زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، بَقِيَّةُ ، حَبِيبِ بْنِ عُمَرَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبَا عَبْدِ الصَّمَدِ ، أُمَّ الدَّرْدَاءِ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ , أخبرنا بَقِيَّةُ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُمَرَ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ شَيْخٍ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ الصَّمَدِ , قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , تَقُولُ: كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِذَا حَدَّثَ حَدِيثًا تَبَسَّمَ , فَقُلْتُ: لَا يَقُولُ النَّاسُ إِنَّكَ أَيْ أَحْمَق؟ فَقَالَ: " مَا رَأَيْتُ أَوْ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا إِلَّا تَبَسَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام درداء رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ جب بھی کوئی حدیث سناتے تو مسکرایا کرتے تھے میں نے ان سے ایک مرتبہ کہا کہ کہیں لوگ آپ کو " احمق " نہ کہنے لگیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو نبی کریم کو کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے جب بھی دیکھا یا سنا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرا رہے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21732]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، بقية بن الوليد ضعيف و مدلس، وقد عنعن، وحبيب بن عمر وأبو عبدالصمد مجهولان
الحكم: إسناده ضعيف، بقية بن الوليد ضعيف و مدلس، وقد عنعن، وحبيب بن عمر وأبو عبدالصمد مجهولان