بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 130
صفحہ 1 از 7
حدیث نمبر: 22666 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مَنْصُورٌ ، الْحَسَنِ ، حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا عَنِّي، خُذُوا عَنِّي، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا، الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھ سے یہ بات حاصل کرلو مجھ سے یہ بات حاصل کرلو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے یہ راستہ متعین کردیا ہے کہ اگر کوئی کنوارا لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اگر شادی شدہ مرد، شادی شدہ عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22666]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1690
الحكم: إسناده صحيح، م: 1690
حدیث نمبر: 22667 مسند احمد
مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْتَمِسُوهَا فِي تَاسِعَةٍ وَسَابِعَةٍ وَخَامِسَةٍ" , يَعْنِي: لَيْلَةَ الْقَدْرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے گھر سے نکلے تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے نکلا تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے اس کی وجہ سے اس کی تعین اٹھا لی گئی ہوسکتا ہے کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہو تم شب قدر کو (آخری عشرے کی) نویں ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22667]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 49
الحكم: إسناده صحيح، م: 49
حدیث نمبر: 22668 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي أَسْمَاءَ ، عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ: خَالِدٌ أَحْسِبُهُ ذَكَرَهُ عَن ْ أَبِي أَسْمَاءَ ، قَالَ: عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ " أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ سِتًّا: أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا يَعْضِدْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْهُنَّ حَدًّا فَعُجِّلَ لَهُ عُقُوبَتُهُ، فَهُوَ كَفَّارَتُهُ، وَإِنْ أُخِّرَ عَنْهُ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ رَحِمَهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے بھی اسی طرح چھ چیزوں پر بیعت لی تھی جیسے عورتوں سے لی تھی کہ تم نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے چوری نہیں کرو گے، بدکاری نہیں کرو گے اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور ایک دوسرے پر بہتان نہیں لگاؤ گے اور نیکی کے کسی کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے تم میں سے جو کوئی کسی عورت کے ساتھ قابل سزا جرم کا ارتکاب کرے اور اسے اس کی فوری سزا بھی مل جائے تو وہ اس کا کفارہ ہوگی اور اگر اسے مہلت مل گئی تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اگر اس نے چاہا تو عذاب دے دے گا اور اگر چاہا تو رحم فرما دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22668]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد غير محفوظ
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد غير محفوظ
حدیث نمبر: 22669 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، خَالِدٍ ، أَبَا قِلَابَةَ ، أَبِي الْأَشْعَثِ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَن ْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22669]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4894، م: 1709
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4894، م: 1709
حدیث نمبر: 22670 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، خَالِدٍ ، أَبَا قِلَابَةَ ، أَبِي الْأَشْعَثِ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَن ْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ أَوْ عَلَى النَّاسِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4894، م: 1709
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4894، م: 1709
حدیث نمبر: 22671 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مَكْحُولٍ ، مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ، فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" تَقْرَءُونَ؟" قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں نماز پڑھائی دوران قرأت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی طبیعت پر بوجھ محسوس ہوا نماز سے فارغ ہو کر ہم سے پوچھا کہ کیا تم بھی قراءت کرتے ہو؟ ہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا الاّ یہ کہ سورت فاتحہ پڑھو کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22671]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22672 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَتَلَاحَى رَجُلَانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَتَلَاحَى رَجُلَانِ، فَرُفِعَتْ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ أَوْ السَّابِعَةِ أَوْ الْخَامِسَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے گھر سے نکلے تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے نکلا تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے اس کی وجہ سے اس کی تعین اٹھالی گئی ہوسکتا ہے کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہو تم شب قدر کو (آخری عشرے کی) نویں ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22672]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 49
الحكم: إسناده صحيح، خ: 49
حدیث نمبر: 22673 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ الْعَنْسِيُّ ، جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ الْعَنْسِيُّ ، حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي أَوْ قَالَ: ثُمَّ دَعَاهُ اسْتُجِيبَ لَهُ، فَإِنْ عَزَمَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى، تُقُبِّلَتْ صَلَاتُهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو اور یوں کہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے سبحان اللہ والحمدللہ واللہ اکبر ولاحول ولاقوۃ الا باللہ پھر یہ دعا کرے کہ پروردگار! مجھے معاف فرما دے یا جو بھی دعاء کرے وہ ضرور قبول ہوگی پھر اگر وہ عزم کر کے اٹھتا ہے وضو کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز بھی قبول ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22673]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1154
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1154
حدیث نمبر: 22674 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، وَحُمَيْدٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ , وَحُمَيْدٌ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَن ْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَهُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَاطْلُبُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تَاسِعَةٍ أَوْ سَابِعَةٍ أَوْ خَامِسَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے گھر سے نکلے تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے نکلا تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے اس کی وجہ سے اس کی تعین اٹھالی گئی ہوسکتا ہے کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہو تم شب قدر کو (آخری عشرے کی) نویں ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22674]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 49
الحكم: إسناده صحيح، خ: 49
حدیث نمبر: 22675 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، أَنَّ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ حَدَّثَهُ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے، رسول اور اس کا کلمہ ہیں جسے اس نے حضرت مریم کی طرف القاء کیا تھا اور روح اللہ ہیں اور یہ کہ جنت اور جہنم برحق ہے تو اللہ اسے جنت میں ضرور داخل فرمائے گا خواہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22675]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3435، م: 28
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3435، م: 28
حدیث نمبر: 22676 مسند احمد
الْوَلِيدُ ، ابْنُ جَابِرٍ ، عُمَيْرَ بْنَ هَانِئٍ ، جُنَادَةَ ، عُبَادَةَ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَيْرَ بْنَ هَانِئٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ جُنَادَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْجَنَّةَ مِنْ أَبْوَابِهَا الثَّمَانِيَةِ، مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس کے آخر میں جنت کے آٹھوں دروازوں سے داخل ہونے کا ذکر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22676]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3435، م: 28
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3435، م: 28
حدیث نمبر: 22677 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، رِوَايَةً يَبْلُغُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورت فاتحہ کی بھی تلاوت نہ کرسکے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22677]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 756، م: 394
الحكم: إسناده صحيح، خ: 756، م: 394
حدیث نمبر: 22678 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ: " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، قَرَأَ الْآيَةَ الَّتِي أُخِذَتْ عَلَى النِّسَاءِ: إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ سورة الممتحنة آية 12 , فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ، فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَعُوقِبَ بِهِ، فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَسَتَرَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ، فَهُوَ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ" , قَالَ سُفْيَانُ قَالَ لِي الْهُذَلِيُّ: احْفَظْ لِي هَذَا الْحَدِيثَ، وَهُوَ عِنْدَ الزُّهْرِيِّ قَالَ لِي الْهُذَلِيُّ: أَبُو بَكْرٍ لَمْ يَرْوِ مِثْلَ هَذَا قَطُّ، يَعْنِي: الزُّهْرِيَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے بھی اسی طرح چھ چیزوں پر بیعت لی تھی جیسے عورتوں سے لی تھی کہ تم نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے چوری نہیں کرو گے، بدکاری نہیں کرو گے اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور ایک دوسرے پر بہتان نہیں لگاؤ گے اور نیکی کے کسی کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے تم میں سے جو کوئی کسی عورت کے ساتھ قابل سزا جرم کا ارتکاب کرے اور اسے اس کی فوری سزا بھی مل جائے تو وہ اس کا کفارہ ہوگی اور اگر اسے مہلت مل گئی تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اگر اس نے چاہا تو عذاب دے دے گا اور اگر چاہا تو رحم فرما دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22678]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4894، م: 1709
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4894، م: 1709
حدیث نمبر: 22679 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَحْيَى ، عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عُبَادَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، سَمِعَهُ مِنْ جَدِّهِ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً , عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ ، قَالَ: سُفْيَانُ: وَعُبَادَةُ نَقِيبٌ وهو من السبعة , " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَلَا نُنَازِعُ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، نَقُولُ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا، لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ" قَالَ سُفْيَانُ: زَادَ بَعْضُ النَّاسِ مَا لَمْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہر تنگی اور آسانی اور چستی وسستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے کی شرط پر بیعت کی تھی نیز یہ کہ کسی معاملے میں اس کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے جہاں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22679]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، سماع عبادة بن الوليد من جده سواء صح أو لم يصح، فقدعرفت الواسطة بينهما
