بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَاقِي حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 50
صفحہ 2 از 3
حدیث نمبر: 21712 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أخبرنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ , عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص سورت کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21712]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 809
الحكم: إسناده صحيح، م: 809
حدیث نمبر: 21713 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، ابْنِ نُعَيْمَانَ ، بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ , عَنْ ابْنِ نُعَيْمَانَ , عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ جَذَعَيْنِ مُوجِيَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ چھ ماہ کے دو خصی مینڈھوں کی قربانی فرمائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21713]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، وابن نعمان مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، وابن نعمان مجهول
حدیث نمبر: 21714 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، أَبُو شِهَابٍ ، الْحَجَّاجِ ، يَعْلَى بْنِ نُعْمَانَ ، بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ , عَنِ الْحَجَّاجِ , عَنْ يَعْلَى بْنِ نُعْمَانَ , عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ جَذَعَيْنِ خَصِيَّيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ چھ ماہ کے دو خصی مینڈھوں کی قربانی فرمائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21714]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، وابن نعمان مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، وابن نعمان مجهول
حدیث نمبر: 21715 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، قَيْسِ بْنِ كَثِيرٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , أخبرنا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ قَيْسِ بْنِ كَثِيرٍ , قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ وَهُوَ بِدِمَشْقَ , فَقَالَ: مَا أَقْدَمَكَ أَيْ أَخِي؟ قَالَ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: أَمَا قَدِمْتَ لِتِجَارَةٍ؟ قَالَ: لَا , قَالَ: أَمَا قَدِمْتَ لِحَاجَةٍ؟ قَالَ: لَا , قَالَ: مَا قَدِمْتَ إِلَّا فِي طَلَبِ هَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ , وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ , وَإِنَّهُ لَيَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِمِ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ , وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ , كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ , إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ , لَمْ يَرِثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا , وَإِنَّمَا وَرِثُوا الْعِلْمَ , فَمَنْ أَخَذ به , أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس بن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ سے ایک آدمی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق میں آیا انہوں نے آنے والے سے پوچھا کہ بھائی! کیسے آنا ہوا؟ اس نے کہا کہ ایک حدیث معلوم کرنے کے لئے جس کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ وہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے پوچھا کیا آپ کسی تجارت کے سلسلے میں نہیں آئے؟ اس نے کہا نہیں انہوں نے پوچھا کسی اور کام کے لئے؟ اس نے کہا نہیں، انہوں نے پوچھا کیا آپ صرف اسی حدیث کے طلب میں آئے ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص طلب علم کے لئے کسی راستے میں چلتا ہے اللہ اسے جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے اور فرشتے اس طالب علم کی خوشنودی کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور عالم کے لئے زمین و آسمان کی ساری مخلوقات بخشش کی دعائیں کرتی ہیں اور عالم کی عابد پر فضیلت ایسے ہی ہے جیسے چاند کی دوسرے ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کرام کے وارث ہوتے ہیں جو وراثت میں دینار و درہم نہیں چھوڑتے، بلکہ وہ تو وراثت میں علم چھوڑ کر جاتے ہیں، سو جو اسے حاصل کرلیتا ہے وہ اس کا بہت سا حصہ حاصل کرلیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21715]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف قيس بن كثير ، وعاصم بن رجاء لم سمعه من قيس
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف قيس بن كثير ، وعاصم بن رجاء لم سمعه من قيس
حدیث نمبر: 21716 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ ، كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ , قَال: أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21716]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف كثير بن قيس وداود بن جميل
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف كثير بن قيس وداود بن جميل
