور حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اوپر کی منزل میں ایک مرتبہ رات کے وقت انہیں خیال آیا کہ ہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اوپر ہو کر چلتے ہیں چناچہ وہ ساری رات انہوں نے ایک کونے میں گذار دی صبح ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے نچلی منزل زیادہ موافق ہے وہ کہنے لگے کہ میں تو اس چھت پر نہیں چڑھوں گا جس کے نیچے آپ ہوں اس طرح حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نیچے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اوپر چلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے (علیہم السلام)) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23517]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2053
الحكم: إسناده صحيح، م: 2053