بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 130
صفحہ 5 از 7
حدیث نمبر: 22746 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنِ إِسْحَاقَ يَعْنِي مُحَمَّدًا ، مَكْحُولٍ ، مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ يَعْنِي مُحَمَّدًا ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" تَقْرَءُونَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ , يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی دوران قرأت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی طبیعت پر بوجھ محسوس ہوا نماز سے فارغ ہو کر ہم سے پوچھا کہ کیا تم بھی قرأت کرتے ہو؟ ہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا الاّ یہ کہ سورت فاتحہ پڑھو کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22746]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22747 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، مَكْحُولٍ ، أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَنِ الْأَنْفَالِ، فَقَالَ: " فِينَا مَعْشَرَ أَصْحَابِ بَدْرٍ نَزَلَتْ حِينَ اخْتَلَفْنَا فِي النَّفْلِ، وَسَاءَتْ فِيهِ أَخْلَاقُنَا، فَانْتَزَعَهُ اللَّهُ مِنْ أَيْدِينَا، وَجَعَلَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ بَوَاءٍ، يَقُولُ: عَلَى السَّوَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سورت انفال کے متعلق حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سورت ہم اصحاب بدر کے متعلق نازل ہوئی تھی جبکہ مال غنیمت کی تقسیم میں ہمارے درمیان اختلاف رائے ہوگیا تھا اور اس حوالے سے ہمارا رویہ مناسب نہ تھا چنانچہ اللہ نے اسے ہمارے درمیان سے کھینچ لیا اور اسے تقسیم کرنے کا اختیار نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے مسلمانوں میں برابر برابر تقسیم کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22747]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وإسناد هذا الحديث قد اختلف فيه على عبدالرحمن بن الحارث، وهذا ليس بذاك القوي
الحكم: حسن لغيره، وإسناد هذا الحديث قد اختلف فيه على عبدالرحمن بن الحارث، وهذا ليس بذاك القوي
حدیث نمبر: 22748 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ ، عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَلَهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ، وَلَهَا الدُّنْيَا، إِلَّا الْقَتِيلُ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روئے زمین پر مرنے والا کوئی انسان پروردگار کے یہاں جس کے متعلق اچھا فیصلہ ہو " ایسا نہیں ہے جو تمہارے پاس واپس آنے کو اچھا سمجھے سوائے اللہ کے راستہ میں شہید ہونے والے کے کہ وہ دنیا میں دوبارہ آنے کی تمنا رکھتا ہے تاکہ دوبارہ شہادت حاصل کرلے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22748]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 22749 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَصَاعِدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورت فاتحہ یا مزید کسی اور سورت کی تلاوت بھی نہ کرسکے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22749]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 756، م: 394
الحكم: إسناده صحيح، خ: 756، م: 394
حدیث نمبر: 22750 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مَكْحُولٌ ، مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنِّي لَأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ إِذَا جَهَرَ" , قَالَ: قُلْنَا: أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی دوران قراءت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی طبیعت پر بوجھ محسوس ہوا نماز سے فارغ ہو کر ہم سے پوچھا کہ کیا تم بھی قراءت کرتے ہو؟ ہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا الاّ یہ کہ سورت فاتحہ پڑھو کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22750]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22751 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَيْسٍ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الْأَبْدَالُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ ثَلَاثُونَ مِثْلُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَكَانَهُ رَجُلًا" , قَالَ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ فِيهِ: يَعْنِي حَدِيثَ عَبْدِ الْوَهَّابِ كَلَامٌ غَيْرُ هَذَا، وَهُوَ مُنْكَرٌ , يَعْنِي: حَدِيثَ الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَان.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس امت میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی طرح تیس ابدال ہوں گے جب بھی ان میں سے کوئی ایک فوت ہوگا تو اس کی جگہ اللہ تعالیٰ کسی دوسرے کو مقرر فرما دیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22751]