حدیث نمبر: 21717 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَمَرَتْهُ أُمُّهُ , أَوْ أَبُوهُ , أَوْ كِلَاهُمَا , قَالَ: شُعْبَةُ يَقُولُ ذَلِكَ أَنْ يُطَلِّقَ امْرَأَتَهُ , فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِائَةَ مُحَرَّر , فَأَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي الضُّحَى يطيلها , وَصَلَّى مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ , فَسَأَلَهُ , فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَوْفِ نَذْرَكَ , وَبَرَّ وَالِدَيْكَ , إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْوَالِدُ أَوْسَطُ بَابِ الْجَنَّةِ" فَحَافِظْ عَلَى الْوَالِدِ , أَوْ اتْرُكْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی کو اس کی ماں یا باپ یا دونوں نے حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے (اس نے انکار کردیا اور) کہا کہ اگر اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اس پر سو غلام آزاد کرنا واجب ہوں گے، پھر وہ آدمی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو وہ چاشت کی لمبی نماز پڑھ رہے تھے پھر انہوں نے ظہر اور عصر کے درمیان نماز پڑھی پھر اس شخص نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا اپنی منت پوری کرلو (سو غلام آزاد کردو) اور اپنے والدین کی بات مانو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے اب تمہاری مرضی ہے کہ اس کی حفاظت کرو یا اسے چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21717]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21718 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عطاء بن السائب ، أَبَا إِسْحَاقَ ، أَبَا حَبِيبَةَ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عن عطاء بن السائب , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا حَبِيبَةَ , قَالَ: أَوْصَى رَجُلٌ بِدَنَانِيرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , فَسُئِلَ أَبُو الدَّرْدَاءِ , فَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ أَوْ يَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِهِ , مَثَلُ الَّذِي يُهْدِي بَعْدَمَا يَشْبَعُ" , قَالَ أَبُو حَبِيبَةَ: فَأَصَابَنِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو حبیبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے مال میں سے کچھ دینا اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی وصیت کی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ جو شخص مرتے وقت کسی غلام کو آزاد کرتا یا صدقہ خیرات کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو خوب سیراب ہونے کے بعد بچ جانے والی چیز کو ہدیہ کر دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21718]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى حبيبة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى حبيبة
حدیث نمبر: 21719 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ , قَالَ: أَوْصَى إِلَيَّ أَخِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ , قَالَ: فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَقُلْتُ: إِنَّ أَخِي أَوْصَانِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ , فَأَيْنَ أَضَعُهُ , فِي الْفُقَرَاءِ , أَوْ فِي الْمُجَاهِدِينَ , أَوْ فِي الْمَسَاكِينَ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُجَاهِدِينَ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ مَثَلُ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو حبیبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے مال میں سے کچھ دینار اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی وصیت کی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ جو شخص مرتے وقت کسی غلام کو آزاد کرتا یا صدقہ خیرات کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو خوب سیراب ہونے کے بعد بچ جانے والی چیز کو ہدیہ کر دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21719]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى حبيبة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى حبيبة
حدیث نمبر: 21720 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ , عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَجَبَتْ هَذِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہر نماز میں قرأت ہوتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! تو ایک انصاری نے کہا کہ یہ تو واجب ہوگئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21720]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21721 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، هِمامٌ ، قَتَادَةَ ، خُلَيْدٍ الْعَصَرِيِّ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا هِمامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ خُلَيْدٍ الْعَصَرِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ , يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ , فَإِنَّ مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى , وَلَا آبَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ , يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا , وَأَعْطِ مُمْسِكًا مَالًا تَلَفًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب بھی سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے دونوں پہلوؤں میں دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں جو یہ منادی کرتے ہیں " اور اس منادی کو جن وانس کے علاوہ تمام اہل زمین سنتے ہیں " کہ اے لوگو! اپنے رب کی طرف آؤ کیونکہ وہ تھوڑا جو کافی ہوجائے، اس زیادہ سے بہتر ہے جو غفلت میں ڈال دے اسی طرح جب بھی سورج غروب ہوتا ہے تو اس کے دونوں پہلوؤں میں دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں جو یہ منادی کرتے ہیں اور اس منادی کو بھی جن وانس کے علاوہ تمام اہل زمین سنتے ہیں " کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا نعم البدل عطاء فرما اور اے اللہ! روک کر رکھنے والے کے مال کو ہلاک فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21721]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21722 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَبِي حَلْبَسٍ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي حَلْبَسٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَغَ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَلْقِهِ مِنْ خَمْسٍ: مِنْ أَجَلِهِ , وَعَمَلِهِ , وَمَضْجَعِهِ , وَأَثَرِهِ , وَرِزْقِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ہر بندے کی تخلیق میں پانچ چیزیں لکھ چکا ہے اس کی عمر، عمل، ٹھکانہ اثر اور اس کا رزق۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21722]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الفرج بن فضالة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الفرج بن فضالة، وقد توبع
حدیث نمبر: 21723 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ، خَالِدُ بْنُ صُبَيْحٍ الْمُرِّيُّ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أُمَّ الدَّرْدَاءِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ صُبَيْحٍ الْمُرِّيُّ , قَاضِي الْبَلْقَاءِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ تُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فَرَغَ اللَّهُ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَمْسٍ: مِنْ أَجَلِهِ , وَرِزْقِه , وَأَثَرِهِ , وَشَقِيٍّ أَمْ سَعِيدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر بندے کی تخلیق میں پانچ چیزیں لکھ چکا ہے اس کی عمر، عمل، اثر اور اس کا رزق اور یہ کہ وہ شقی ہوگا یا سعید۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21723]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21724 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامٍ ، شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامٍ , حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ , أَنَّهُ زَارَ أَبَا الدَّرْدَاءِ بِحِمْصَ , فَمَكَثَ عِنْدَهُ لَيَالِيَ , فأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَأُوكِفَ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: مَا أَرَانِي إِلَّا مُتَّبِعَكَ , فَأَمَرَ بِحِمَارِهِ , فَأُسْرِجَ فَسَارَا جَمِيعًا عَلَى حِمَارَيْهِمَا , فَلَقِيَا رَجُلًا شَهِدَ الْجُمُعَةَ بِالْأَمْسِ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بِالْجَابِيَةِ , فَعَرَفَهُمَا الرَّجُلُ وَلَمْ يَعْرِفَاهُ , فَأَخْبَرَهُمَا خَبَرَ النَّاسِ , ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ قَالَ: وَخَبَرٌ آخَرُ كَرِهْتُ أَنْ أُخْبِرَكُمَا , أُرَاكُمَا تَكْرَهَانِهِ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: فَلَعَلَّ أَبَا ذَرٍّ نُفِيَ , قَالَ: نَعَمْ , وَاللَّهِ فَاسْتَرْجَعَ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَصَاحِبُهُ قَرِيبًا مِنْ عَشْرِ مَرَّاتٍ , ثُمَّ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : ارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ كَمَا قِيلَ لِأَصْحَابِ النَّاقَةِ , اللَّهُمَّ إِنْ كَذَّبُوا أَبَا ذَرٍّ فَإِنِّي لَا أُكَذِّبُهُ , اللَّهُمَّ وَإِنْ اتَّهَمُوهُ فَإِنِّي لَا أَتَّهِمُهُ , اللَّهُمَّ وَإِنْ اسْتَغَشُّوهُ فَإِنِّي لَا أَسْتَغِشُّهُ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتَمِنُهُ حِينَ لَا يَأْتَمِنُ أَحَدًا , وَيُسِرُّ إِلَيْهِ حِينَ لَا يُسِرُّ إِلَى أَحَدٍ , أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الدَّرْدَاءِ بِيَدِهِ , لَوْ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَطَعَ يَمِينِي مَا أَبْغَضْتُهُ بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا أَظَلَّتْ الْخَضْرَاءُ , وَلَا أَقَلَّتْ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے " حمص " گئے اور چند دن تک ان کے یہاں قیام کیا پھر حکم دیا تو ان کے گدھے پر پلان لگا دیا گیا، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی تمہارے ساتھ ہی چلوں گا، چنانچہ ان کے حکم پر ان کے گدھے پر بھی زین کس دی گئی اور وہ دونوں اپنی اپنی سواری پر سوار ہو کر چل پڑے، راستے میں انہیں ایک آدمی ملا جس نے گزشتہ دن جمعے کی نماز حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جابیہ میں پڑھی تھی، اس نے ان دونوں کو پہچان لیا لیکن وہ دونوں اسے نہ پہچان سکے، اس نے انہیں وہاں کے لوگوں کے حالات بتائے پھر کہنے لگا کہ ایک خبر اور بھی ہے لیکن وہ آپ کو بتانا مجھے اچھا محسوس نہیں ہو رہا ہے کیونکہ میرا خیال ہے کہ اس سے آپ کی طبیعت پر بوجھ ہوگا حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا شاید حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو جلا وطن کردیا گیا ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! یہی خبر ہے۔ اس پر حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی نے تقریباً دس مرتبہ " انا للہ " پڑھا پھر حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم اسی طرح انتظار اور صبر کرو جیسے اونٹنی والوں (قوم ثمود) سے کہا گیا تھا اے اللہ! اگر یہ لوگ ابوذر کو جھٹلا رہے ہیں تو میں ابوذر کو جھٹلانے والوں میں شامل نہیں ہوں، اے اللہ! اگر وہ تہمت لگا رہے ہیں تو میں انہیں متہم نہیں کرتا، اے اللہ اگر وہ ان پر چھا رہے ہیں تو میں ایسا نہیں کر رہا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت انہیں امین قرار دیتے تھے جب کسی کو امین قرار نہیں دیتے تھے اس وقت ان کے پاس خود چل کر جاتے تھے جب کسی کے پاس نہیں جاتے تھے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابودرداء رضی اللہ عنہ کی جان ہے اگر ابوذر میرا داہنا ہاتھ بھی کاٹ دیں تو میں ان سے کبھی بغض نہیں کروں گا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے آسمان کے سایہ تلے اور روئے زمین پر ابوذر رضی اللہ عنہ زیادہ سچا آدمی کوئی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21724]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، والمرفوع فى آخره حسن لغيره
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، والمرفوع فى آخره حسن لغيره
حدیث نمبر: 21725 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ ، جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ , قَالَ: سَمِعْتُ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ الْغُوطَةُ , إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا: دِمَشْقُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا شہر غوطہ میں جنگ کے موقع پر مسلمانوں کا خیمہ (مرکز) " دمشق " نامی شہر کے پہلو میں ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21725]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21726 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَرِيكٌ ، عَطَاءٍ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ , قَالَ: أَتَى رَجُلٌ أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي بِنْتُ عَمِّي وَأَنَا أُحِبُّهَا , وَإِنَّ وَالِدَتِي تَأْمُرُنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا , فَقَالَ: لَا آمُرُكَ أَنْ تُطَلِّقَهَا , وَلَا آمُرُكَ أَنْ تَعْصِيَ وَالِدَتَكَ , وَلَكِنْ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْوَالِدَةَ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ" فَإِنْ شِئْتَ فَأَمْسِكْ , وَإِنْ شِئْتَ فَدَعْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیوی میرے چچا کی بیٹی ہے مجھے اس سے بڑی محبت ہے لیکن میری والدہ مجھے حکم دیتی ہے کہ میں اسے طلاق دے دوں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو اور نہ یہ کہ اپنی والدہ کی نافرمانی کرو البتہ میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے کہ والدہ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے اب تم چاہو تو اسے روک کر رکھو اور چاہو تو چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21726]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، وقد توبع
حدیث نمبر: 21727 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو ضَمْرَةَ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو ضَمْرَةَ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ سورة فاطر آية 32 فَأَمَّا الَّذِينَ سَبَقُوا بِالْخَيْرَاتِ , فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ , وَأَمَّا الَّذِينَ اقْتَصَدُوا , فَأُولَئِكَ يُحَاسَبُونَ حِسَابًا يَسِيرًا , وَأَمَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ , فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يُحاَسبُونَ فِي طُولِ الْمَحْشَرِ , ثُمَّ هُمْ الَّذِينَ تَلَافَاهُمْ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ , فَهُمْ الَّذِينَ يَقُولُونَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ إِلَى قَوْلِهِ لُغُوبٌ سورة فاطر آية 34 - 35" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثابت یا ابوثابت سے مروی ہے کہ ایک آدمی مسجد دمشق میں داخل ہوا اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ! مجھے تنہائی میں کوئی مونس عطاء فرما میری اجنبیت پر ترس کھا اور مجھے اچھا رفیق عطاء فرما، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اس کی یہ دعاء سن لی اور فرمایا کہ تم یہ دعاء صدق دل سے کر رہے ہو تو اس دعاء کا میں تم سے زیادہ سعادت یافتہ ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قرآن کریم کی اس آیت فمنہم ظالم لنفسہ کی تفسیر میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ظالم سے اس کے اعمال کا حساب کتاب اسی کے مقام پر لیا جائے گا اور یہی غم اندوہ ہوگا منہم مقتصد یعنی کچھ لوگ درمیانے درجے کے ہوں گے، ان کا آسان حساب لیا جائے گا ومنہم سابق بالخیرات باذن اللہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جنت میں بلاحساب کتاب داخل ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21727]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه بين على بن عبدالله وأبي الدرداء
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه بين على بن عبدالله وأبي الدرداء
حدیث نمبر: 21728 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ: بِالصِّحَّةِ لَا بِالْمَرَضِ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الصُّدَاعَ وَالْمَلِيلَةَ لَا تَزَالُ بِالْمُؤْمِنِ وَإِنَّ ذَنْبَهُ مِثْلُ أُحُدٍ , فَمَا تَدَعُهُ وَعَلَيْهِ مِنْ ذَلِكَ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس جہنی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے تو انہیں دعاء دی کہ اللہ آپ کو ہر مرض سے بچا کر صحت کے ساتھ رکھے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان آدمی سر درد اور دیگر بیماریوں میں مسلسل مبتلا ہوتا رہتا ہے اور اس کے گناہ احد پہاڑ کے برابر ہوتے ہیں لیکن یہ بیماریاں اسے اس وقت چھوڑتی ہیں جب اس پر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی گناہ نہیں رہتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21728]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد انقلب عليه اسم الراوي معاذ بن سهل، ثم زاد فيه: عن جده، وهو خطأ، وصوابه: سهل بن معاذ، عن أبيه
الحكم: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد انقلب عليه اسم الراوي معاذ بن سهل، ثم زاد فيه: عن جده، وهو خطأ، وصوابه: سهل بن معاذ، عن أبيه
حدیث نمبر: 21729 مسند احمد
مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , وَلَبِسَ ثِيَابَهُ , وَمَسَّ طِيبًا إِنْ كَانَ عِنْدَهُ , ثُمَّ مَشَى إِلَى الْجُمُعَةِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ , وَلَمْ يَتَخَطَّ أَحَدًا , وَلَمْ يُؤْذِهِ , وَرَكَعَ مَا قُضِيَ لَهُ , ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ , غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص غسل کرے یا طہارت حاصل کرے اور خوب اچھی طرح کرے عمدہ کپڑے پہنے، خوشبو یا تیل لگائے، پھر جمعہ کے لئے آئے کوئی لغو حرکت نہ کرے کسی دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے اس کے اگلے جمعہ تک سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21729]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، حرب بن قيس لم يسمع من أبى الدرداء
الحكم: صحيح لغيره وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، حرب بن قيس لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21730 مسند احمد
مَكِّيٌّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا عَلَى الْمِنْبَرِ , فَخَطَبَ النَّاسَ وَتَلَا آيَةً , وَإِلَى جَنْبِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ , فَقُلْتُ لَهُ: يَا أُبَيُّ , مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ؟ قَالَ: فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي , ثُمَّ سَأَلْتُهُ , فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي , حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَال لِي أُبَيٌّ: مَا لَكَ مِنْ جُمُعَتِكَ إِلَّا مَا لَغَيْتَ , فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ , فَقُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ تَلَوْتَ آيَةً وَإِلَى جَنْبِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ , فَسَأَلْتُهُ مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ؟ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي حَتَّى إِذَا نَزَلْتَ زَعَمَ أُبَيٌّ , أَنَّهُ لَيْسَ لِي مِنْ جُمُعَتِي إِلَّا مَا لَغَيْتُ؟ فَقَالَ: " صَدَقَ أُبَيٌّ , فَإِذَا سَمِعْتَ إِمَامَكَ يَتَكَلَّمُ فَأَنْصِتْ حَتَّى يَفْرُغَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برسر منبر سورت برأت کی تلاوت فرمائی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر اللہ کے احسانات کا تذکرہ فرما رہے تھے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ان کے ہمراہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ اور ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے ایک نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ کو چٹکی بھری اور کہا کہ ابی! یہ سورت کب نازل ہوئی ہے؟ یہ تو میں ابھی سن رہا ہوں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے انہیں اشارے سے خاموش رہنے کا حکم دیا۔ نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے کہا کہ میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ یہ سورت کب نازل ہوئی تو آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا آج تو تمہاری نماز صرف اتنی ہی ہوئی ہے جتنا تم نے اس میں یہ لغو کام کیا وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلے گئے اور حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی یہ بات ذکر کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابی نے سچ کہا۔ جب تم امام کو گفتگو کرتے ہوئے دیکھو تو خاموش ہوجایا کرو یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21730]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، حرب بن قيس لم يسمع من أبى الدرداء
الحكم: صحيح لغيره وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، حرب بن قيس لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21731 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِر ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِر . وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أخبرنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ , عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَبْغُونِي ضُعَفَاءَكُمْ , فَإِنَّكُمْ إِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنے کمزوروں کو تلاش کر کے میرے پاس لایا کرو کیونکہ تمہیں رزق اور فتح ونصرت تمہارے کمزوروں کی برکت سے ملتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21731]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح