بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَاقِي حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 50
صفحہ 1 از 3
حدیث نمبر: 21692 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ , عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ " أَنَّه سَجَدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً , مِنْهُنَّ النَّجْمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم میں گیارہ سجدے کئے ہیں جن میں سورت نجم کی آیت سجدہ بھی شامل ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21692]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عمر الدمشقي، وهو منقطع بينه وبين أم الدرداء
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عمر الدمشقي، وهو منقطع بينه وبين أم الدرداء
حدیث نمبر: 21693 مسند احمد
عَفَّانُ ، هُشَيْمٌ ، دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيِّ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أخبرنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ , فأَحَسِّنُوا أَسْمَاءَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تم لوگ اپنے اور اپنے باپ کے نام سے پکارے جاؤ گے لہٰذا اچھے نام رکھا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21693]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، فإن عبدالله بن أبى زكريا لم يسمع من أبى الدرداء
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، فإن عبدالله بن أبى زكريا لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21694 مسند احمد
عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ ، خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيِّ ، بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَبُو الْيَمَانِ ، الْقُرْقُسَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيِّ , عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمِي وَيُصِمُّ" , قَالَ: وحَدَّثَنَاه أَبُو الْيَمَانِ , لَمْ يَرْفَعْهُ , وَرَفَعَهُ الْقُرْقُسَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی چیز کی محبت تمہیں اندھا بہرا کردیتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21694]
حکم دارالسلام
صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر بن أبى مريم
الحكم: صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر بن أبى مريم
حدیث نمبر: 21695 مسند احمد
عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ضَمْرَةَ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ ضَمْرَةَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان کی سمجھداری کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے معاشی معاملات میں میانہ روی سے چلے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21695]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى بكر بن أبى مريم
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى بكر بن أبى مريم
حدیث نمبر: 21696 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ , وَمَا مِنَّا صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھے اور گرمی کی شدت سے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے جاتے تھے اور اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں سے کسی کا روزہ نہ تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21696]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1945، م: 1122
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1945، م: 1122
حدیث نمبر: 21697 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، ثَابِتٍ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ ثَابِتٍ , أَوْ عَنْ أَبِي ثَابِتٍ , أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ , فَقَالَ: اللَّهُمَّ آنِسْ وَحْشَتِي , وَارْحَمْ غُرْبَتِي , وَارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا , فَسَمِعَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأَنَا أَسْعَدُ بِمَا قُلْتَ مِنْكَ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِه سورة فاطر آية 32 يَعْنِي الظَّالِمَ يُؤْخَذُ مِنْهُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ , فَذَلِكَ الْهَمُّ وَالْحَزَنُ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِد سورة فاطر آية 32 قَالَ: يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ سورة فاطر آية 32 قَال: الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی مسجد دمشق میں داخل ہوا اور یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے تنہائی میں کوئی مونس عطاء فرما میری اجنبیت پر ترس کھا اور مجھے اچھا رفیق عطاء فرما، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اس کی یہ دعاء سن لی اور فرمایا کہ تم یہ دعاء صدق دل سے کر رہے ہو تو اس دعاء کا میں تم سے زیادہ سعادت یافتہ ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قرآن کریم کی اس آیت " فمن ہم ظالم لنفسہ " کی تفسیر میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ظالم سے اس کے اعمال کا حساب کتاب اسی کے مقام پر لیا جائے گا اور یہی غم اندوہ ہوگا منہم مقتصد یعنی کچھ لوگ درمیانے درجے کے ہوں گے، ان کا آسان حساب لیا جائے گا " ومنہم سابق بالخیرات باذن اللہ " یہ وہ لوگ ہوں گے جو جنت میں بلا حساب کتاب داخل ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21697]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ثابت أو أبو ثابت مجهول، وقد اختلف فى إسناده على الأعمش
الحكم: إسناده ضعيف، ثابت أو أبو ثابت مجهول، وقد اختلف فى إسناده على الأعمش
حدیث نمبر: 21698 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ ، أُمُّ الدَّرْدَاءِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ , أَخْبَرَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي الْيَوْمِ الْحَارِّ الشَّدِيدِ الْحَرِّ , حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ من شِدَّةِ الْحَر , وَمَا فِي الْقَوْمِ صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ شدید گرمی کے سفر میں تھے اور گرمی کی شدت سے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے جاتے تھے اور اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں سے کسی کا روزہ نہ تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21698]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1945، م: 1122، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من اجل هشام و عثمان
الحكم: حديث صحيح، خ: 1945، م: 1122، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من اجل هشام و عثمان
حدیث نمبر: 21699 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ ، قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، رَجُلٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ , عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِعْطَاءِ السُّلْطَانِ , قَالَ: " مَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْهُ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ , فَخُذْهُ وَتَمَوَّلْهُ" , قَالَ: وَقَالَ الْحَسَنُ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا بَأْسَ بِهَا مَا لَمْ تَرْحَلْ إِلَيْهَا , أَوْ تَشَرَّفْ لَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ بادشاہ کی عطاء و بخشش لینے کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بن مانگے اور بن خواہش اللہ تعالیٰ تمہیں جو کچھ عطاء فرما دے اسے لے لیا کرو اور اس سے تم مول حاصل کیا کرو؟ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21699]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل عن أبى الدرداء
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل عن أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21700 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، سَالِمٍ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا أَبُو الدَّرْدَاءِ مُغْضَبًا , فَقَالَتْ: مَا لَكَ؟ فقَال: " وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ فِيهِمْ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ بخدا! میں لوگوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21700]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 650
الحكم: إسناده صحيح، خ: 650
حدیث نمبر: 21701 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ ، مَعْدَانَ ، أَبِي الدَّرْدَاء
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , أخبرنا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ ابن مَعْدَانَ أَوْ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاء , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَاءَ فَأَفْطَرَ" , قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: أَنَا صَبَبْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قے آگئی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے بھی اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے وضو کا پانی ڈال رہا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21701]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناده، والخلاف كله يدور على الثقات
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناده، والخلاف كله يدور على الثقات
حدیث نمبر: 21702 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ ، أَبِي بَحْرِيَّةَ ، مَكِّيٌّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيد ، زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، أَبِي بَحْرِيَّةَ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ , حَدَّثَنِي مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ , عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ , وحَدَّثَنَا مَكِّيٌّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيد , عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ , قَالَ مَكِّيٌ: وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ , وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ , وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ , وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ , فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ" , قَالُوا وَذَلِكَ! مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ذِكْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے مالک کی نگاہوں میں سب سے بہتر عمل " جو درجات میں سب سے زیادہ بلندی کا سبب ہو تمہارے لئے سونے چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہو اور اس سے بہتر ہو کہ میدان جنگ میں دشمن سے تمہارا آمنا سامنا ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں " نہ بتادو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون سا عمل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21702]
حکم دارالسلام
رفعه لا يصح، والصحيح وقفه على ابي الدرداء، فقد اختلف فى رفعه ووقفه، وفي ارساله ووصله
الحكم: رفعه لا يصح، والصحيح وقفه على ابي الدرداء، فقد اختلف فى رفعه ووقفه، وفي ارساله ووصله
حدیث نمبر: 21703 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ , أَوْ طَرَفِ فُسْطَاطٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّ صَاحِبَهَا يُلِمُّ بِهَا" , قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ , كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟! وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهَا وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟! .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک خیمے کے باہر ایک عورت کو دیکھا جس کے یہاں بچے کی پیدائش کا زمانہ قریب آچکا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لگتا ہے کہ اس کا مالک اس کے "" قریب "" جانا چاہتا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر تک جائے یہ اسے کیسے اپنا وارث بنا سکتا ہے جب کہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں اور کیسے اس سے خدمت لے سکتا ہے جبکہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21703]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1441
الحكم: إسناده صحيح، م: 1441
حدیث نمبر: 21704 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , حَدِيثًا يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ , يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ" فَذَكَرَ الْحَدِيث يَعْنِي حَدِيثَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , وَمَكِّيٍّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21704]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، زياد بن أبى زياد لم يسمع من أبى الدرداء
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، زياد بن أبى زياد لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21705 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، مَعْدَانَ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ شُعْبَةَ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيَعْجَبُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ" , قَالُوا: كَيْفَ يُطِيقُ ذَلِكَ أَوْ مَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ:" قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کیا تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑہنے سے عاجز ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سورت اخلاص پڑھ لیا کرو (کہ وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21705]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 811
الحكم: إسناده صحيح، م: 811
حدیث نمبر: 21706 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، رَجُلٌ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ سُفْيَانَ , حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ , عَنِ الضَّبُعِ , فَكَرِهَهَا , فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ يَأْكُلُونَهُ! قَالَ: لَا يَعْلَمُونَ , فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نُهْبَةٍ , وَكُلِّ ذِي خَطْفَةٍ , وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" , قَالَ سَعِيدٌ: صَدَقَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے گوہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ کی قوم تو اسے کھاتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ انہیں معلوم نہیں ہوگا اس پر وہاں موجود ایک آدمی نے کہا کہ میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر اس جانور سے منع فرمایا ہے جو لوٹ مار سے حاصل ہو جسے اچک لیا گیا ہو یا ہر وہ درندہ جو اپنے کچلی والے دانتوں سے شکار کرتا ہو حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اس کی تصدیق فرمائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21706]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن يزيد وإبهام الرجل الذى روى الحديث عن أبى الدرداء
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن يزيد وإبهام الرجل الذى روى الحديث عن أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21707 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، أُمَّ الدَّرْدَاءِ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَيَعْلَى ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، صَفْوَانَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ , قَالَ: وَكَانَتْ تَحْتَهُ الدَّرْدَاءُ , قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ , فَدَخَلْتُ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَلَمْ أَجِدْهُ , وَوَجَدْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , فَقَالَتْ: تُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ , فَقَالَتْ: فَادْعُ لَنَا بِخَيْرٍ , فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ دَعْوَةَ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ , عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ , كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ: آمِينَ , وَلَكَ بِمِثْل" , فَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ , فَأَلْقَى أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ يَأْثُرُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , وَيَعْلَى , قَالَا: حدثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ صَفْوَانَ , قَالَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
صفوان بن عبداللہ " جن کے نکاح میں " درداء تھیں " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام آیا اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن وہ گھر پر نہیں ملے البتہ ان کی اہلیہ موجود تھیں، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا اس سال تمہارا حج کا ارادہ ہے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا، انہوں نے فرمایا کہ ہمارے لئے بھی خیر کی دعاء کرنا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی پیٹھ پیچھے جو دعاء کرتا ہے وہ قبول ہوتی ہے اور اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ اس مقصد کے لئے مقرر ہوتا ہے کہ جب بھی وہ اپنے بھائی کے لئے خیر کی دعاء مانگے تو وہ اس پر آمین کہتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ تمہیں بھی یہی نصیب ہو۔ پھر میں بازار کی طرف نکلا تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے بھی ملاقات ہوگئی انہوں نے بھی مجھ سے یہی کہا اور یہی حدیث انہوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے سنائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21707]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2732
الحكم: إسناده صحيح، م: 2732
حدیث نمبر: 21708 مسند احمد
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَيَعْلَى قَالَا: حدثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ صَفْوَانَ قَالَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَذَكَرَهُ
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2732
الحكم: إسناده صحيح، م: 2732
حدیث نمبر: 21709 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، مَالِك يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، الْحَكَمِ ، أَبِي عُمَرَ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا مَالِك يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ , عَنِ الْحَكَمِ , عَنْ أَبِي عُمَرَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: نَزَلَ بِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَجُلٌ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: مُقِيمٌ فَنَسْرَحَ , أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفَ؟ قَالَ: بَلْ ظَاعِنٌ , قَالَ: فَإِنِّي سَأُزَوِّدُكَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهُ لَزَوَّدْتُكَ , أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , نُصَلِّي وَيُصَلُّونَ , وَنَصُومُ وَيَصُومُونَ , وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ , قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى شَيْءٍ إِنْ أَنْتَ فَعَلْتَهُ , لَمْ يَسْبِقْكَ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَكَ , وَلَمْ يُدْرِكْكَ أَحَدٌ بَعْدَكَ , إِلَّا مَنْ فَعَلَ الَّذِي تَفْعَلُ: دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً , وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً , وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے یہاں آیا انہوں نے پوچھا کہ تم مقیم ہو کہ ہم تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں یا مسافر ہو کہ تمہیں زاد راہ دیں؟ اس نے کہا کہ میں مسافر ہوں، انہوں نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی چیز زاد راہ کے طور پر دیتا ہوں جس سے افضل اگر کوئی چیز مجھے ملتی تو میں تمہیں وہی دیتا، ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مالدار تو دنیا و آخرت دونوں لے گئے ہم بھی نماز پڑھتے ہیں اور وہ بھی پڑھتے ہیں، ہم بھی روزے رکھتے ہیں اور وہ بھی رکھتے ہیں، البتہ وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرسکتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتادوں کہ اگر تم اس پر عمل کرلو تو تم سے پہلے والا کوئی تم سے آگے نہ بڑھ سکے اور پیچھے والا تمہیں پا نہ سکے الاّ یہ کہ کوئی آدمی تمہاری ہی طرح عمل کرنے لگے ہر نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ الحمد اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21709]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف، أبو عمر مستور، وروايته
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف، أبو عمر مستور، وروايته
حدیث نمبر: 21710 مسند احمد
وَكِيعٌ ، زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنِي زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ , حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ , قَالَ: قَالَ لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَيْنَ مَسْكَنُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: فِي قَرْيَةٍ دُونَ حِمْصَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ لَا يُؤَذَّنُ وَلَا تُقَامُ فِيهِمْ الصَّلَاةُ إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمْ الشَّيْطَانُ , فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ , فَإِنَّ الذِّئْبَ يَأْكُلُ الْقَاصِيَةَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معدان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاری رہائش کہاں ہے؟ میں نے بتایا کہ حمص سے پیچھے ایک بستی میں انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس بستی میں تین آدمی ہوں اور وہاں اذان اور اقامت نماز نہ ہوتی ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے، لہٰذا تم جماعت مسلمین کو اپنے اوپر لازم پکڑو کیونکہ اکیلی بکری کو بھیڑیا کھا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21710]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21711 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَيْضًا , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ , فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21711]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن