بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَاقِي حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 50
صفحہ 3 از 3
حدیث نمبر: 21732 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، بَقِيَّةُ ، حَبِيبِ بْنِ عُمَرَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبَا عَبْدِ الصَّمَدِ ، أُمَّ الدَّرْدَاءِ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ , أخبرنا بَقِيَّةُ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُمَرَ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ شَيْخٍ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ الصَّمَدِ , قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , تَقُولُ: كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِذَا حَدَّثَ حَدِيثًا تَبَسَّمَ , فَقُلْتُ: لَا يَقُولُ النَّاسُ إِنَّكَ أَيْ أَحْمَق؟ فَقَالَ: " مَا رَأَيْتُ أَوْ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا إِلَّا تَبَسَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام درداء رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ جب بھی کوئی حدیث سناتے تو مسکرایا کرتے تھے میں نے ان سے ایک مرتبہ کہا کہ کہیں لوگ آپ کو " احمق " نہ کہنے لگیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو نبی کریم کو کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے جب بھی دیکھا یا سنا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرا رہے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21732]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، بقية بن الوليد ضعيف و مدلس، وقد عنعن، وحبيب بن عمر وأبو عبدالصمد مجهولان
الحكم: إسناده ضعيف، بقية بن الوليد ضعيف و مدلس، وقد عنعن، وحبيب بن عمر وأبو عبدالصمد مجهولان
حدیث نمبر: 21733 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ ، بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ , حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ , إِذْ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي , فَظَنَنْتُ أَنَّهُ مَذْهُوبٌ بِه , فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي , فَعُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ , أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا کہ خواب میں میں نے کتاب کے ستونوں کو دیکھا کہ انہیں میرے سر کے نیچے سے اٹھایا گیا، میں سمجھ گیا کہ اسے لیجایا جارہا ہے چنانچہ میری نگاہیں اس کا پیچھا کرتی رہیں پھر اسے شام پہنچا دیا گیا یاد رکھو! جس زمانے میں فتنے رونما ہوں گے اس وقت ایمان شام میں ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21733]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21734 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ ، أَبِي الْعَذْرَاءِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ , عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ , عَنْ أَبِي الْعَذْرَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجِلُّوا اللَّهَ يَغْفِرْ لَكُمْ" , قَالَ ابْنُ ثَوْبَانَ: يَعْنِي أَسْلِمُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام قبول کرلو اللہ تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21734]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى العذراء
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى العذراء
حدیث نمبر: 21735 مسند احمد
يُونُسُ ، بَقِيَّةُ ، حَبِيبِ بْنِ عُمَرَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِي عَبْدِ الصَّمَدِ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُمَرَ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الصَّمَدِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ: كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَا يُحَدِّثُ بِحَدِيثٍ إِلَّا تَبَسَّمَ فِيهِ , فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُحَمِّقَكَ النَّاسُ , فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يُحَدِّثُ بِحَدِيثٍ إِلَّا تَبَسَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام درداء رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ جب بھی کوئی حدیث سناتے تو مسکرایا کرتے تھے میں نے ان سے ایک مرتبہ کہا کہ کہیں لوگ آپ کو " احمق " نہ کہنے لگیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو نبی کریم کو کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے جب بھی دیکھا یا سنا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرا رہے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21735]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، بقية بن الوليد ضعيف و مدلس، وقد عنعن، وحبيب بن عمر وأبو عبدالصمد مجهولان
الحكم: إسناده ضعيف، بقية بن الوليد ضعيف و مدلس، وقد عنعن، وحبيب بن عمر وأبو عبدالصمد مجهولان
حدیث نمبر: 21736 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، زَبَّانُ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَبِيهِ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا زَبَّانُ , عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّهُ أَتَاهُ عَائِدًا , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لِأَبِي بَعْدَ أَنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ: بِالصِّحَّةِ لَا بِالْوَجَعِ , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا يَزَالُ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ بِهِ الْمَلِيلَةُ وَالصُّدَاعُ , وَإِنَّ عَلَيْهِ مِنَ الْخَطَايَا لَأَعْظَمَ مِنْ أُحُدٍ , حَتَّى يَتْرُكَهُ , وَمَا عَلَيْهِ مِنَ الْخَطَايَا مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس جہنی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے تو انہیں دعاء دی کہ اللہ آپ کو ہر مرض سے بچا کر صحت کے ساتھ رکھے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان آدمی سر درد اور دیگر بیماریوں میں مسلسل مبتلا ہوتا رہتا ہے اور اس کے گناہ احد پہاڑ کے برابر ہوتے ہیں لیکن یہ بیماریاں اسے اس وقت چھوڑتی ہیں جب اس پر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی گناہ نہیں رہتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21736]
حکم دارالسلام
إسناده مسلسل بالضعفاء، ابن لهيعة وزبان وسهل كلهم ضعفاء
الحكم: إسناده مسلسل بالضعفاء، ابن لهيعة وزبان وسهل كلهم ضعفاء
حدیث نمبر: 21737 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِالسُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ , فَأَنْظُرَ إِلَى بَيْنِ يَدَيَّ , فَأَعْرِفَ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ , وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذَلِكَ , وَعَنْ يَمِينِي مِثْلُ ذَلِكَ , وَعَنْ شِمَالِي مِثْلُ ذَلِكَ" , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ فِيمَا بَيْنَ نُوحٍ إِلَى أُمَّتِكَ؟ قَالَ:" هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ , لَيْسَ أَحَدٌ كَذَلِكَ غَيْرَهُمْ , وَأَعْرِفُهُمْ أَنَّهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ , وَأَعْرِفُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ذُرِّيَّتُهُمْ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کو سجدہ ریز ہونے کی اجازت ملے گی وہ میں ہوں گا اور مجھے ہی سب سے پہلے سر اٹھانے کی اجازت ملے گی، چنانچہ میں اپنے سامنے دیکھوں گا تو دوسری امتوں میں سے اپنی امت کو پہچان لوں گا اسی طرح پیچھے سے اور دائیں بائیں سے بھی اپنی امت کو پہچان لوں گا ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر آپ تک جتنی امتیں آئی ہیں ان میں سے آپ اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت کے لوگوں کی پیشانیاں آثار وضو سے چمک دار اور روشن ہوں گی، یہ کیفیت کسی اور کی نہیں ہوگی اور میں اس طرح بھی انہیں شناخت کرسکوں گا کہ ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اور یہ کہ ان کے نابالغ اولاد ان کے آگے دوڑ رہی ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21737]
حکم دارالسلام
حسن لغيره دون قوله: وأعرفهم أنهم يؤتون كتبهم.... ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواية ابن المبارك وقتيبة عنه صالحة، ثم هو منقطع، عبدالرحمن لم يسمع ابا الدرادء.
