حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَرِيكٌ ، عَطَاءٍ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ , قَالَ: أَتَى رَجُلٌ أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي بِنْتُ عَمِّي وَأَنَا أُحِبُّهَا , وَإِنَّ وَالِدَتِي تَأْمُرُنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا , فَقَالَ: لَا آمُرُكَ أَنْ تُطَلِّقَهَا , وَلَا آمُرُكَ أَنْ تَعْصِيَ وَالِدَتَكَ , وَلَكِنْ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْوَالِدَةَ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ" فَإِنْ شِئْتَ فَأَمْسِكْ , وَإِنْ شِئْتَ فَدَعْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیوی میرے چچا کی بیٹی ہے مجھے اس سے بڑی محبت ہے لیکن میری والدہ مجھے حکم دیتی ہے کہ میں اسے طلاق دے دوں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو اور نہ یہ کہ اپنی والدہ کی نافرمانی کرو البتہ میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے کہ والدہ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے اب تم چاہو تو اسے روک کر رکھو اور چاہو تو چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21726]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، وقد توبع