الحكم: حديث صحيح، سماع عبادة بن الوليد من جده سواء صح أو لم يصح، فقدعرفت الواسطة بينهما
حدیث نمبر: 22680 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، أَبِي سَلَّامٍ الْأَعْرَجِ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَعْرَجِ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، يُنَجِّي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کیا کرو کیونکہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو غم اور پریشانی سے نجات عطا فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22680]
حکم دارالسلام
حسن بمجموع طرقه، وهذا إسناد ضعيف، أبو بكر بن عبدالله ضعيف، والمقدام ابن معدي كرب خطأ، والصواب أنه مقدام الرهاوي فهو مجهول
الحكم: حسن بمجموع طرقه، وهذا إسناد ضعيف، أبو بكر بن عبدالله ضعيف، والمقدام ابن معدي كرب خطأ، والصواب أنه مقدام الرهاوي فهو مجهول
حدیث نمبر: 22681 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، أَبِي الْمُثَنَّى ، ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَنِ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَتَكُونُ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ایسے امراء آئیں گے جنہیں بہت سی چیزیں غفلت میں مبتلا کردیں گی اور وہ نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کردیا کریں گے اس موقع پر تم لوگ وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجانا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22681]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو المثني مجهول، وقد اضطرب فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو المثني مجهول، وقد اضطرب فيه
حدیث نمبر: 22682 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، أَبِي الْمُثَنَّى ، ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَن ِ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22682]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو المثنى مجهول، وقد اضطرب فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو المثنى مجهول، وقد اضطرب فيه
حدیث نمبر: 22683 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، خَالِدٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْأَشْعَثِ ، عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، قَالَ: كَانَ أُنَاسٌ يَبِيعُونَ الْفِضَّةَ مِنَ الْمَغَانِمِ إِلَى الْعَطَاءِ , فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ :" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ وَاسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالاشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مال غنیمت سے حاصل ہونے والی چاندی کو لوگ وظیفہ کی رقم حاصل ہونے پر موقوف کر کے بیچا کرتے تھے یہ دیکھ کر حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سونے کی سونے کے بدلے چاندی کی چاندی کے بدلے، کجھور کی کجھور کے بدلے، گندم کی گندم کے بدلے، جو کی جو کے بدلے اور نمک کے بدلے نمک کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ الاّ یہ کہ وہ برابر برابر ہو جو شخص اضافہ کرے یا اضافہ کی درخواست کرے تو اس نے سودی معاملہ کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22683]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1587
الحكم: إسناده صحيح، م: 1587
حدیث نمبر: 22684 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، ابْنِ الْمُصَبِّحِ أَوْ أَبِي الْمُصَبِّحِ ، ابْنِ السِّمْطِ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُصَبِّحِ أَوْ أَبِي الْمُصَبِّحِ ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ، فَمَا تَحَوَّزَ لَهُ عَنْ فِرَاشِهِ، فَقَالَ:" مَنْ شُهَدَاءُ أُمَّتِي؟" قَالُوا: قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ , قَالَ:" إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ، قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ، وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ، وَالْبَطْنُ، وَالْغَرَقُ، وَالْمَرْأَةُ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا جَمْعَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے گئے ابھی ان کے بستر سے جدا نہیں ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میری امت کے شہداء کون ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ مسلمان کا میدان جنگ میں قتل ہونا شہادت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے مسلمان کا قتل ہونا بھی شہادت ہے طاعون میں مرنا بھی شہادت ہے اور وہ عورت بھی شہید ہے جسے اس کا بچہ مار دے (یعنی حالت نفاس میں پیدائش کی تکلیف برداشت نہ کرسکنے والی وہ عورت جو اس دوران فوت ہوجائے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22684]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22685 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟" قَالُوا: الَّذِي يُقَاتِلُ فَيُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ، الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ" , يَعْنِي: النُّفَسَاءَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا تم لوگ اپنے درمیان شہید کسے سمجھتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ جو اللہ کے راستہ میں لڑے اور مارا جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جانے والا بھی شہید ہے طاعون کی بیماری میں، پیٹ کی بیماری میں اور نفاس کی حالت میں مرنے والی عورت بھی شہید ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22685]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين عباد بن نسي وبين عبادة بن الصامت
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين عباد بن نسي وبين عبادة بن الصامت