بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 130
صفحہ 6 از 7
حدیث نمبر: 22766 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ يَسَارٍ السُّلَمِيَّ ، عُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ ، جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ يَسَارٍ السُّلَمِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْغَلُ، فَإِذَا قَدِمَ رَجُلٌ مُهَاجِرٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنَّا يُعَلِّمُهُ الْقُرْآنَ، فَدَفَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، وَكَانَ مَعِي فِي الْبَيْتِ أُعَشِّيهِ عَشَاءَ أَهْلِ الْبَيْتِ، فَكُنْتُ أُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ، فَانْصَرَفَ انْصِرَافَةً إِلَى أَهْلِهِ، فَرَأَى أَنَّ عَلَيْهِ حَقًّا، فَأَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا لَمْ أَرَ أَجْوَدَ مِنْهَا عُودًا، وَلَا أَحْسَنَ مِنْهَا عِطْفًا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيهَا؟ قَالَ: " جَمْرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْكَ تَقَلَّدْتَهَا أَوْ تَعَلَّقْتَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مصروفیات زیادہ تھیں اس لئے مہاجرین میں سے کوئی آدمی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے قرآن سکھانے کے لئے ہم میں سے کسی کے حوالے کردیتے تھے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو میرے حوالے کردیا وہ میرے ساتھ میرے گھر میں رہتا تھا اور میں اسے اپنے گھر والوں کے کھانے میں شریک کرتا تھا اور قرآن بھی پڑھاتا تھا جب وہ اپنے گھر واپس جانے لگا تو اس کے دل میں خیال آیا کہ اس پر میرا کچھ حق بنتا ہے چنانچہ اس نے مجھے ایک کمان ہدیئے میں پیش کی جس سے عمدہ لکڑی اور نرمی میں اس سے بہترین کمان میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے متعلق پوچھا یا رسول اللہ! آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے کندھوں کے درمیان ایک انگارہ ہے جو تم نے لٹکا لیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22766]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22767 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ ، حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْيَزَنِيُّ ، عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْيَزَنِيُّ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة يونس آية 64 , فَقَالَ عُبَادَةُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ أَمْرٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي، تِلْكَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُؤْمِنُ أَوْ تُرَى لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس ارشادباری تعالیٰ " لہم البشری فی الحیاۃ الدنیا وفی الآخرہ " میں بشری کی تفسیر پوچھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو خود کوئی مسلمان دیکھے یا کوئی دوسرا مسلمان اس کے متعلق دیکھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22767]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن إن صح سماع حميد من عبادة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن إن صح سماع حميد من عبادة
حدیث نمبر: 22768 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَقِيلِ بْنِ مُدْرِكٍ السُّلَمِيِّ ، لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ مُدْرِكٍ السُّلَمِيِّ ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ عَبَدَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَآتَى الزَّكَاةَ، وَسَمِعَ وَأَطَاعَ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُدْخِلُهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ، وَلَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ، وَمَنْ عَبَدَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَآتَى الزَّكَاةَ، وَسَمِعَ وَعَصَى، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ أَمْرِهِ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ رَحِمَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی عبادت اس طرح کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے " نماز قائم کرے " زکوٰۃ ادا کرے " بات سنے اور مانے " تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے داخل ہونے کا اختیار دیدے گا اور جو شخص اللہ کی عبادت تو اس طرح کرے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائے نماز بھی قائم کرے اور زکوٰۃ بھی ادا کرے اور بات بھی سنے لیکن نافرمانی کرے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے متعلق اختیار ہے کہ اگر چاہے تو اس پر رحم کر دے اور چاہے تو اسے سزا دے دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22768]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22769 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عُبَادَةُ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ عُبَادَةُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنَّكَ لَمْ تَكُنْ مَعَنَا إِذْ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّا" بَايَعْنَاهُ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ، وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَعَلَى أَنْ نَقُولَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا نَخَافَ لَوْمَةَ لَائِمٍ فِيهِ، وَعَلَى أَنْ نَنْصُرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ عَلَيْنَا يَثْرِبَ، فَنَمْنَعُهُ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَنْفُسَنَا وَأَزْوَاجَنَا وَأَبْنَاءَنَا وَلَنَا الْجَنَّةُ، فَهَذِهِ بَيْعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بَايَعْنَا عَلَيْهَا، فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ، وَمَنْ أَوْفَى بِمَا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ، وَفَّى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِمَا بَايَعَ عَلَيْهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَدْ أَفْسَدَ عَلَيَّ الشَّامَ وَأَهْلَهُ، فَإِمَّا تُكِنُّ إِلَيْكَ عُبَادَةَ، وَإِمَّا أُخَلِّي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الشَّامِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ رَحِّلْ عُبَادَةَ حَتَّى تُرْجِعَهُ إِلَى دَارِهِ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَبَعَثَ بِعُبَادَةَ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَدَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ فِي الدَّارِ، وَلَيْسَ فِي الدَّارِ غَيْرُ رَجُلٍ مِنَ السَّابِقِينَ أَوْ مِنَ التَّابِعِينَ، قَدْ أَدْرَكَ الْقَوْمَ، فَلَمْ يَفْجَأْ عُثْمَانُ إِلَّا وَهُوَ قَاعِدٌ فِي جَنْبِ الدَّارِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، مَا لَنَا وَلَكَ؟ فَقَامَ عُبَادَةُ بَيْنَ ظَهْرَيْ النَّاسِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّهُ سَيَلِي أُمُورَكُمْ بَعْدِي رِجَالٌ يُعَرِّفُونَكُمْ مَا تُنْكِرُونَ، وَيُنْكِرُونَ عَلَيْكُمْ مَا تَعْرِفُونَ، فَلَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَلَا تَعْتَلُّوا بِرَبِّكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسماعیل بن عبید انصاری رحمہ اللہ ایک حدیث ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! آپ اس وقت ہمارے ساتھ نہ تھے جب ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کر رہے تھے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے " کشادگی اور تنگی میں خرچ کرنے " امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے " اللہ کے متعلق صحیح بات کہنے اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہ کرنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر ان کی مدد کرنے اور اپنی جان اور بیوی بچوں کی طرح ان کی حفاظت کرنے کی شرط پر بیعت کی تھی جس کے عوض ہم سے جنت کا وعدہ ہوا یہ ہے وہ بیعت جو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کی ہے اب جو اسے توڑتا ہے وہ اپنا نقصان کرتا ہے اور جو اس بیعت کی پاسداری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا۔ ادھرامیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی وجہ سے شام اور اہل شام میرے خلاف شورش برپا کر رہے ہیں اب یا تو آپ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلا لیجئے یا پھر میں ان کے اور شام کے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس خط کے جواب میں انہیں لکھا کہ آپ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کو مکمل احترام کے ساتھ سوار کروا کر مدینہ منورہ میں ان کے گھر کی طرف روانہ کردو چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں روانہ کردیا اور وہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر چلے گئے جہاں سوائے ایک آدمی کے اگلے پچھلے لوگوں میں سے کوئی نہ تھا اس نے جماعت صحابہ رضی اللہ عنہ کو پایا تھا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب آئے تو وہ مکان کے ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا عبادہ! تمہارا اور ہمارا کیا معاملہ ہے؟ وہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد ایسے لوگ تمہارے حکمران ہوں گے جو تمہیں ایسے کاموں کی پہچان کرائیں گے جنہیں تم ناپسند سمجھتے ہوگے اور ایسے کاموں کو ناپسند کریں گے جنہیں تم اچھا سمجھتے ہو گے سو جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی اطاعت ضروری نہیں اور تم اپنے رب سے نہ ہٹنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22769]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن عياش ضعيف فى روايته عن غير أهل بلده، وهذا منها، وإسماعيل بن عبيد مجهول، وقد اختلف فى إسناده
الحكم: إسناده ضعيف، ابن عياش ضعيف فى روايته عن غير أهل بلده، وهذا منها، وإسماعيل بن عبيد مجهول، وقد اختلف فى إسناده
حدیث نمبر: 22770 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، يَزِيدَ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي عَطَاءٍ يَزيدُ بْنُ عَطَاءُ السَّكْسَكِيِّ ، مُعَاذِ بْنِ سَعْدٍ السَّكْسَكِيِّ ، جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي عَطَاءٍ يَزيدُ بْنُ عَطَاءُ السَّكْسَكِيِّ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ سَعْدٍ السَّكْسَكِيِّ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ يَذْكُرُ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مُدَّةُ أُمَّتِكَ مِنَ الرَّخَاءِ؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، حَتَّى سَأَلَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ كُلُّ ذَلِكَ لَا يُجِيبُهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟" فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي، مُدَّةُ أُمَّتِي مِنَ الرَّخَاءِ مِائَةُ سَنَةٍ" , قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلْ لِذَلِكَ مِنْ أَمَارَةٍ أَوْ عَلَامَةٍ أَوْ آيَةٍ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، الْخَسْفُ وَالرَّجْفُ وَإِرْسَالُ الشَّيَاطِينِ الْمُجَلِّبَةِ عَلَى النَّاسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! آپ کی امت پر آسانی کی مدت کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا اس نے تین مرتبہ یہی سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ بھی جواب نہ دیا یہاں تک کہ وہ واپس چلا گیا تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ سائل کہاں ہے؟ لوگ اسے بلا لائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا تم نے مجھ سے ایسا سوال پوچھا ہے جو میری امت میں سے کسی نے نہیں پوچھا میری امت پر آسانی کی مدت سو سال ہے دو تین مرتبہ یہ بات دہرائی اس نے پوچھا کہ اس کے ختم ہونے کی کوئی علامت یا نشانی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! زمین میں دھنسنا زلزلے آنا اور شیاطین کو لوگوں پر مسلط کر دینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22770]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى عطاء السكسكي ومعاذ بن سعد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى عطاء السكسكي ومعاذ بن سعد
حدیث نمبر: 22771 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ الصَّنْعَانِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ ، رَوْحِ بْنِ زِنْبَاعٍ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ زِنْبَاعٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: فَقَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً أَصْحَابُهُ، وَكَانُوا إِذَا نَزَلُوا أَنْزَلُوهُ أَوْسَطَهُمْ، فَفَزِعُوا وَظَنُّوا أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اخْتَارَ لَهُ أَصْحَابًا غَيْرَهُمْ، فَإِذَا هُمْ بِخَيَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرُوا حِينَ رَأَوْهُ، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَشْفَقْنَا أَنْ يَكُونَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اخْتَارَ لَكَ أَصْحَابًا غَيْرَنَا! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا، بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَيْقَظَنِي، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ نَبِيًّا وَلَا رَسُولًا إِلَّا وَقَدْ سَأَلَنِي مَسْأَلَةً أَعْطَيْتُهَا إِيَّاهُ، فَاسْأَلْ يَا مُحَمَّدُ تُعْطَ، فَقُلْتُ: مَسْأَلَتِي شَفَاعَةٌ لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الشَّفَاعَةُ؟ قَالَ:" أَقُولُ: يَا رَبِّ، شَفَاعَتِي الَّتِي اخْتَبَأْتُ عِنْدَكَ، فَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: نَعَمْ , فَيُخْرِجُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَقِيَّةَ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ، فَيَنْبِذُهُمْ فِي الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ ملے حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معمول تھا کہ جب کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے درمیان رکھتے تھے لوگ گھبرا گئے اور یہ گمان کرنے لگے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ہمارے علاوہ کچھ اور ساتھیوں کا انتخاب فرما لیا ہے ابھی وہ انہی تفکرات میں غلطاں و بیچاں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آتے ہوئے دکھائی دیئے لوگوں نے خوشی سے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور عرض کیا یا رسول اللہ! ہم تو ڈر ہی گئے تھے کہ کہیں اللہ نے ہمارے علاوہ آپ کے لئے کچھ اور ساتھیوں کا انتخاب نہ فرما لیا ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسی بات نہیں ہے بلکہ تم دنیا و آخرت میں میرے ساتھی ہو بات در اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جگا کر فرمایا اے محمد! میں نے جو بھی نبی یا رسول بھیجا اس نے ایک سوال کیا جو میں نے پورا کردیا اس لئے اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ بھی مجھ سے مانگئے آپ کو بھی دیا جائے گا میں نے عرض کیا کہ میری درخواست یہ ہے کہ قیامت کے دن میری امت کے حق میں مجھے سفارش کی اجازت دی جائے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! اس شفاعت کا ثمرہ کیا ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں بارگاہ الٰہی میں عرض کروں گا کہ پروردگار! میری وہ سفارش جو میں نے آپ کے پاس محفوظ کروائی تھی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہاں! پھر میرا پروردگار میری بقیہ امت کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22771]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، راشد بن داود لين الحديث
الحكم: إسناده ضعيف، راشد بن داود لين الحديث
حدیث نمبر: 22772 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْقَصَّابُ الْبَصْرِيُّ ، يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْقَصَّابُ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الدَّارُ حَرَمٌ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْكَ حَرَمَكَ فَاقْتُلْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان کا گھر اس کا حرم ہوتا ہے جو آدمی تمہارے حرم میں (بلا اجازت) گھسنے کی کو شس کرے اسے مار ڈالو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22772]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف محمد بن كثير، ومحمد بن سيرين لم يسمع من عبادة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن كثير، ومحمد بن سيرين لم يسمع من عبادة
حدیث نمبر: 22773 مسند احمد
سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ
سَمِعْت سَمِعْت سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يُسَمِّي النُّقَبَاءَ، فَسَمَّى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ مِنْهُمْ، قَالَ: سُفْيَانُ: " عُبَادَةُ عَقَبِيٌّ أُحُدِيٌّ بَدْرِيٌّ شَجَرِيٌّ، وَهُوَ نَقِيبٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے نقباء کے نام شمار کروائے تو ان میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا اور کہا کہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ بیعت عقبہ عزوہ بدر، احد اور بیعت رضوان میں شریک ہوئے اور وہ نقباء میں سے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22773]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، رجاله ثقات
الحكم: إسناده صحيح، رجاله ثقات
حدیث نمبر: 22774 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى ، حَرْبِ بْنِ شَدَّادٍ ، يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ حَرْبِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، يَقُولُ:" بَلَغَنِي أَنَّ النُّقَبَاءَ اثْنَا عَشَرَ، فَسَمَّى عُبَادَةَ فِيهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا ہے نقباء کی تعداد بارہ ہے اور انہوں نے ان میں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا نام بھی بیان کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22774]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 22775 مسند احمد
يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ إِسْحَاقَ
قَرَأْتُ عَلَى يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: " عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ أَصْرَمَ بْنِ فِهْرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ غَنْم بْنِ عُوْف بْنِ الخَزْرَج، فِي الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَقَبَةِ الْأُولَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بن قیس بن اصرام بن فہر بن ثعلبہ بن غنم بن عوف بن خزرج، ان بارہ افراد میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عقبہ کی بیعت اولیٰ میں شرکت کی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22775]
حکم دارالسلام
رجاله موثقون
الحكم: رجاله موثقون
حدیث نمبر: 22776 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ أَبُو زَكَرِيَّا الْبَّصْرِيُّ الْحَرْبِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي سَلَّامٍ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيّ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى
حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ أَبُو زَكَرِيَّا الْبَّصْرِيُّ الْحَرْبِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيّ , أَنَّهُ جَلَسَ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , وَأَبِي الدَّرْدَاءِ , وَالْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيِّ، فَتَذَاكَرُوا حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لِعُبَادَةَ: يَا عُبَادَةُ، كَلِمَاتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ كَذَا فِي شَأْنِ الْأَخْمَاسِ، فَقَالَ عُبَادَةُ: قَالَ إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي غَزْوَتِهِ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمُقَسَّمِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَنَاوَلَ وَبَرَةً بَيْنَ أُنْمُلَتَيْهِ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ مِنْ غَنَائِمِكُمْ، وَإِنَّهُ لَيْسَ لِي فِيهَا إِلَّا نَصِيبِي مَعَكُمْ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ، فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ، وَأَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ وَأَصْغَرَ، لَا تَغُلُّوا فَإِنَّ الْغُلُولَ نَارٌ وَعَارٌ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَجَاهِدُوا النَّاسَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ، وَلَا تُبَالُوا فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ عَظِيمٌ، يُنَجِّي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ ابو درداء اور حارث بن معاویہ رضی اللہ عنہ بیٹھے احادیث کا مذاکرہ کر رہے تھے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے عبادہ! فلاں فلاں غزوے میں خمس کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا باتیں کہی تھیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو اس غزوے میں مال غنیمت کے ایک اونٹ کو بطور سترہ سامنے کھڑے کر کے نماز پڑھائی جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر اس کی اون اپنی دو انگلیوں کے درمیان لے کر فرمایا یہ تمہارا مال غنیمت ہے اور خمس کے علاوہ اس میں میرا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا تمہارا ہے اور خمس بھی تم ہی پر لوٹا دیا جاتا ہے لہٰذا اگر کسی کے پاس سوئی دھاگہ بھی ہو تو وہ لے آئے یا اس سے بڑی اور چھوٹی چیز ہو تو وہ بھی واپس کر دے اور مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، کیونکہ خیانت دنیا و آخرت میں خائن کے لئے آگ اور شرمندگی کا سبب ہوگی اور لوگوں سے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا کرو کہ خواہ وہ قریب ہوں یا دور اور اللہ کے حوالے سے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کیا کرو اور سفر و حضر میں اللہ کی حدود قائم رکھا کرو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو کیونکہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو غم اور پریشانی سے نجات عطا فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22776]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر بن عبدالله، والمقدام بن معدي كرب خطأ، صوابه: مقدام الرهاوي، فهو مجهول
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر بن عبدالله، والمقدام بن معدي كرب خطأ، صوابه: مقدام الرهاوي، فهو مجهول
حدیث نمبر: 22777 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَّامٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، نَحْوَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22777]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد ابن يوسف
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد ابن يوسف
حدیث نمبر: 22778 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَةَ قَالَ إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ وَالْبِئْرَ جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءَ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءُ الْبَهِيمَةُ مِنْ الْأَنْعَامِ وَغَيْرِهَا وَالْجُبَارُ هُوَ الْهَدَرُ الَّذِي لَا يُغَرَّمُ وَقَضَى فِي الرِّكَازِ الْخُمُسَ وَقَضَى أَنَّ تَمْرَ النَّخْلِ لِمَنْ أَبَّرَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَقَضَى أَنَّ مَالَ الْمَمْلُوكِ لِمَنْ بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَقَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرَ وَقَضَى بِالشُّفْعَةِ بَيْنَ الشُّرَكَاءِ فِي الْأَرَضِينَ وَالدُّورِ وَقَضَى لِحَمَلِ بْنِ مَالِكٍ الْهُذَلِيِّ بِمِيرَاثِهِ عَنْ امْرَأَتِهِ الَّتِي قَتَلَتْهَا الْأُخْرَى وَقَضَى فِي الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ قَالَ فَوَرِثَهَا بَعْلُهَا وَبَنُوهَا قَالَ وَكَانَ لَهُ مِنْ امْرَأَتَيْهِ كِلْتَيْهِمَا وَلَدٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُغْرِمَ مَنْ لَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا مِنْ الْكُهَّانِ قَالَ وَقَضَى فِي الرَّحَبَةِ تَكُونُ بَيْنَ الطَّرِيقِ ثُمَّ يُرِيدُ أَهْلُهَا الْبُنْيَانَ فِيهَا فَقَضَى أَنْ يُتْرَكَ لِلطَّرِيقِ فِيهَا سَبْعُ أَذْرُعٍ قَالَ وَكَانَ تِلْكَ الطَّرِيقُ سُمِّيَ الْمِيتَاءُ وَقَضَى فِي النَّخْلَةِ أَوْ النَّخْلَتَيْنِ أَوْ الثَّلَاثِ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ فَقَضَى أَنَّ لِكُلِّ نَخْلَةٍ مِنْ أُولَئِكَ مَبْلَغَ جَرِيدَتِهَا حَيِّزٌ لَهَا وَقَضَى فِي شُرْبِ النَّخْلِ مِنْ السَّيْلِ أَنَّ الْأَعْلَى يَشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَيُتْرَكُ الْمَاءُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَاءُ إِلَى الْأَسْفَلِ الَّذِي يَلِيهِ فَكَذَلِكَ يَنْقَضِي حَوَائِطُ أَوْ يَفْنَى الْمَاءُ وَقَضَى أَنَّ الْمَرْأَةَ لَا تُعْطِي مِنْ مَالِهَا شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا وَقَضَى لِلْجَدَّتَيْنِ مِنْ الْمِيرَاثِ بِالسُّدُسِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوَاءِ وَقَضَى أَنَّ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا فِي مَمْلُوكٍ فَعَلَيْهِ جَوَازُ عِتْقِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ وَقَضَى أَنْ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ وَقَضَى أَنَّهُ لَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ وَقَضَى بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي النَّخْلِ لَا يُمْنَعُ نَفْعُ بِئْرٍ وَقَضَى بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ فَضْلُ الْكَلَإِ وَقَضَى فِي دِيَةِ الْكُبْرَى الْمُغَلَّظَةِ ثَلَاثِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً وَقَضَى فِي دِيَةِ الصُّغْرَى ثَلَاثِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَعِشْرِينَ ابْنَةَ مَخَاضٍ وَعِشْرِينَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورًا ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَانَتْ الدَّرَاهِمُ فَقَوَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِبِلَ الْمَدِينَةِ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ حِسَابُ أُوقِيَّةٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتْ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَلْفَيْنِ حِسَابَ أُوقِيَّتَيْنِ لِكُلِّ بَعِيرٍ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتْ الدَّرَاهِمُ فَأَتَمَّهَا عُمَرُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ قَالَ فَزَادَ ثُلُثُ الدِّيَةِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَثُلُثٌ آخَرُ فِي البَلَدِ الْحَرَامِ قَالَ فَتَمَّتْ دِيَةُ الْحَرَمَيْنِ عِشْرِينَ أَلْفًا قَالَ فَكَانَ يُقَالُ يُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ مِنْ مَاشِيَتِهِمْ لَا يُكَلَّفُونَ الْوَرِقَ وَلَا الذَّهَبَ وَيُؤْخَذُ مِنْ كُلِّ قَوْمٍ مَا لَهُمْ قِيمَةُ الْعَدْلِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فیصلوں میں یہ فیصلہ بھی شامل ہے کہ کان کنی کرتے ہوئے مارے جانے والے کا خون ضائع گیا کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں گیا اور جانور کے زخم سے مرجانے والے کا خون رائیگاں گیا نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دفینے کے متعلق بیت المال کے لئے خمس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ درخت کی کھجوریں پیوندکاری کرنے والے کی ملکیت میں ہوں گی الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگا دے۔
نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ غلام کا مال اسے بیچنے والے آقا کی ملکیت تصور ہوگا۔
نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ بچہ بستر والے کا ہوگا اور بدکار کیلئے پتھر ہوں گے۔
نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ زمینوں اور مکانات میں شریک افراد کو حق شفعہ حاصل ہے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ حمل بن مالک رضی اللہ عنہ کو ان کی اس بیوی کی وراثت ملے گی جسے دوسری عورت نے مار دیا تھا۔
نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ پیٹ کے بچے کو مار ڈالنے کی صورت میں قاتل پر ایک غلام یا باندی واجب ہوگی جس کا وارث مقتولہ عورت کا شوہر اور بیٹے ہوں گے حمل بن مالک رضی اللہ عنہ کے یہاں دونوں بیویوں سے اولاد تھی تو قاتلہ کے باپ نے جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا "" نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اس بچے کا تاوان کیونکر ادا کروں جو چیخا نہ چلایا "" جس نے کچھ کھایا اور نہ پیا ایسی چیزوں کو تو چھوڑ دیا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ کاہنوں میں سے ہے (جو مسجع اور مقفی عبارتیں بولتا ہے)
نیز راستے کے درمیان وہ کشادہ حصہ جہاں مالکان اپنی تعمیر بڑھانا چاہتے ہیں اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا کہ اس میں سے راستے کے لئے سات گز (چوڑائی) کی جگہ چھوڑ دی جائے اور اس راستے کو "" میتاء "" کا نام دیا جائے۔ (مردہ بےآباد ') نیز ایک دو یا تین باغات میں جن کے حقوق میں لوگوں کا اختلاف ہوگیا یہ فیصلہ فرمایا کہ ان میں سے ہر باغ یا درخت کی شاخیں جہاں تک پہنچتی ہیں وہ جگہ اس باغ میں شامل ہوگئی۔
نیز باغات میں پانی کی نالیوں کے متعلق یہ فیصلہ کہ پہلے والا اپنی زمین کو دوسرے والے سے پہلے سیراب کرے گا اور پانی کو ٹخنوں تک آنے دے گا اس کے بعد اپنے ساتھ والے کے لئے پانی چھوڑ دے گا یہاں تک کہ اسی طرح باغات ختم ہوجائیں یا پانی ختم ہوجائے۔
