بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 100
صفحہ 1 از 5
حدیث نمبر: 23498 مسند احمد
عَلِيُّ بنُ عَاصِمٍ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ عُثْمَانَ بنِ خُثَيْمٍ ، عُثْمَانَ بنِ جُبيْرٍ ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ عُثْمَانَ بنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بنِ جُبيْرٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عِظْنِي وَأَوْجِزْ، فَقَالَ: " إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ، وَلَا تَكَلَّمْ بكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا، وَاجْمَعْ الْإِيَاسَ مِمَّا فِي يَدَيْ النَّاسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی مختصر نصیحت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو اس طرح پڑھو جیسے رخصتی کی نماز پڑھ رہے ہو کوئی ایسی بات منہ سے مت نکالو جس پر کل کو تمہیں معذرت کرنی پڑے اور لوگوں کے پاس جو چیزیں ہیں ان سے آس ہٹا کر ایک طرف رکھ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23498]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن عاصم، وجهالة عثمان بن جبير، ومع جهالته فقد اضطرب فى إسناده
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن عاصم، وجهالة عثمان بن جبير، ومع جهالته فقد اضطرب فى إسناده
حدیث نمبر: 23499 مسند احمد
حَسَنُ بنُ مُوسَى ، عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، حُيَيُّ بنُ عَبدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبلِيِّ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا حَسَنُ بنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا حُيَيُّ بنُ عَبدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبلِيِّ ، قَالَ: كُنَّا فِي الْبحْرِ وَعَلَيْنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ قَيْسٍ الْفَزَارِيُّ، وَمَعَنَا أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ، فَمَرَّ بصَاحِب الْمَقَاسِمِ وَقَدْ أَقَامَ السَّبيَ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَبكِي، فَقَالَ: مَا شَأْنُ هَذِهِ؟ قَالُوا: فَرَّقُوا بيْنَهَا وَبيْنَ وَلَدِهَا , قَالَ: فَأَخَذَ بيَدِ وَلَدِهَا حَتَّى وَضَعَهُ فِي يَدِهَا، فَانْطَلَقَ صَاحِب الْمَقَاسِمِ إِلَى عَبدِ اللَّهِ بنِ قَيْسٍ، فَأَخْبرَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبي أَيُّوب ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ فَرَّقَ بيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا، فَرَّقَ اللَّهُ بيْنَهُ وَبيْنَ الْأَحِبةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعبدالرحمن حبلی (رح) کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ سمندری سفر پر جا رہے تھے ہمارے امیر عبداللہ بن قیس خزاری تھے ہمارے ساتھ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ تقسیم کنندہ کے پاس سے گذرے تو اس نے قیدیوں کو ایک جانب کھڑا کر رکھا تھا جن میں ایک عورت رو رہی تھی حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس عورت کا کیا مسئلہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اسے اس کے بیٹے سے انہوں نے جدا کردیا ہے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اس کے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اس عورت کے ہاتھ میں دے دیا یہ دیکھ کر تقسیم کنندہ شخص عبداللہ بن قیس فزاری کے پاس چلا گیا اور انہیں یہ بات بتائی عبداللہ نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے پاس قاصد بھیج کر دریافت کیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماں اور اس کی اولاد میں تفریق کرتا ہے قیامت کے دن اللہ اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان تفریق کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23499]
حکم دارالسلام
حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة وحيي بن عبدالله، وقد توبعا
الحكم: حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة وحيي بن عبدالله، وقد توبعا
حدیث نمبر: 23500 مسند احمد
يَزِيدُ بنُ عَبدِ رَبهِ ، مُحَمَّدُ بنُ حَرْب ، أَبو سَلَمَةَ ، يَحْيَى بنِ جَابرٍ ، ابنَ أَخِي أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ عَبدِ رَبهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ حَرْب ، حَدَّثَنِي أَبو سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بنِ جَابرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابنَ أَخِي أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ يَذْكُرُ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهَا سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ الْأَمْصَارُ، وَسَيَضْرِبونَ عَلَيْكُمْ فِيهَا بعُوثًا، يُنْكِرُ الرَّجُلُ مِنْكُمْ الْبعْثَ، فَيَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِهِ وَيَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى الْقَبائِلِ يَقُولُ: مَنْ أَكْفِيهِ بعْثَ كَذَا وَكَذَا، أَلَا وَذَلِكَ الْأَجِيرُ إِلَى آخِرِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب تمہارے لئے شہر مفتوح ہوجائیں گے اور تمہارے لشکر جمع کئے جائیں گے لیکن تم میں سے بعض لوگ بغیر اجرت کے لشکر کے ساتھ جانے کو تیار نہ ہوں گے چناچہ ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی اپنی قوم سے نکل کر بھاگے گا اور دوسرے قبیلوں کے سامنے جا کر اپنے آپ کو پیش کر کے کہے گا ہے کوئی شخص کہ میں اتنے پیسوں کے عوض اس کی طرف میدان جہاد میں شامل ہو کر کفایت کروں؟ یاد رکھو! ایسا شخص خون کے آخری قطرے تک مزدور رہے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23500]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن أخي أبى أيوب، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن أخي أبى أيوب، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب
حدیث نمبر: 23501 مسند احمد
عَلِيُّ بنُ بحْرٍ هُو ابنُ برِّيٍّ ، مُحَمَّدُ بنُ حَرْب الْخَوْلَانِيُّ ، أَبو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ ، يَحْيَى بنِ جَابرٍ الطَّائِيِّ ، ابنُ أَخِي أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيّ ، أَبو أَيُّوب
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ بحْرٍ هُو ابنُ برِّيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ حَرْب الْخَوْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ ، عَنْ يَحْيَى بنِ جَابرٍ الطَّائِيِّ ، أَخْبرَنِي ابنُ أَخِي أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيّ أَنَّهُ كَتَب إِلَيْهِ أَبو أَيُّوب يُخْبرُهُ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23501]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن أخي أبى أيوب، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن أخي أبى أيوب، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب
حدیث نمبر: 23502 مسند احمد
الْمُقْرِئُ ، حَيْوَةُ بنُ شُرَيْحٍ ، بقِيَّةُ ، بحِيرُ بنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، أَبو رُهْمٍ السَّمَعِيُّ ، أَبا أَيُّوب
حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي بحِيرُ بنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، حَدَّثَنَا أَبو رُهْمٍ السَّمَعِيُّ ، أَنَّ أَبا أَيُّوب حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ جَاءَ يَعْبدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بهِ شَيْئًا، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ، وَيَجْتَنِب الْكَبائِرَ، فَإِنَّ لَهُ الْجَنَّةَ"، وَسَأَلُوهُ مَا الْكَبائِرُ، قَالَ:" الْإِشْرَاكُ باللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ، وَفِرَارٌ يَوِمَ الزَّحْفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں آئے کہ اللہ کی عبادت کرتا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو تو اس کے لئے جنت ہے لوگوں نے پوچھا کہ " کبیرہ گناہوں " سے کیا مراد ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا کسی مسلمان کو قتل کرنا اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23502]
حکم دارالسلام
حسن بمجموع طرقه من أجل بقية بن الوليد، وقد توبع
الحكم: حسن بمجموع طرقه من أجل بقية بن الوليد، وقد توبع
حدیث نمبر: 23503 مسند احمد
الْحَكَمُ بنُ نَافِعٍ ، إِسْمَاعِيلُ بنُ عَيَّاشٍ ، ضَمْضَمِ بنِ زُرْعَةَ ، شُرَيْحِ بنِ عُبيْدٍ ، أَبا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ ، أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بنِ زُرْعَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بنِ عُبيْدٍ ، أَنَّ أَبا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ كُلَّ صَلَاةٍ تَحُطُّ مَا بيْنَ يَدَيْهَا مِنْ خَطِيئَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر نماز ان گناہوں کو مٹا دیتی ہے جو اس سے پہلے ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23503]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23504 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابنُ لَهِيعَةَ ، ابنُ هُبيْرَةَ ، أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبلِيِّ ، أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابنُ هُبيْرَةَ ، عَنْ أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبلِيِّ ، أَنَّ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بقَصْعَةٍ فِيهَا بصَلٌ، فَقَالَ:" كُلُوا"، وَأَبى أَنْ يَأْكُلَ، وَقَالَ: " إِنِّي لَسْتُ كَمِثْلِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں پیاز تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اسے تم کھالو اور خود کھانے سے انکار کردیا اور فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23504]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 23505 مسند احمد
حَسَنُ بنُ مُوسَى ، عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، أَبو قَبيلٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ نَاشِرٍ ، أَبا رُهْمٍ ، أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبو قَبيلٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ نَاشِرٍ مِنْ بنِي سَرِيعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا رُهْمٍ قَاصَّ أَهْلِ الشَّامِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ: " إِنَّ رَبكُمْ عَزَّ وَجَلَّ خَيَّرَنِي بيْنَ سَبعِينَ أَلْفًا يَدْخَلُونَ الْجَنَّةَ بغَيْرِ حِسَاب، وَبيْنَ الْخَبيئَةِ عِنْدَهُ لِأُمَّتِي"، فَقَالَ لَهُ بعْضُ أَصْحَابهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُخَبئُ ذَلِكَ رَبكَ عَزَّ وَجَلَّ؟ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ خَرَجَ وَهُوَ يُكَبرُ، فَقَالَ:" إِنَّ رَبي عَزَّ وَجَلَّ زَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبعِينَ أَلْفًا وَالْخَبيئَةُ عِنْدَهُ" ، قَالَ أَبو رُهْمٍ: يَا أَبا أَيُّوب، وَمَا تَظُنُّ خَبيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَكَلَهُ النَّاسُ بأَفْوَاهِهِمْ، فَقَالُوا: وَمَا أَنْتَ وَخَبيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! فَقَالَ أَبو أَيُّوب: دَعُوا الرَّجُلَ عَنْكُمْ أُخْبرْكُمْ عَنْ خَبيئَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَظُنُّ، بلْ كَالْمُسْتَيْقِنِ: إِنَّ خَبيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ: رَب مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُهُ وَرَسُولُهُ، مُصَدِّقًا لِسَانَهُ قَلْبهُ، أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو فرمایا تمہارے رب نے مجھے دو باتوں کا اختیار دیا ہے یا تو ستر ہزار آدمی جنت میں بلا حساب کتاب مکمل معافی کے ساتھی داخل ہوجائیں یا میں اپنی امت کے متعلق اپنا حق محفوظ کرلوں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اللہ کے یہاں کسی بات کو محفوظ کیا جاسکتا ہے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اندرچلے گئے تھوڑی دیر بعد " اللہ اکبر " کہتے ہوئے باہر آئے اور فرمایا میرے پروردگار نے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار کا وعدہ فرمایا ہے اور اس کے یہاں میرا حق بھی محفوظ ہے۔ راوی حدیث ابورہم نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوایوب آپ کے خیال میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہ محفوظ حق کیا ہے؟ یہ سن کر لوگوں نے انہیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور کہنے لگے کہ تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس محفوظ حق سے کیا غرض ہے؟ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے چھوڑ دو میں تمہیں اپنے اندازے بلکہ یقین کے مطابق بتاتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہ محفوظ حق یہ ہے کہ پروردگار! جو شخص بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو تو اسے جنت میں داخلہ عطا فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23505]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وعبدالله بن ناشر لا يعرف
الحكم: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وعبدالله بن ناشر لا يعرف
حدیث نمبر: 23506 مسند احمد
زَكَرِيَّا بنُ عَدِيٍّ ، بقِيَّةُ ، بحِيرٍ ، خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، أَبا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بنُ عَدِيٍّ ، أَخْبرَنَا بقِيَّةُ ، عَنْ بحِيرٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، أَنَّ أَبا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَبدَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بهِ شَيْئًا، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَآتَى الزَّكَاةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، وَاجْتَنَب الْكَبائِرَ، فَلَهُ الْجَنَّةُ"، أَوْ" دَخَلَ الْجَنَّةَ"، فَسَأَلَهُ مَا الْكَبائِرُ، فَقَالَ:" الشِّرْكُ باللَّهِ، وَقَتْلُ نَفْسٍ مُسْلِمَةٍ، وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں آئے کہ اللہ کی عبادت کرتا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو تو اس کے لئے جنت ہے لوگوں نے پوچھا کہ " کبیرہ گناہوں " سے کیا مراد ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا کسی مسلمان کو قتل کرنا اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23506]
حکم دارالسلام
حسن بمجموع طرقه من أجل بقية بن الوليد، وقد توبع
الحكم: حسن بمجموع طرقه من أجل بقية بن الوليد، وقد توبع
حدیث نمبر: 23507 مسند احمد
زَكَرِيَّا بنُ عَدِيٍّ ، بقِيَّةُ ، بحِيرِ بنِ سَعْدٍ ، خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، جُبيْرِ بنِ نُفَيْرٍ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بنُ عَدِيٍّ ، أَخْبرَنَا بقِيَّةُ ، عَنْ بحِيرِ بنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبيْرِ بنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اقْتَرَعَتْ الْأَنْصَارُ أَيُّهُمْ يُؤْوِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَعَهُمْ أَبو أَيُّوب، فَآوَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ أُهْدِيَ لِأَبي أَيُّوب، قَالَ: فَدَخَلَ أَبو أَيُّوب يَوْمًا، فَإِذَا قَصْعَةٌ فِيهَا بصَلٌ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: أَرْسَلَ بهِ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَاطَّلَعَ أَبو أَيُّوب إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مَنَعَكَ مِنْ هَذِهِ الْقَصْعَةِ؟ قَالَ: " رَأَيْتُ فِيهَا بصَلًا"، قَالَ: وَلَا يَحِلُّ لَنَا الْبصَلُ؟ قَالَ:" بلَى، فَكُلُوهُ، وَلَكِنْ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ" ، وَقَالَ حَيْوَةُ:" إِنَّهُ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار نے اس بات پر قرعہ اندازی کی کہ ان میں سے کس کے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فروکش ہوں گے وہ قرعہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے نام نکل آیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے گھرلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے (علیہم السلام)) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23507]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده ضعيف من أجل بقية بن الوليد
الحكم: حديث صحيح، وإسناده ضعيف من أجل بقية بن الوليد
حدیث نمبر: 23508 مسند احمد
حَيْوَةُ بنُ شُرَيْحٍ ، بقِيَّةُ ، بحِيرُ بنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، الْمِقْدَامِ بنِ مَعْدِي كَرِب ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، عَبدُ الْجَبارِ بنُ مُحَمَّدٍ ، بقِيَّةُ ، بحِيرٍ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي بحِيرُ بنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بنِ مَعْدِي كَرِب ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبارَكْ لَكُمْ فِيهِ" . حَدَّثَنَا عَبدُ الْجَبارِ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا بقِيَّةُ ، عَنْ بحِيرٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنا غلہ ناپ کر لین دین کیا کرو تمہارے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23508]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا سند حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بقية
الحكم: حديث صحيح، وهذا سند حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بقية
حدیث نمبر: 23509 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَبدُ الْجَبارِ بنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا بقِيَّةُ عَنْ بحِيرٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23509]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا سند حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بقية
الحكم: حديث صحيح، وهذا سند حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بقية
حدیث نمبر: 23510 مسند احمد
هَيْثَمٌ يَعْنِي ابنَ خَارِجَةَ ، ابنُ عَيَّاشٍ ، بحِيرِ بنِ سَعْدٍ ، خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، الْمِقْدَامِ بنِ مَعْدِي كَرِب ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ يَعْنِي ابنَ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا ابنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بحِيرِ بنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بنِ مَعْدِي كَرِب ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبارَكْ لَكُمْ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنا غلہ ناپ کر لین دین کیا کرو تمہارے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23510]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23511 مسند احمد
يَحْيَى بنُ إِسْحَاقَ ، ابنُ لَهِيعَةَ ، عُبيْدِ اللَّهِ بنِ أَبي جَعْفَرٍ ، عَمْرِو بنِ الْأَسْوَدِ ، أَبي أَيُّوب ، عَلِيُّ بنُ إِسْحَاقَ ، عَبدُ اللَّهِ ، ابنُ لَهِيعَةَ ، عُبيْدِ اللَّهِ بنِ أَبي جَعْفَرٍ ، عَمْرِو بنِ الْأَسْوَدِ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبرَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ أَبي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبرَنَا عَبدُ اللَّهِ ، أَخْبرَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ أَبي جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ , عَنْ عَمْرِو بنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاضِي حِينَ يَقْضِي، وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاسِمِ حِينَ يَقْسِمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قاضی جب فیصلہ کرتا ہے تو اللہ کی تائید اس کے ساتھ ہوتی ہے اور قاسم جب کوئی چیز تقسیم کرتا ہے تو اللہ کی تائید اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23511]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، تفرد به ابن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف، تفرد به ابن لهيعة
حدیث نمبر: 23512 مسند احمد
يَحْيَى بنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، عَمْرُو بنُ الْحَارِثِ ، بكَيْرٍ ، أَبي إِسْحَاقَ ، أَبا أَيُّوب
