يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ , أَوْ طَرَفِ فُسْطَاطٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّ صَاحِبَهَا يُلِمُّ بِهَا" , قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ , كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟! وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهَا وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟! .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک خیمے کے باہر ایک عورت کو دیکھا جس کے یہاں بچے کی پیدائش کا زمانہ قریب آچکا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لگتا ہے کہ اس کا مالک اس کے "" قریب "" جانا چاہتا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر تک جائے یہ اسے کیسے اپنا وارث بنا سکتا ہے جب کہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں اور کیسے اس سے خدمت لے سکتا ہے جبکہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21703]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1441
الحكم: إسناده صحيح، م: 1441