حکم دارالسلام
منكر، وإسناده ضعيف من أجل الحسن بن ذكوان وعبدالواحد بن قيس، لم يسمع من عبادة
الحكم: منكر، وإسناده ضعيف من أجل الحسن بن ذكوان وعبدالواحد بن قيس، لم يسمع من عبادة
حدیث نمبر: 22752 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ الجُمَحِيِّ ، الْمُخْدَجِيِّ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ الجُمَحِيِّ ، عَنِ الْمُخْدَجِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ، لَا أَقُولُ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ وَلَا فُلَانٌ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ، فَمَنْ لَقِيَهُ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا، لَقِيَهُ وَلَهُ عِنْدَهُ عَهْدٌ يُدْخِلُهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَقِيَهُ وَقَدْ انْتَقَصَ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ، لَقِيَهُ وَلَا عَهْدَ لَهُ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مخدجی " جن کا تعلق بنو کنانہ سے تھا کہتے ہیں کہ شام میں ایک انصاری آدمی تھا جس کی کنیت ابو محمد تھی اس کا یہ کہنا تھا کہ وتر واجب (فرض) ہیں وہ مخدجی ' حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ابو محمد وتر کو واجب قرار دیتے ہیں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابو محمد سے غلطی ہوئی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کردی ہیں جو شخص انہیں اس طرح ادا کرے کہ ان میں سے کسی چیز کو ضائع نہ کرے اور ان میں کا حق معمولی نہ سمجھے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو انہیں اس طرح ادا نہ کرے تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں چاہے تو اسے سزا دے اور چاہے تو اسے معاف فرما دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22752]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة المخدجي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة المخدجي
حدیث نمبر: 22753 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الْأَشْدَقُ ، مَكْحُولٍ ، أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ , وَغَيْرُهُ مِنْ أَصْحَابِهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الْأَشْدَقُ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَنِ الْأَنْفَالِ، فَقَالَ: " فِينَا مَعْشَرَ أَصْحَابِ بَدْرٍ نَزَلَتْ حِينَ اخْتَلَفْنَا فِي النَّفْلِ، وَسَاءَتْ فِيهِ أَخْلَاقُنَا، فَنَزَعَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ أَيْدِينَا فَجَعَلَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا عَنْ بَوَاءٍ، يَقُولُ: عَلَى السَّوَاءِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سورت انفال کے متعلق حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سورت ہم اصحاب بدر کے متعلق نازل ہوئی تھی جبکہ مال غنیمت کی تقسیم میں ہمارے درمیان اختلاف رائے ہوگیا تھا اور اس حوالے سے ہمارا رویہ مناسب نہ تھا چنانچہ اللہ نے اسے ہمارے درمیان سے کھینچ لیا اور اسے تقسیم کرنے کا اختیار نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے مسلمانوں میں برابر برابر تقسیم کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22753]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وإسناد هذا الحديث قد اختلف فيه عبدالرحمن بن الحارث، وهذا ليس بذاك القوي
الحكم: حسن لغيره، وإسناد هذا الحديث قد اختلف فيه عبدالرحمن بن الحارث، وهذا ليس بذاك القوي
حدیث نمبر: 22754 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُسَيْلَةَ الصُّنَابِحِيِّ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُسَيْلَةَ الصُّنَابِحِيِّ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: كُنْتُ فِيمَنْ حَضَرَ الْعَقَبَةَ الْأُولَى، وَكُنَّا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا،" فَبَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَيْعَةِ النِّسَاءِ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُفْتَرَضَ الْحَرْبُ عَلَى: أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِيَ، وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا، وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا، وَلَا نَعْصِيَهُ فِي مَعْرُوفٍ، فَإِنْ وَفَّيْتُمْ، فَلَكُمْ الْجَنَّةُ، وَإِنْ غَشِيتُمْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَأَمْرُكُمْ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَكُمْ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے بھی اسی طرح چھ چیزوں پر بیعت لی تھی جیسے عورتوں سے لی تھی کہ تم نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے چوری نہیں کرو گے، بدکاری نہیں کرو گے اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور ایک دوسرے پر بہتان نہیں لگاؤ گے اور نیکی کے کسی کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے تم میں سے جو کوئی کسی عورت کے ساتھ قابل سزا جرم کا ارتکاب کرے اور اسے اس کی فوری سزا بھی مل جائے تو وہ اس کا کفارہ ہوگی اور اگر اسے مہلت مل گئی تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اگر اس نے چاہا تو عذاب دے دے گا اور اگر چاہا تو رحم فرما دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22754]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 18، م: 1709، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 18، م: 1709، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22755 مسند احمد
هَارُونُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، مَالِكُ بْنُ الْخَيْرِ الزِّيَادِيُّ ، أَبِي قَبِيلٍ الْمَعَافِرِيِّ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ الْخَيْرِ الزِّيَادِيُّ ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّهُ" , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ شخص میری امت میں سے نہیں ہے جو ہمارے بڑوں کی عزت چھوٹوں پر شفقت اور عالم کا مقام نہ پہچانے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22755]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: ويعرف لعالمنا ، وإسناده منقطع، أبو قبيل لم يسمع من عبادة
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: ويعرف لعالمنا ، وإسناده منقطع، أبو قبيل لم يسمع من عبادة
حدیث نمبر: 22756 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، أَبَا مُصَبِّحٍ أَوْ ابْنَ مُصَبِّحٍ ، ابْنِ السِّمْطِ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُصَبِّحٍ أَوْ ابْنَ مُصَبِّحٍ ، شَكَّ أَبُو بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ، قَالَ: فَمَا تَحَوَّزَ لَهُ عَنْ فِرَاشِهِ، فَقَالَ: " أَتَدْرِي مَنْ شُهَدَاءُ أُمَّتِي؟ قَالُوا: قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ , قَالَ: إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ، قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ، وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ، وَالْمَرْأَةُ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا جَمْعَاءَ شَهَادَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے گئے ابھی ان کے بستر سے جدا نہیں ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میری امت کے شہداء کون ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ مسلمان کا میدان جنگ میں قتل ہونا شہادت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے مسلمان کا قتل ہونا بھی شہادت ہے طاعون میں مرنا بھی شہادت ہے اور وہ عورت بھی شہید ہے جسے اس کا بچہ مار دے (یعنی حالت نفاس میں پیدائش کی تکلیف برداشت نہ کرسکنے والی وہ عورت جو اس دوران فوت ہوجائے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22756]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22757 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ ، عَمْرٌو ، الْمُطَّلِبِ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنْ لَكُمْ الْجَنَّةَ: اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ، وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ، وَأَدُّوا إِذَا اؤْتُمِنْتُمْ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ، وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں جب بات کرو تو سچ بولو، وعدہ کرو تو پورا کرو، امانت رکھوائی جائے تو اسے ادا کرو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، اپنی نگاہیں جھکا کر رکھو اور اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22757]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، المطلب لم يسمع من عبادة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، المطلب لم يسمع من عبادة
حدیث نمبر: 22758 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عِيسَى بْنِ فَائِدٍ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ فَائِدٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا لَا يَفُكُّهُ مِنْهَا إِلَّا عَدْلُهُ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ، إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بھی دس آدمیوں کا امیر رہا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوں گے جنہیں اس کے عدل کے علاوہ کوئی چیز نہیں کھول سکے گی اور جس شخص نے قرآن کریم سیکھا پھر اسے بھول گیا تو وہ اللہ سے کوڑھی بن کر ملے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22758]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: وما من رجل تعلم القرآن ..... ، وهذا إسناد ضعيف، يزيد بن أبى زياد ضعيف، وقد اضطرب فى إسناده ، عيسي بن فائد مجهول وروايته عن الصحابة مرسلة
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: وما من رجل تعلم القرآن ..... ، وهذا إسناد ضعيف، يزيد بن أبى زياد ضعيف، وقد اضطرب فى إسناده ، عيسي بن فائد مجهول وروايته عن الصحابة مرسلة
حدیث نمبر: 22759 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، ثَابِتٌ ، عَاصِمٍ ، سَلْمَانَ ، جُنَادَةَ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ سَلْمَانَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، عَنْ جُنَادَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعُودُهُ، وَبِهِ مِنَ الْوَجَعِ مَا يَعْلَمُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِشِدَّةٍ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعَشِيِّ وَقَدْ بَرِئَ أَحْسَنَ بُرْءٍ، فَقُلْتُ لَهُ: دَخَلْتُ عَلَيْكَ غُدْوَةً وَبِكَ مِنَ الْوَجَعِ مَا يَعْلَمُ اللَّهُ بِشِدَّةٍ! وَدَخَلْتُ عَلَيْكَ الْعَشِيَّةَ وَقَدْ بَرِئْتَ! فَقَالَ:" يَا ابْنَ الصَّامِتِ، إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام رَقَانِي بِرُقْيَةٍ بَرِئْتُ، أَلَا أُعَلِّمُكَهَا؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ حَسَدِ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ، بِسْمِ اللَّهِ يَشْفِيكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عیادت کے لئے حاضر خدمت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اتنی تکلیف تھی جس کی شدت اللہ ہی بہتر جانتا ہے جب شام کو دوبارہ حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بالکل ٹھیک ہوچکے تھے میں نے یہ دیکھ کر عرض کیا کہ صبح جب میں حاضر ہوا تھا تو آپ پر تکلیف کا اتنا غلبہ تھا جس کی شدت اللہ ہی جانتا ہے اور اب اس وقت حاضر ہوا ہوں تو آپ بالکل ٹھیک ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابن صامت! حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے ایک منتر سے دم کیا جس سے میں ٹھیک ہوگیا کیا میں وہ تمہیں بھی سکھا نہ دوں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں؟ فرمایا وہ کلمات یہ ہیں اللہ کے نام سے میں تم پر ہر اس چیز کے شر سے بچاؤ کا دم کرتا ہوں جو تمہیں ایذاء پہنچا سکے مثلاً ہر حاسد کے حسد سے اور ہر نظربد سے اللہ کے نام سے اللہ تمہیں شفاء عطا فرمائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22759]
حکم دارالسلام
صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سلمان الشامي، لكنه توبع
الحكم: صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سلمان الشامي، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22760 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ ، عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ ، جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ الْكِنْدِيَّ ، عُبَادَةَ ، عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، ابْنُ ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ الْكِنْدِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَاهُ وَهُوَ يُرْعِدُ، فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ وَكُلِّ عَيْنٍ، وَاسْمُ اللَّهِ يَشْفِيكَ" , حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ اسْمُ اللَّهِ يَشْفِيكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کانپ رہے تھے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان الفاظ میں دم کیا " اللہ کے نام سے میں تم پر ہر اس چیز کے شر سے بچاؤ کا دم کرتا ہوں جو تمہیں ایذاء پہنچا سکے مثلاً ہر حاسد کے حسد سے اور ہر نظر بد سے اللہ کے نام سے اللہ تمہیں شفاء عطا فرمائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22760]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22761 مسند احمد
حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ اسْمُ اللَّهِ يَشْفِيكَ"
