زَكَرِيَّا بنُ عَدِيٍّ ، بقِيَّةُ ، بحِيرِ بنِ سَعْدٍ ، خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، جُبيْرِ بنِ نُفَيْرٍ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بنُ عَدِيٍّ ، أَخْبرَنَا بقِيَّةُ ، عَنْ بحِيرِ بنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبيْرِ بنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اقْتَرَعَتْ الْأَنْصَارُ أَيُّهُمْ يُؤْوِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَعَهُمْ أَبو أَيُّوب، فَآوَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ أُهْدِيَ لِأَبي أَيُّوب، قَالَ: فَدَخَلَ أَبو أَيُّوب يَوْمًا، فَإِذَا قَصْعَةٌ فِيهَا بصَلٌ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: أَرْسَلَ بهِ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَاطَّلَعَ أَبو أَيُّوب إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مَنَعَكَ مِنْ هَذِهِ الْقَصْعَةِ؟ قَالَ: " رَأَيْتُ فِيهَا بصَلًا"، قَالَ: وَلَا يَحِلُّ لَنَا الْبصَلُ؟ قَالَ:" بلَى، فَكُلُوهُ، وَلَكِنْ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ" ، وَقَالَ حَيْوَةُ:" إِنَّهُ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار نے اس بات پر قرعہ اندازی کی کہ ان میں سے کس کے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فروکش ہوں گے وہ قرعہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے نام نکل آیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے گھرلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے (علیہم السلام)) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23507]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده ضعيف من أجل بقية بن الوليد
الحكم: حديث صحيح، وإسناده ضعيف من أجل بقية بن الوليد