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، أَخْبرَنِي عَمْرُو بنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بكَيْرٍ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ مَوْلَى بنِي هَاشِمٍ حَدَثَهُ , أَنَّهُمْ ذَكَرُوا يَوْمًا مَا يُنْتَبذُ فِيهِ، فَتَنَازَعُوا فِي الْقَرْعِ، فَمَرَّ بهِمْ أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ إِنْسَانًا، فَقَالَ: يَا أَبا أَيُّوب ، الْقَرْعُ يُنْتَبذُ فِيهِ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ كُلِّ مُزَفَّتٍ يُنْتَبذُ فِيهِ" ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَرْعَ، فَرَدَّ أَبا أَيُّوب مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابواسحق کہتے ہیں کہ ایک دن لوگ اس بات کا مذاکرہ کرنے لگے کہ کن برتنوں میں نبیذ بنائی جاسکتی ہے دوران گفتگو کدو کے برتن میں نبیذ سے متعلق اختلاف رائے ہوگیا اتفاقاً وہاں سے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا تو انہوں نے ایک آدمی بھیج کر اس کے متعلق دریافت کیا کہ اے ابوایوب! کدو کے برتن میں نبیذ کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہر اس برتن میں نبیذ پینے یا بنانے سے منع فرمایا ہے جسے لک لگی ہوئی ہو سائل نے کدو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے پھر یہی جواب دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23512]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف رشدين، وقد توبع ، وأبو إسحاق مجهول
الحكم: إسناده ضعيف لضعف رشدين، وقد توبع ، وأبو إسحاق مجهول
حدیث نمبر: 23513 مسند احمد
يَحْيَى ، رِشْدِينُ ، حُيَيُّ بنُ عَبدِ اللَّهِ ، أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبلِيِّ ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بنُ عَبدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ يَحْصَب، عَنْ أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبلِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ فَرَّقَ بيْنَ الْوَلَدِ وَوَالِدِهِ فِي الْبيْعِ، فَرَّقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بيْنَهُ وَبيْنَ أَحِبتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص والد اور اس کی اولاد میں تفریق کرتا ہے قیامت کے دن اللہ اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان تفریق کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23513]
حکم دارالسلام
حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين وحيي بن عبدالله
الحكم: حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين وحيي بن عبدالله
حدیث نمبر: 23514 مسند احمد
إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقَ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، رَافِعِ بنِ إِسْحَاقَ ، أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، أَخْبرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، عَنْ رَافِعِ بنِ إِسْحَاقَ مَوْلَى أَبي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ وَهُوَ بمِصْرَ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بهَذِهِ الْكَرَابيسِ يَعْنِي الْكُنُفَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ذَهَب أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ، أَوْ الْبوْلِ، فَلَا يَسْتَقْبلْ الْقِبلَةَ وَلَا يَسْتَدْبرْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے مصر میں ایک مرتبہ فرمایا کہ واللہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہاں کے بیت الخلاء کس طرح استعمال کروں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب پائخانے کے لئے جائے تو قبلہ کی جانب رخ کرے اور نہ پشت کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23514]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 144، م: 264
الحكم: إسناده صحيح، خ: 144، م: 264
حدیث نمبر: 23515 مسند احمد
إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدُ بنُ قَيْسٍ ، أَبي صِرْمَةَ ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بنُ قَيْسٍ قَاصُّ عُمَرَ بنِ عَبدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبي صِرْمَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ: قَدْ كُنْتُ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَوْلَا أَنَّكُمْ تُذْنِبونَ، لَخَلَقَ اللَّهُ تَبارَكَ وَتَعَالَى قَوْمًا يُذْنِبونَ، فَيَغْفِرُ لَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی جو اب تک میں نے تم سے چھپا رکھی تھی اور وہ یہ کہ اگر تم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پیدا فرما دے گا جو گناہ کریں گے اور اللہ انہیں بخشے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23515]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2748
الحكم: إسناده صحيح، م: 2748
حدیث نمبر: 23516 مسند احمد
