بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22685
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22685
حدیث نمبر: 22685 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟" قَالُوا: الَّذِي يُقَاتِلُ فَيُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ، الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ" , يَعْنِي: النُّفَسَاءَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا تم لوگ اپنے درمیان شہید کسے سمجھتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ جو اللہ کے راستہ میں لڑے اور مارا جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جانے والا بھی شہید ہے طاعون کی بیماری میں، پیٹ کی بیماری میں اور نفاس کی حالت میں مرنے والی عورت بھی شہید ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22685]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين عباد بن نسي وبين عبادة بن الصامت
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين عباد بن نسي وبين عبادة بن الصامت
← پچھلی حدیث (22684) باب پر واپس اگلی حدیث (22686) →