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22762 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، أَبِي سَلَّامٍ ، أَبِي أُمَامَةَ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدْتُ مَعَهُ بَدْرًا، فَالْتَقَى النَّاسُ فَهَزَمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْعَدُوَّ، فَانْطَلَقَتْ طَائِفَةٌ فِي آثَارِهِمْ يَهْزِمُونَ وَيَقْتُلُونَ، فَأَكَبَّتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَسْكَرِ يَحْوُونَهُ وَيَجْمَعُونَهُ، وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصِيبُ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً، حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ، وَفَاءَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قَالَ الَّذِينَ جَمَعُوا الْغَنَائِمَ: نَحْنُ حَوَيْنَاهَا وَجَمَعْنَاهَا، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا نَصِيبٌ، وَقَالَ الَّذِينَ خَرَجُوا فِي طَلَبِ الْعَدُوِّ: لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا، نَحْنُ نَفَيْنَا عَنْهَا الْعَدُوَّ وَهَزَمْنَاهُمْ، وَقَالَ الَّذِينَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا، نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَخِفْنَا أَنْ يُصِيبَ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً وَاشْتَغَلْنَا بِهِ، فَنَزَلَتْ: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ سورة الأنفال آية 1 , فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَوَاقٍ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ:" وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَغَارَ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ نَفَلَ الرُّبُعَ، وَإِذَا أَقْبَلَ رَاجِعًا وَكُلَّ النَّاسِ، نَفَلَ الثُّلُثَ، وَكَانَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ، وَيَقُولُ:" لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے میں غزوہ بدر میں شریک تھا فریقین کا آمنا سامنا ہوا تو اللہ نے دشمن کو شکت سے دوچار کردیا مسلمانوں کا ایک دستہ انہیں شکت دیتا ہوا قتل کرتا ہوا ان کے تعاقب میں چلا گیا اور ایک گروہ ان کے کیمپوں کی طرف متوجہ ہوا اور مال غنیمت جمع کرنے لگا اور ایک گروہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حفاظت کرتا رہا تاکہ دشمن اچانک حملہ کر کے انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ جب رات ہوئی اور لوگ واپس آنے لگے تو مال غنیمت جمع کرنے والے کہنے لگے کہ یہ تو ہم نے جمع کیا ہے لہٰذا اس میں کسی کا حصہ نہیں ہے دشمن کی تلاش میں جانے والے کہنے لگے کہ تمہارا اس پر ہم سے زیادہ حق نہیں ہے ہم نے دشمن کو بھگا کر شکست سے دوچار کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حفاظت کرنے والے کہنے لگے کہ تمہارا اس پر ہم سے زیادہ حق نہیں ہے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حفاظت کی ہے کیونکہ ہمیں اندیشہ تھا کہ کہیں دشمن اچانک دھوکے سے ان پر حملہ نہ کر دے اور ہم غفلت میں پڑے رہ جائیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، " یسألونک عن الأنفال۔۔۔۔ " چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تمام مسلمانوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کردیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب دشمن کے علاقے پر حملہ فرماتے تھے تو چوتھائی حصہ انعام میں دے دیتے تھے اور جب وہاں سے واپس ہوتے تو تمام لوگوں میں ایک تہائی حصہ انعام میں تقسیم کردیتے تھے اس کے علاوہ انفال کو آپ نامناسب سمجھتے تھے اور فرماتے تھے طاقتور مسلمان کو کمزور کی مدد کرنی چاہیے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22762]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وإسناد هذا الحديث قد اختلف فيه على عبدالرحمن بن الحارث، وهذا ليس بذاك القوي
الحكم: صحيح لغيره، وإسناد هذا الحديث قد اختلف فيه على عبدالرحمن بن الحارث، وهذا ليس بذاك القوي
حدیث نمبر: 22763 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: " هِيَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَإِنَّهَا وَتْرٌ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، أَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، أَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ، أَوْ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، مَنْ قَامَهَا احْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شب قدر کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ ماہ رمضان میں ہوتی ہے اسے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو کہ وہ اس کی طاق راتوں ٢١، ٢٣، ٣٥، ٢٧، ٢٩ ویں یا آخری رات میں ہوتی ہے اور جو شخص اس رات کو حاصل کرنے کے لئے ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرے اور اسے یہ رات مل بھی جائے تو اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف ہوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22763]
حکم دارالسلام
حديث حسن دون قوله: أو فى آخر ليلة ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن محمد، ولجهالة عمر بن عبدالرحمن
الحكم: حديث حسن دون قوله: أو فى آخر ليلة ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن محمد، ولجهالة عمر بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 22764 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ ، جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ , وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ , قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنِّي قَدْ حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ لَا تَعْقِلُوا، إِنَّ مَسِيحَ الدَّجَّالِ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَفْحَجُ، جَعْدٌ أَعْوَرُ، مَطْمُوسُ الْعَيْنِ لَيْسَ بِنَاتِئَةٍ وَلَا حَجْراءَ، فَإِنْ أَلْبَسَ عَلَيْكُمْ، قَالَ يَزِيدُ: رَبَّكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَأَنَّكُمْ لَنْ تَرَوْنَ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى تَمُوتُوا" , قَالَ يَزِيدُ:" تَرَوْا رَبَّكُمْ حَتَّى تَمُوتُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں دجال کے متعلق اتنی باتیں بتادی ہیں کہ مجھے خطرہ ہے کہیں تم بات سمجھے نہ ہو مسیح دجال ایک ٹھنگنے قد کا آدمی ہوگا، اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان میں غیر معمولی فاصلہ ہوگا اس کے بال گھنگھریالے ہوں گے وہ کانا ہوگا اس کی ایک آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی، جو ابھری ہوگی اور نہ دھنسی ہوئی اگر تم پر اس کا معاملہ مشتبہ ہوجائے تو بس اتنی بات یاد رکھنا کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے اور یہ کہ تم مرنے سے پہلے اپنے رب کو دیکھ نہیں سکتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22764]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف بقية
الحكم: إسناده ضعيف لضعف بقية
حدیث نمبر: 22765 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْلَةُ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْبَوَاقِي، مَنْ قَامَهُنَّ ابْتِغَاءَ حِسْبَتِهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَغْفِرُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَهِيَ لَيْلَةُ وِتْرٍ تِسْعٍ أَوْ سَبْعٍ أَوْ خَامِسَةٍ أَوْ ثَالِثَةٍ أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ" . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَمَارَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَنَّهَا صَافِيَةٌ بَلْجَةٌ، كَأَنَّ فِيهَا قَمَرًا سَاطِعًا سَاكِنَةٌ سَاجِيَةٌ، لَا بَرْدَ فِيهَا وَلَا حَرَّ، وَلَا يَحِلُّ لِكَوْكَبٍ أَنْ يُرْمَى بِهِ فِيهَا حَتَّى تُصْبِحَ، وَإِنَّ أَمَارَتَهَا أَنَّ الشَّمْسَ صَبِيحَتَهَا تَخْرُجُ مُسْتَوِيَةً لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ مِثْلَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَلَا يَحِلُّ لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا يَوْمَئِذٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شب قدر ماہ رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے جو شخص اس کا ثواب حاصل کرنے کے لئے ان میں قیام کرے تو اللہ اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دے گا اور یہ طاق راتوں میں ہوتی ہے یعنی عشرہ اخیرہ کے نویں " ساتویں " پانچویں " تیسری یا آخری رات " نیز فرمایا کہ شب قدر کی علامت یہ ہے کہ وہ رات روشن اور چمکدار ہوتی ہے اس میں چاند کی روشنی بھی خوب اجلی ہوتی ہے وہ رات پرسکون اور گہری ہوتی ہے اس رات میں صبح تک ستارے توڑ کر نہیں مارے جاتے نیز اس کی علامت یہ ہے کہ اس کی صبح کو جب سورج روشن ہوتا ہے تو وہ سیدھا برابر نکلتا ہے جیسے چودھویں کا چاند ہوتا ہے اور اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی اور اس دن شیطان کے لئے سورج کے ساتھ نکلنا ممنوع ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22765]
حکم دارالسلام
الشطر الأول من الحديث حسن، وأما الشطر الثاني فمحتمل للتحسين لشواهده، وإسناد هذا الحديث ضعيف، بقية يدلس تدليس التسوية، وخالد بن معدان لم من عبادة
الحكم: الشطر الأول من الحديث حسن، وأما الشطر الثاني فمحتمل للتحسين لشواهده، وإسناد هذا الحديث ضعيف، بقية يدلس تدليس التسوية، وخالد بن معدان لم من عبادة