أَبو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، عَبادُ بنُ الْعَوَّامِ ، سَعِيدِ بنِ إِيَاسٍ ، أَبي الْوَرْدِ ، أَبي مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا أَبو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، أَخْبرَنَا عَبادُ بنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سَعِيدِ بنِ إِيَاسٍ ، عَنْ أَبي الْوَرْدِ ، عَنْ أَبي مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ لِي:" يَا أَبا أَيُّوب، أَلَا أُعَلِّمُكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: بلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " مَا مِنْ عَبدٍ يَقُولُ حِينَ يُصْبحُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، إِلَّا كَتَب اللَّهُ لَهُ بهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَإِلَّا كُنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَدْلَ عَشْرِ رِقَاب مُحَرَّرِينَ، وَإِلَّا كَانَ فِي جُنَّةٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَا قَالَهَا حِينَ يُمْسِي إِلَّا كَذَلِكَ" ، قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبي مُحَمَّدٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهَا مِنْ أَبي أَيُّوب؟ قَالَ: آللَّهِ لَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبي أَيُّوب يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو میرے یہاں جلوہ افروز ہوئے اور مجھ سے فرمایا اے ابوایوب! کیا میں تمہیں کچھ تعلیم نہ دوں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دے گا دس گناہ معاف فرما دے گا ورنہ اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہوگا اور شام تک یہ کلمات اس کے لئے شیطان سے بچاؤ کی ڈھال بن جائیں گے اور جو شخص شام کے وقت یہ کلمات کہہ لے اس کا بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23516]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: تحت حديث: 6404، تعليقا، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الورد، وأبي محمد الحضرمي
الحكم: حديث صحيح، خ: تحت حديث: 6404، تعليقا، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الورد، وأبي محمد الحضرمي
حدیث نمبر: 23517 مسند احمد
أَبو سَعِيدٍ ، ثَابتٌ يَعْنِي أَبا زَيْدٍ ، عَاصِمٌ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ ، أَفْلَحَ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا أَبو سَعِيدٍ مَوْلَى بنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ثَابتٌ يَعْنِي أَبا زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبي أَيُّوب، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ، فَنَزَلَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ، وَأَبو أَيُّوب فِي الْعُلُوِّ، فَانْتَبهَ أَبو أَيُّوب ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ: نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! فَتَحَوَّلَ فَباتُوا فِي جَانِب، فَلَمَّا أَصْبحَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السُّفْلُ أَرْفَقُ بي"، فَقَالَ أَبو أَيُّوب: لَا أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا، فَتَحَوَّلَ أَبو أَيُّوب فِي السُّفْلِ، وَالنَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلُوِّ، فَكَانَ يَصْنَعُ طَعَامَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبعَثُ إِلَيْهِ، فَإِذَا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابعِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَّبعُ أَثَرَ أَصَابعِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْكُلُ مِنْ حَيْثُ أَثَرِ أَصَابعِهِ، فَصَنَعَ ذَاتَ يَوْمٍ طَعَامًا فِيهِ ثُومٌ، فَأَرْسَلَ بهِ إِلَيْهِ، فَسَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَثَرِ أَصَابعِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: لَمْ يَأْكُلْ، فَصَعِدَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْرَهُهُ"، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ، أَوْ مَا كَرِهْتَهُ، وَكَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں فروکش ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیچے کی منزل میں رہتے اور حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اوپر کی منزل میں ایک مرتبہ رات کے وقت انہیں خیال آیا کہ ہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اوپر ہو کر چلتے ہیں چناچہ وہ ساری رات انہوں نے ایک کونے میں گذار دی صبح ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے نچلی منزل زیادہ موافق ہے وہ کہنے لگے کہ میں تو اس چھت پر نہیں چڑھوں گا جس کے نیچے آپ ہوں اس طرح حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نیچے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اوپر چلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے (علیہم السلام)) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23517]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2053
الحكم: إسناده صحيح، م: 2053