شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، الْحَسَنُ ، عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ: قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ : نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ سورة النساء آية 15 , إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ،" وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، أَعْرَضَ عَنَّا، وَأَعْرَضْنَا عَنْهُ، وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ، وَكَرَبَ لِذَلِكَ، فَلَمَّا رُفِعَ عَنْهُ الْوَحْيُ، قَالَ:" خُذُوا عَنِّي" , قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا، الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ الرَّجْمُ" , قَالَ الْحَسَنُ: فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْحَدِيثِ هُوَ أَمْ لَا , قَالَ:" فَإِنْ شَهِدُوا أَنَّهُمَا وُجِدَا فِي لِحَافٍ لَا يَشْهَدُونَ عَلَى جِمَاعٍ خَالَطَهَا بِهِ جَلْدُ مِائَةٍ، وَجُزَّتْ رُءُوسُهُمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی وہ عورتیں جو بےحیائی کا کام کریں۔۔۔۔۔۔۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسی عورتوں کے ساتھ یہی سلوک کیا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما تھے ہم بھی ان کے گرد بیٹھے ہوئے تھے (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جب بھی وحی نازل ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توجہ ہماری طرف سے ہٹ جاتی اور ہم بھی ہٹ جاتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رخ انور کا رنگ بدل جاتا اور سخت تکلیف ہوتی تھی، بہر حال! جب وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھ سے یہ بات حاصل کرلو مجھ سے یہ بات حاصل کرلو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے یہ راستہ متعین کردیا ہے کہ اگر کوئی کنوارہ لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اگر شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22780]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1690 دون قوله فى آخره: فإن شهدوا ..... ، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عبادة ابن الصامت
الحكم: حديث صحيح، م: 1690 دون قوله فى آخره: فإن شهدوا ..... ، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عبادة ابن الصامت