عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، عَاصِمٍ ، رَجُلٍ ، أَبو أَيُّوب
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ يَزِيدَ بنَ مُعَاوِيَةَ كَانَ أَمِيرًا عَلَى الْجَيْشِ الَّذِي غَزَا فِيهِ أَبو أَيُّوب، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَقَالَ لَهُ أَبو أَيُّوب : إِذَا مِتُّ فَاقْرَءُوا عَلَى النَّاسِ مِنِّي السَّلَامَ، فَأَخْبرُوهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ باللَّهِ شَيْئًا، جَعَلَهُ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ" ، وَلْيَنْطَلِقُوا بي فَلْيَبعُدُوا بي فِي أَرْضِ الرُّومِ مَا اسْتَطَاعُوا، فَحَدَّثَ النَّاسُ لَمَّا مَاتَ أَبو أَيُّوب، فَاسْتَلْأَمَ النَّاسُ، وَانْطَلَقُوا بجِنَازَتِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اہل مکہ میں سے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ یزید بن معاویہ اس لشکر کا امیر تھا جس میں حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بھی جہاد کے لئے شریک تھے یزید مرض الموت میں ان کی عیادت کے لئے آیا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ جب میں مرجاؤں تو لوگوں کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں بتادینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور مجھے لے کر چلتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو مجھے لے کر ارض روم میں بڑھتے چلے جاؤ جب حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے تو یزید نے لوگوں کو یہ باتیں بتائیں لوگوں نے اسلحہ زیب تن کیا اور ان کا جنازہ لے کر چل پڑے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23523]
حکم دارالسلام
صحيح بمجموع طرقه، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل المكي
الحكم: صحيح بمجموع طرقه، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل المكي