الحكم: حسن لغيره دون قوله: وأعرفهم أنهم يؤتون كتبهم.... ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواية ابن المبارك وقتيبة عنه صالحة، ثم هو منقطع، عبدالرحمن لم يسمع ابا الدرادء.
حدیث نمبر: 21738 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبَا ذَرٍّ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , شَكَّ فِيهِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ أَوْ أَبَا الدَّرْدَاءِ , قَالَ يَحْيَى: فَيَقُولُ:" فَأَعْرِفُهُمْ أَنَّ نُورَهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21738]
حکم دارالسلام
حسن لغيره كسابقه، وذكر سماع عبدالرحمن من أبى الدرداء خطأ، فإنه لم يدركهما
الحكم: حسن لغيره كسابقه، وذكر سماع عبدالرحمن من أبى الدرداء خطأ، فإنه لم يدركهما
حدیث نمبر: 21739 مسند احمد
يَعْمَرُ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبَا ذَرٍّ ، وَأَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ , أًخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أًخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ وَأَبَا الدَّرْدَاءِ , قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ فِي السُّجُودِ" فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
حسن لغيره كسابقه
الحكم: حسن لغيره كسابقه
حدیث نمبر: 21740 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبا ذَرٍّ ، وَأَبِا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ , أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ أَبا ذَرٍّ وَأَبِا الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنِّي لَأَعْرِفُ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ" , قَالُوا: يَا نبي اللَّهِ , وَكَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ؟ قَالَ:" أَعْرِفُهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ , وَأَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ , وَأَعْرِفُهُمْ بِنُورِهِمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ اور ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن دوسری امتوں میں سے اپنی امت کو پہچان لوں گا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر آپ تک جتنی امتیں آئی ہیں ان میں سے آپ اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت کے لوگوں کی پیشانیاں آثار وضو سے چمک دار اور روشن ہوں گی، یہ کیفیت کسی اور کی نہیں ہوگی اور میں اس طرح بھی انہیں شناخت کرسکوں گا کہ ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اور یہ کہ ان کا نور ان کے آگے دوڑ رہا ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21740]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، عبدالرحمن بن جبير لم يسمع أبا الدرداء، وقوله: "وأعرفهم بسيماهم.... السجود" صحيح لغيره
الحكم: إسناده ضعيف ، عبدالرحمن بن جبير لم يسمع أبا الدرداء، وقوله: "وأعرفهم بسيماهم.... السجود" صحيح لغيره
حدیث نمبر: 21741 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ ، أَبُو الْأَحْوَصِ حَكِيمُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وحَبِيبُ بْنُ عُبَيْدٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَكِيمُ بْنُ عُمَيْرٍ , وحَبِيبُ بْنُ عُبَيْدٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَدَعُ رَجُلٌ مِنْكُمْ أَنْ يَعْمَلَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَلْفَ حَسَنَةٍ , حِينَ يُصْبِحُ يَقُولُ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ , فَإِنَّهاُ أَلْفُ حَسَنَةٍ , فَإنه لَنْ يَعْمَلَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي يَوْمٍ مِنَ الذُّنُوبِ , وَيَكُونُ مَا عَمِلَ مِنْ خَيْرٍ سِوَى ذَلِكَ وَافِرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص روزانہ صبح کے وقت اللہ کی رضا کے لئے ایک ہزار نیکیاں نہ چھوڑا کر سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہہ لیا کرے، اس کا ثواب ایک ہزار نیکیوں کے برابر ہے اور وہ شخص ان شاء اللہ اس دن اتنے گناہ نہیں کرسکے گا اور اس کے علاوہ جو نیکی کے کام کرے گا وہ اس سے زیادہ ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21741]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى بكر بن أبى مريم
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى بكر بن أبى مريم