نیز یہ فیصلہ فرمایا کہ عورت اپنے مال میں سے کوئی چیز اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو نہ دے۔
نیز یہ فیصلہ فرمایا کہ دو وادیوں کو میراث میں ایک چھٹا حصہ برابر برابر تقسیم ہوگا۔
نیز یہ فیصلہ فرمایا کہ جو شخص کسی غلام میں اپنے حصے کو ختم کر کے اسے آزاد کرتا ہے اور اس کے پاس مال ہو تو اس پر ضروری ہے کہ اسے مکمل آزادی دلائے۔
نیز یہ فیصلہ فرمایا کہ کوئی شخص ضرر اٹھائے اور نہ کسی کو ضرر پہنچائے۔
نیز یہ فیصلہ فرمایا کہ ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں ہے۔
نیز یہ فیصلہ فرمایا کہ شہر والے کھجور کے باغات میں کنوئیں کا جمع شدہ پانی لگانے سے نہیں روکے جائیں گے۔
نیز یہ فیصلہ فرمایا کہ دیہات والوں کو زائد پانی لینے سے نہیں روکا جائے گا کہ اس کے ذریعے زائد گھاس سے روکا جا سکے۔
نیز یہ فیصلہ فرمایا کہ دیت کبری مغلظہ تیس بنت لبون تیس حقوق اور چالیس حاملہ اونٹنیوں پر مشتمل ہوگی۔
نیزیہ فیصلہ فرمایا کہ دیت صغری تیس بنت لبون تیس حقوق اور بیس بنت مخاض اور بیس مذکر ابن مخاض پر مشتمل ہوگی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعدجب اونٹ مہنگے ہوگئے اور درہم ایک معمولی چیز بن کر رہ گئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دیت کے اونٹوں کی قیمت چھ ہزار درہم مقرر فرمادی جس میں ہر اونٹ کے بدلے میں ایک اوقیہ چاندی کا حساب رکھا گیا تھا کچھ عرصے بعد اونٹ مزید مہنگے ہوگئے اور دراہم مزید کم حیثیت ہوگئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہر اونٹ کے دو اوقیے حساب سے دو ہزار درہم کا اضافہ کرایا کچھ عرصے بعد مزید مہنگے ہوگئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہر اونٹ کے تین اوقیے کے حساب سے دیت کی رقم مکمل بارہ ہزار درہم مقرر کردی جس میں ایک تہائی دیت کا اضافہ اشہر حرم میں ہوا اور دوسری تہائی کا اضافہ بلد حرام (مکہ مکرمہ) میں ہوا اور یوں حرمین کی دیت مکمل بیس ہزار درہم ہوگئی اور کہا جاتا تھا کہ دیہاتیوں سے دیت میں جانور بھی لئے جاسکتے ہیں انہیں سونے اور چاندی کا مکلف نہ بنایا جائے اسی طرح ہر قوم سے اس کی قیمت کے برابر مالیت کی چیزیں لی جاسکتی ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22778]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الفضيل ابن سليمان لين الحديث، وإسحاق بن يحيى مجهول الحال، ثم روايته عن جده منطقعة ، والحديث لكثير منه شواهد صحيحة
الحكم: إسناده ضعيف، الفضيل ابن سليمان لين الحديث، وإسحاق بن يحيى مجهول الحال، ثم روايته عن جده منطقعة ، والحديث لكثير منه شواهد صحيحة
حدیث نمبر: 22779 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَةَ قَالَ إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ بِطُولِهِ غَيْرَ أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا فِي الْإِسْنَادِ فَقَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ عُبَادَةَ قَالَ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الصَّلْتُ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ عُبَادَةَ أَنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، راجع ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 22780 مسند احمد
شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، الْحَسَنُ ، عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ: قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ : نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ سورة النساء آية 15 , إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ،" وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، أَعْرَضَ عَنَّا، وَأَعْرَضْنَا عَنْهُ، وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ، وَكَرَبَ لِذَلِكَ، فَلَمَّا رُفِعَ عَنْهُ الْوَحْيُ، قَالَ:" خُذُوا عَنِّي" , قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا، الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ الرَّجْمُ" , قَالَ الْحَسَنُ: فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْحَدِيثِ هُوَ أَمْ لَا , قَالَ:" فَإِنْ شَهِدُوا أَنَّهُمَا وُجِدَا فِي لِحَافٍ لَا يَشْهَدُونَ عَلَى جِمَاعٍ خَالَطَهَا بِهِ جَلْدُ مِائَةٍ، وَجُزَّتْ رُءُوسُهُمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی وہ عورتیں جو بےحیائی کا کام کریں۔۔۔۔۔۔۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسی عورتوں کے ساتھ یہی سلوک کیا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما تھے ہم بھی ان کے گرد بیٹھے ہوئے تھے (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جب بھی وحی نازل ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توجہ ہماری طرف سے ہٹ جاتی اور ہم بھی ہٹ جاتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رخ انور کا رنگ بدل جاتا اور سخت تکلیف ہوتی تھی، بہر حال! جب وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھ سے یہ بات حاصل کرلو مجھ سے یہ بات حاصل کرلو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے یہ راستہ متعین کردیا ہے کہ اگر کوئی کنوارہ لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اگر شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22780]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1690 دون قوله فى آخره: فإن شهدوا ..... ، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عبادة ابن الصامت
الحكم: حديث صحيح، م: 1690 دون قوله فى آخره: فإن شهدوا ..... ، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عبادة ابن الصامت
حدیث نمبر: 22781 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ الْبَزَّارُ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عِيسَى ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عِيسَى ، قَالَ: وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الرَّقَّةِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةٌ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ، حَتَّى يُطْلِقَهُ الْحَقُّ أَوْ يُوبِقَهُ، وَمَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ أَجْذَمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بھی دس آدمیوں کا امیر رہا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوں گے جنہیں اس کے عدل کے علاوہ کوئی چیز نہیں کھول سکے گی اور جس شخص نے قرآن کریم سیکھا پھر اسے بھول گیا تو وہ اللہ سے کوڑھی بن کر ملے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22781]
حکم دارالسلام
صحيح الغيره دون قوله: ومن تعلم القرآن ..... وهذا إسناد ضعيف يزيد بن أبى زياد ضعيف، وعيسي مجهول، وروايته عن الصحابة مرسلة
الحكم: صحيح الغيره دون قوله: ومن تعلم القرآن ..... وهذا إسناد ضعيف يزيد بن أبى زياد ضعيف، وعيسي مجهول، وروايته عن الصحابة مرسلة
حدیث نمبر: 22782 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ مَخْلَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي زُمَيْلٍ ، الْحَسَنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْفَزَارِيُّ وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَلَقَبُهُ أَبُو الْمَلِيحِ يَعْنِي الرَّقِّيَّ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَبِي مُسْلِمٍ ، مُعَاذٌ ، عُبَادَةُ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مَخْلَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي زُمَيْلٍ إِمْلَاءً مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْفَزَارِيُّ وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَلَقَبُهُ أَبُو الْمَلِيحِ يَعْنِي الرَّقِّيَّ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ، فَإِذَا فِيهِ حَلْقَةٌ فِيهَا اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَفِيهِمْ شَابٌّ أَكْحَلُ بَرَّاقُ الثَّنَايَا، مُحْتَبٍ، فَإِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ سَأَلُوهُ فَأَخْبَرَهُمْ، فَانْتَهَوْا إِلَى خَبَرِهِ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ: فَقُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَلْقَى بَعْضَهُمْ، فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ، انْصَرَفُوا، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَخَلْتُ، فَإِذَا مُعَاذٌ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ عِنْدَهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ جَلَسْتُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ السَّارِيَةُ، ثُمَّ احْتَبَيْتُ فَلَبِثْتُ سَاعَةً لَا أُكَلِّمُهُ وَلَا يُكَلِّمُنِي، قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِغَيْرِ دُنْيَا أَرْجُوهَا أُصِيبُهَا مِنْكَ، وَلَا قَرَابَةَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، قَالَ: فَلِأَيِّ شَيْءٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى , قَالَ: فَنَثَرَ حِبْوَتِي، ثُمَّ قَالَ: فَأَبْشِرْ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ، يَغْبِطُهُمْ بِمَكَانِهِمْ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ" . قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ فَأَلْقَى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ بِالَّذِي حَدَّثَنِي مُعَاذٌ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ فَأَلْقَى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ بِالَّذِي حَدَّثَنِي مُعَاذٌ، فَقَالَ عُبَادَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، أَنَّهُ قَالَ: " حَقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَحَابِِينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَنَاصِِحِينَ فِيَّ، عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، يَغْبِطُهُمْ بِمَكَانِهِمْ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو مسلم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک مجلس میں شریک ہوا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ٢ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے ان میں ایک نوجوان اور کم عمر صحابی بھی تھے ان کا رنگ کھلتا ہوا، بڑی اور سیاہ آنکھیں اور چمکدار دانت تھے، جب لوگوں میں کوئی اختلاف ہوتا اور وہ کوئی بات کہہ دیتے تو لوگ ان کی بات کو حرف آخر سمجھتے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ اگلے دن میں دوبارہ حاضر ہوا تو وہ ایک ستون کی آڑ میں نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے نماز کو مختصر کیا اور گوٹ مار کر خاموشی سے بیٹھ گئے میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا بخدا! میں اللہ کے جلال کی وجہ سے آپ سے محبت کرتا ہوں انہوں نے قسم دے کر پوچھا واقعی؟ میں نے بھی قسم کھا کر جواب دیا انہوں نے غالباً یہ فرمایا کہ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اس دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہوگا، (اس کے بعد بقیہ حدیث میں کوئی شک نہیں) ان کے لئے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان کی نشست گاہ پروردگار عالم کے قریب ہونے کی وجہ سے انبیاء کرام (علیہم السلام) اور صدیقین وشہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ بعد میں وہاں سے نکل کر یہ حدیث میں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو سنائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22782]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22783 مسند احمد
أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، رَجُلٌ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، رَجُلٌ ، عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ فِي مَجْلِسِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ فَجَلَسْتُ إِلَى حَلْقَةٍ فِيهَا اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُحَدِّثُ، ثُمَّ يَقُولُ الْآخَرُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُحَدِّثُ، قَالَ: وَفِيهِمْ رَجُلٌ أَدْعَجُ بَرَّاقُ الثَّنَايَا، فَإِذَا شَكُّوا فِي شَيْءٍ رَدُّوهُ إِلَيْهِ وَرَضُوا بِمَا يَقُولُ فِيهِ، قَالَ: فَلَمْ أَجْلِسْ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مَجْلِسًا مِثْلَهُ، فَتَفَرَّقَ الْقَوْمُ وَمَا أَعْرِفُ اسْمَ رَجُلٍ مِنْهُمْ وَلَا مَنْزِلَهُ، قَالَ: فَبِتُّ بِلَيْلَةٍ مَا بِتُّ بِمِثْلِهَا، قَالَ: وَقُلْتُ: أَنَا رَجُلٌ أَطْلُبُ الْعِلْمَ، وَجَلَسْتُ إِلَى أَصْحَابِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَعْرِفْ اسْمَ رَجُلٍ مِنْهُمْ وَلَا مَنْزِلَهُ! فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا أَنَا بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانُوا إِذَا شَكُّوا فِي شَيْءٍ رَدُّوهُ إِلَيْهِ، يَرْكَعُ إِلَى بَعْضِ أُسْطُوَانَاتِ الْمَسْجِدِ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَانِبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَأَخَذَ بِحُبْوَتِي حَتَّى أَدْنَانِي مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكَ لَتُحِبُّنِي لِلَّهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِي وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِلَّهِ , قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْمُتَحَابِّينَ بِجَلَالِ اللَّهِ، فِي ظِلِّ اللَّهِ وَظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ" . قَالَ: فَقُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ , فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ الرَّجُلُ , قَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَا يَقُولُ لَكَ إِلَّا حَقًّا , قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ ذَلِكَ وَأَفْضَلَ مِنْهُ، قَالَ: فَقُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ , فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ الرَّجُلُ , قَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَا يَقُولُ لَكَ إِلَّا حَقًّا , قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ ذَلِكَ وَأَفْضَلَ مِنْهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْثِرُ عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: " حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَحَابُّونَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَبَاذَلُونَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَزَاوَرُونَ فِيَّ" , قَالَ: قُلْتُ: مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ؟ قَالَ: أَنَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ قَالَ: قُلْتُ: مَنْ الرَّجُلُ؟ قَالَ: مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں بھی تم سے صرف وہی حدیث بیان کروں گا جو میں نے خود لسان نبوت سے سنی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں وہ نور کے منبروں پر رونق افروز ہوں گے اور ان کی نشستوں پر انبیاء و صدیقین بھی رشک کریں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22783]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الرجل المبهم هو يونس بن ميسرة، وسماع أبى إدريس الخولاني من معاذ بن جبل مختلف فيه، وسمع من عبادة
الحكم: حديث صحيح، الرجل المبهم هو يونس بن ميسرة، وسماع أبى إدريس الخولاني من معاذ بن جبل مختلف فيه، وسمع من عبادة
حدیث نمبر: 22784 مسند احمد
أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي سِنَانٍ ، يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ ، عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَنْ الشُّهَدَاءُ مِنْ أُمَّتِي؟" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَسَكَتُوا، فَقَالَ عُبَادَةُ: أَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ:" الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالنُّفَسَاءُ شَهِيدٌ، يَجُرُّهَا وَلَدُهَا بِسُرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بیمار تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ انصاری لوگوں کے ساتھ میری عیادت کے لئے تشریف لائے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ شہید کون ہوتا ہے؟ لوگ خاموش رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ سوال کیا لوگ پھر خاموش رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی سوال کیا تو میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے سہارا دے کر بٹھا دو اس نے ایسا ہی کیا اور میں نے عرض کیا جو شخص اسلام لائے ہجرت کرے پھر اللہ کے راستہ میں شہید ہوجائے تو وہ شہید ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے اللہ کے راستے میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے غرق ہو کر مرجانا بھی شہادت ہے اور نفاس کی حالت میں عورت کا مرجانا بھی شہادت ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22784]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى سنان
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى سنان
حدیث نمبر: 22785 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ابْنُ ثَوْبَانَ ، أَبِيهِ ، مَكْحُولٍ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِدَعْوَةٍ، إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهَا، أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا، مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا روئے زمین پر جو مسلمان آدمی بھی اللہ سے کوئی دعاء مانگتا ہے تو اللہ اسے وہی چیز عطاء فرما دیتا ہے یا اتنی پریشانی اور تکلیف کو دور کردیتا ہے تا وقتیکہ کسی گناہ میں یا قطع رحمی کی دعاء نہ کریں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22785]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن