بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 52
صفحہ 2 از 3
حدیث نمبر: 19783 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ ، شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ ، أَبَا بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُحَدِّثُنِي عَنْ الْخَوَارِجِ، فَلَقِيتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَرْزَةَ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ فِي الْخَوَارِجِ , فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَرَأَتْ عَيْنَايَ، أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِيرَ، فَكَانَ يَقْسِمُهَا، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ أَسْوَدُ، مَطْمُومُ الشَّعْرِ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ، فَتَعَرَّضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا، ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ، فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا، فَقَالَ: وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ فِي الْقِسْمَةِ , فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا، ثُمَّ قَالَ: " وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَحَدًا أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ مِنِّي"، قَالَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:" يَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ رِجَالٌ كَانَ هَذَا مِنْهُمْ، هَدْيُهُمْ هَكَذَا: يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ" , وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ:" سِيمَاهُمْ التَّحْلِيقُ، لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ , قَالَهَا ثَلَاثًا , شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ" قَالَهَا ثَلَاثًا , وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ:" لَا يَرْجِعُونَ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریک بن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری یہ خواہش تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی صحابی سے ملاقات ہوجائے اور وہ مجھ سے خوارج کے متعلق حدیث بیان کریں، چناچہ یوم عرفہ کے موقع پر حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے ان کے چند ساتھیوں کے ساتھ میری ملاقات ہوگئی، میں نے ان سے عرض کیا اے ابوبرزہ! خوارج کے حوالے سے آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اگر کچھ فرماتے ہوئے سنا ہو تو وہ حدیث ہمیں بھی بتائیے، انہوں نے فرمایا میں تم سے وہ حدیث بیان کرتا ہوں جو میرے کانوں نے سنی اور میری آنکھوں نے دیکھی۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہیں سے کچھ دینار آئے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ تقسیم فرما رہے تھے، وہاں ایک سیاہ فام آدمی بھی تھا جس کے بال کٹے ہوئے تھے، اس نے دو سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) سجدے کے نشانات تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کچھ نہیں دیا، دائیں جانب سے آیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ نہیں دیا، بائیں جانب سے اور پیچھے سے آیاتب بھی کچھ نہیں دیا، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگا واللہ اے محمد! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، آج آپ جب سے تقسیم کر رہے ہیں، آپ نے انصاف نہیں کیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شدید غصہ آیا اور فرمایا بخدا! میرے بعد تم مجھ سے زیادہ عادل کسی کو نہ پاؤ گے، یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا پھر فرمایا کہ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ نکلیں گے، غالباً یہ بھی ان ہی میں سے ہے اور ان کی شکل و صورت بھی ایسی ہی ہوگی، یہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہونگے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ اس کی طرف لوٹ کر نہیں آئنگے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا، ان کی علامت سر منڈانا ہوگی، یہ لوگ ہر زمانے میں نکلتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری شخص بھی نکل آئے گا، جب تم انہیں دیکھنا تو انہیں قتل کردینا، تین مرتبہ فرمایا اور یہ لوگ بدترین مخلوق ہیں، تین مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19783]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: حتى يخرج آخرهم ، وإسناد هذا الحديث ضعيف لجهالة شريك بن شهاب
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: حتى يخرج آخرهم ، وإسناد هذا الحديث ضعيف لجهالة شريك بن شهاب
حدیث نمبر: 19784 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ , أَنَّ جُلَيْبِيبًا كَانَ امْرَأً يَدْخُلُ عَلَى النِّسَاءِ , قَالَ: وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ إِذَا كَانَ لِأَحَدِهِمْ أَيِّمٌ، لَمْ يُزَوِّجْهَا حَتَّى يَعْلَمَ , هَلْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا حَاجَةٌ أَمْ لَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ: " زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ" فَقَالَ: نِعِمَّ وَكَرَامَةٌ , يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَنُعْمَ عَيْنِي , قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ أُرِيدُهَا لِنَفْسِي" , قَالَ: فَلِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لِجُلَيْبِيبٍ" , قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُشَاوِرُ أُمَّهَا , فَأَتَى أُمَّهَا، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ابْنَتَكِ , فَقَالَتْ: نِعِمَّ وَنُعْمَةُ عَيْنِي , فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ يَخْطُبُهَا لِنَفْسِهِ، إِنَّمَا يَخْطُبُهَا لِجُلَيْبِيبٍ , فَقَالَتْ: أَجُلَيْبِيبٌ ابنه؟ أَجُلَيْبِيبٌ ابنه؟ أَجُلَيْبِيبٌ ابنه؟ لَا لَعَمْرُ اللَّهِ، لَا نُزَوَّجُهُ , فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ لِيَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فيُخْبِرَهُ بِمَا قَالَتْ أُمُّهَا، قَالَتْ الْجَارِيَةُ: مَنْ خَطَبَنِي إِلَيْكُمْ؟ فَأَخْبَرَتْهَا أُمُّهَا , فَقَالَتْ: أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ، ادْفَعُونِي، فَإِنَّهُ لَمْ يُضَيِّعْنِي , فَانْطَلَقَ أَبُوهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فقَالَ:" شَأْنَكَ بِهَا" , فَزَوَّجَهَا جُلَيْبِيبًا . قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ لَهُ، قَالَ: فَلَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ: " هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟" قَالُوا: نَفْقِدُ فُلَانًا، وَنَفْقِدُ فُلَانًا , قَالَ:" انْظُرُوا هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟" قَالُوا: لَا , قَالَ:" لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا" قَالَ:" فَاطْلُبُوهُ فِي الْقَتْلَى" , قَالَ: فَطَلَبُوهُ، فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَا هُوَ ذَا إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوهُ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" قَتَلَ سَبْعَةً وَقَتَلُوهُ، هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَاعِدَيْهِ، وَحُفِرَ لَهُ، مَا لَهُ سَرِيرٌ إِلَّا سَاعِدَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَضَعَهُ فِي قَبْرِهِ , وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُ غَسَّلَهُ . قَالَ ثَابِتٌ: فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقَ مِنْهَا , وَحَدَّثَ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , ثَابِتًا، قَالَ: هَلْ تَعْلَمْ مَا دَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " اللَّهُمَّ صُبَّ عَلَيْهَا الْخَيْرَ صَبًّا، وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهَا كَدًّا كَدًّا" , قَالَ: فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقَ مِنْهَا , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَا حَدَّثَ بِهِ فِي الدُّنْيَا أَحَدٌ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، مَا أَحْسَنَهُ مِنْ حَدِيثٍ!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جلیبیب عورتوں کے پاس سے گذرتا اور انہیں تفریح مہیا کرتا تھا، میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا تھا کہ تمہارے پاس جلیبیب کو نہیں آنا چاہیے، اگر وہ آیا تو میں ایسا ایسا کردوں گا، انصار کی عادت تھی کہ وہ کسی بیوہ عورت کی شادی اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس سے مطلع نہ کردیتے، کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تو اس سے کوئی ضرورت نہیں ہے، چناچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک انصاری آدمی سے کہا کہ اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کردو، اس نے کہا زہے نصیب یا رسول اللہ! بہت بہتر، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اپنی ذات کے لئے اس کا مطالبہ نہیں کر رہا، اس نے پوچھا یارسول اللہ! پھر کس کے لئے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جلیبیب کے لئے، اس نے کہا یارسول اللہ! میں لڑکی کی ماں سے مشورہ کرلوں، چناچہ وہ اس کی ماں کے پاس پہنچا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے لئے پیغام نہیں دے رہے بلکہ جلیبیب کے لئے پیغام دے رہے ہیں، اس نے فوراً انکار کرتے ہوئے کہہ دیا بخدا! کسی صورت میں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جلیبیب کے علاوہ اور کوئی نہیں ملا، ہم نے تو فلاں فلاں رشتے سے انکار کردیا تھا، ادھر وہ لڑکی اپنے پردے میں سے سن رہی تھی۔ باہم صلاح و مشورے کے بعد جب وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس سے مطلع کرنے کے لئے روانہ ہونے لگا تو وہ لڑکی کہنے لگی کہ کیا آپ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات کو رد کریں گے، اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رضا مندی اس میں شامل ہے تو آپ نکاح کردیں، یہ کہہ کر اس نے اپنے والدین کی آنکھیں کھول دیں اور وہ کہنے لگے کہ تم سچ کہہ رہی ہو، چناچہ اس کا باپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اگر آپ اس رشتے سے راضی ہیں تو ہم بھی راضی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں راضی ہوں، چناچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جلیبیب سے اس لڑکی کا نکاح کردیا، کچھ ہی عرصے بعد اہل مدینہ پر حملہ ہوا، جلیبیب بھی سوار ہو کر نکلے۔ جب جنگ سے فراغت ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ تم کسی کو غائب پا رہے ہو، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! فلاں فلاں لوگ ہمیں نہیں مل رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لیکن مجھے جلیبیب غائب نظر آ رہا ہے، اسے تلاش کرو، لوگوں نے انہیں تلاش کیا تو وہ سات آدمیوں کے پاس مل گئے، حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ نے ان ساتوں کو قتل کیا تھا بعد میں خود بھی شہید ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا اس نے سات آدمیوں کو قتل کیا ہے، بعد میں مشرکین نے اسے شہید کردیا، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، یہ جملے دو تین مرتبہ دہرائے، پھر جب اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اٹھایا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اپنے بازوؤں پر اٹھا لیا اور تدفین تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دونوں بازو ہی تھے جو ان کے لئے جنازے کی چارپائی تھی، راوی نے غسل کا ذکر نہیں کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19784]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19785 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، أَبَا الْوَازِعِ جَابِرًا الرَّاسِبِيَّ ، أَبَا بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَازِعِ جَابِرًا الرَّاسِبِيَّ ذَكَرَ , أَنَّ أَبَا بَرْزَةَ حَدَّثَهُ، قَال: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَدْرِي، لَعَسَى أَنْ تَمْضِيَ وَأَبْقَى بَعْدَكَ، فَحَدِّثْنِي بِشَيْءٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" افْعَلْ كَذَا، افْعَلْ كَذَا" أَنَا نَسِيتُ ذَلِكَ , " وَأَمِرَّ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے معلوم نہیں کہ آپ کے جانے کے بعد میں زندہ رہ سکوں گا، مجھے کوئی ایسی چیزسکھادیجئے جس سے مجھے فائدہ ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کئی باتیں فرمائیں جنہیں میں بھول گیا اور فرمایا مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19785]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2618
الحكم: إسناده صحيح، م: 2618
حدیث نمبر: 19786 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عُيَيْنَةُ ، أَبِيهِ ، بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ ، وَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ يَوْمًا أَمْشِي، فَإِذَا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَجِّهًا، فَظَنَنْتُهُ يُرِيدُ حَاجَةً، فَجَعَلْتُ أَخْنَسُ عَنْهُ وَأُعَارِضُهُ، فَرَآنِي فَأَشَارَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي جَمِيعًا، فَإِذَا نَحْنُ بِرَجُلٍ يُصَلِّي يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتُرَاهُ مُرَائِيًا" فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , فَأَرْسَلَ يَدِي، ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ فَجَمَعَهُمَا، وَجَعَلَ يَرْفَعُهُمَا بِحِيَالِ مَنْكِبَيْهِ وَيَضَعُهُمَا، وَيَقُولُ: " عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ الدِّينَ يَغْلِبْهُ" , وقَالَ يَزِيدُ بِبَغْدَادَ: بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ ، وَقَدْ كَانَ قَالَ: عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بُرَيْدَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , قَالَا: بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں ٹہلتا ہوا نکلا تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک جانب چہرے کا رخ کیا ہوا ہے، میں سمجھا کہ شاید آپ قضاء حاجت کے لئے جارہے ہیں، اس لئے میں ایک طرف کو ہو کر نکلنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا اور میری طرف اشارہ کیا، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ہم دونوں ایک طرف چلنے لگے، اچانک ہم ایک آدمی کے قریب پہنچے جو نماز پڑھ رہا تھا اور کثرت سے رکوع و سجود کررہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم اسے ریاکار سمجھتے ہو؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ کر دونوں ہتھیلیوں کو اکٹھا کیا اور کندھوں کے برابر اٹھانے اور نیچے کرنے لگے اور تین مرتبہ فرمایا اپنے اوپر درمیانہ راستہ لازم کرلو، کیونکہ جو شخص دین کے معاملے میں سختی کرتا ہے، وہ مغلوب ہو جاتا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19786]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19787 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَبُو الْأَشْهَبِ ، أَبِي الْحَكَمِ الْبُنَانِيِّ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مِمَّا أَخْشَى عَلَيْكُمْ شَهَوَاتِ الْغَيِّ فِي بُطُونِكُمْ وَفُرُوجِكُمْ، وَمُضِلَّاتِ الْهَوَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہارے متعلق ان گمراہ کن خواہشات سے سب سے زیادہ اندیشہ ہے جن کا تعلق پیٹ اور شرمگاہ سے ہوتا ہے اور گمراہ کن فتنوں سے بھی اندیشہ ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19787]
حکم دارالسلام
هذا إسناد ضعيف ، أبو الحكم البناني لم يسمع من أبى برزة
الحكم: هذا إسناد ضعيف ، أبو الحكم البناني لم يسمع من أبى برزة
حدیث نمبر: 19788 مسند احمد
يَزِيدُ ، أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ ، أَبِي الْوَازِعِ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ , عَنْ أَبِي الْوَازِعِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ , فَقَالَ: " انْظُرْ مَا يُؤْذِي النَّاسَ، فَاعْزِلْهُ عَنْ طَرِيقِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے جس سے مجھے فائدہ ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19788]
حکم دارالسلام
حديث حسن، م: 2618، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى هلال، لكنه توبع
الحكم: حديث حسن، م: 2618، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى هلال، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19789 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، التَّيْمِيِّ ، وَيَزِيدُ ، التَّيْمِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، وَيَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ , قَالَ يَزِيدُ: الْأَسْلَمِيِّ , قَالَ: كَانَتْ رَاحِلَةٌ , أَوْ نَاقَةٌ , أَوْ بَعِيرٌ , عَلَيْهَا مَتَاعٌ لِقَوْمٍ، فَأَخَذُوا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، وَعَلَيْهَا جَارِيَةٌ، فَتَضَايَقَ بِهِمْ الطَّرِيقُ، فَأَبْصَرَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَتْ تَقُولُ: حَلْ حَلْ، اللَّهُمَّ الْعَنْهَا أَوْ الْعَنْهُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصْحَبْنِي نَاقَةٌ أَوْ رَاحِلَةٌ أَوْ بَعِيرٌ , عَلَيْهَا أَوْ عَلَيْهِ لَعْنَةٌ مِنَ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اونٹنی تھی جس پر کسی آدمی کا سامان لدا ہوا تھا، وہ ایک باندی کی تھی، لوگ دو پہاڑوں کے درمیان چلنے لگے تو راستہ تنگ ہوگیا، اس نے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو اپنی سواری کو تیز کرنے کے لئے اسے ڈانٹا اور کہنے لگی اللہ! اس پر لعنت فرما، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہمارے ساتھ کوئی ایسی سواری نہیں ہونی چاہیے جس پر اللہ کی لعنت ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19789]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2596
الحكم: إسناده صحيح، م: 2596
حدیث نمبر: 19790 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قال: حَدَّثَنِي الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْأَهْوَازِ يُصَلِّي الْعَصْرَ، وَلِجَامُ دَابَّتِهِ فِي يَدِهِ، فَجَعَلَتْ تَتَأَخَّرُ، وَجَعَلَ يَنْكِصُ مَعَهَا، وَرَجُلٌ قَاعِدٌ مِنْ الْخَوَارِجِ يَسُبُّهُ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ:" إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكُمْ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ فَشَهِدْتُ أَمْرَهُ وَتَيْسِيرَهُ، فَكُنْتُ أَرْجِعُ مَعِي دَابَّتِي، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَدَعَهَا فَتَأْتِيَ مَأْلَفَهَا، فَيَشُقَّ عَلَي َّقَالَ , قُلْتُ: كَمْ صَلَّى؟ قَالَ: رَكْعَتَيْنِ , قَالَ: وَإِذَا هُوَ أَبُو بَرْزَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ازرق بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک بزرگ کو دیکھا جو اہواز شہر میں ایک نہر کے کنارے پر تھے، انہوں نے اپنی سواری کی لگام اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی تھی، اسی دوران وہ نماز پڑھنے لگے، اچانک ان کا جانور ایڑیوں کے بل پیچھے جانے لگا، وہ بھی اس کے ساتھ ساتھ پیچھے ہٹتے رہے، یہ دیکھ کر خوارج میں سے ایک آدمی کہنے لگا اے اللہ! ان بڑے میاں کو رسوا کر، یہ کیسے نماز پڑھ رہے ہیں، نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے فرمایا میں نے تمہاری بات سنی ہے، میں چھ، سات یا آٹھ غزوات میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا ہوں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معاملات اور آسانیوں کو دیکھا ہے، میرا اپنے جانور کو ساتھ لے کر واپس جانا اس سے زیادہ آسان اور بہتر ہے کہ میں اسے چھوڑ دوں اور یہ بھاگتا ہوا اپنے ٹھکانے پر چلا جائے اور مجھے پریشانی ہو اور حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے (مسافر ہونے کی وجہ سے) نماز عصر کی دو رکعتیں پڑھیں، دیکھا تو وہ حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19790]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1211
حدیث نمبر: 19791 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ ، أَبِي الْوَازِعِ الرَّاسِبِيِّ ، أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ الرَّاسِبِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ أَوْ أَنْتَفِعُ بِهِ قَالَ: " اعْزِلْ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے یا جس سے مجھے فائدہ ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19791]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2618
الحكم: إسناده صحيح، م: 2618
حدیث نمبر: 19792 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، أَبَا الْمِنْهَالِ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّوْمِ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثِ بَعْدَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عشاء سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19792]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 599
الحكم: إسناده صحيح، خ: 599
حدیث نمبر: 19793 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، خَالِدٍ ، أَبِي الْمِنْهَالِ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَقْرَأُ بِمَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى المِئَةِ"، يَعْنِي فِي الصُّبْحِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19793]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19794 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَابِرُ بْنُ عَمْرٍو الرَّاسِبِيُّ ، أَبَا بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ ، قال: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَمْرٍو الرَّاسِبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ ، يَقُولُ: قَتَلْتُ عَبْدَ الْعُزَّى بْنَ خَطَلٍ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِسِتْرِ الْكَعْبَةِ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس وقت عبدالعزی بن خطل غلاف کعبہ کے ساتھ چمٹا ہوا تھا تو (نبی (علیہ السلام) کے حکم سے) میں نے ہی اسے قتل کیا تھا اور میں نے ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ پوچھا تھا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو میں کرتا رہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کرو، کہ یہی تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19794]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 599، م: 461
الحكم: إسناده صحيح، خ: 599، م: 461
حدیث نمبر: 19795 مسند احمد
وَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ , فَقَالَ: " أَمِطْ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ" .
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2618
الحكم: إسناده صحيح، م: 2618
حدیث نمبر: 19796 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، أَبِي الْمِنْهَالِ ، أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ: قَالَ لِي أَبِي: انْطَلِقْ إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَيْهِ فِي دَارِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ فِي ظِلِّ عُلْوٍ مِنْ قَصَبٍ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَسَأَلَهُ أَبِي: حَدِّثْنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ؟ قَالَ:" كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَكَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ , قَالَ: وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ , قَالَ: وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ، قَالَ: وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا قَالَ: وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ , وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى المِئَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومنہال کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے والد نے ان سے عرض کیا کہ یہ بتائیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرض نماز کس طرح پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نماز ظہر جسے تم " اولی " کہتے ہو، اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا، عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص مدینہ میں اپنے گھر واپس پہنچتا تو سورج نظر آ رہا ہوتا تھا، مغرب کے متعلق انہوں نے جو فرمایا وہ میں بھول گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء کو مؤخر کرنے کو پسند فرماتے تھے، نیز اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہیں فرماتے تھے اور فجر کی نماز پڑھ کر اس وقت فارغ ہوتے جب ہم اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو پہچان سکتے تھے اور اس میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19796]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 599، م: 647
الحكم: إسناده صحيح، خ: 599، م: 647
حدیث نمبر: 19797 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، مُسَاوِرِ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَبَا بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُسَاوِرِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، فَقُلْتُ: " هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ" ، رَجُلًا مِنَّا يُقَالُ لَهُ: مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ , قَالَ رَوْحٌ: مُسَاوِرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمَّانِيُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مساور بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کو رجم کی سزا دی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ہم میں سے ایک آدمی کو یہ سزا ہوئی تھی جس کا نام ماعز بن مالک تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19797]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 19798 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، أَبُو الْوَازِعِ ، أَبَا بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَازِعِ , رَجُلٌ مِنْ بَنِي رَاسِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِي شَيْءٍ لَا يَدْرِي مَهْدِيٌّ مَا هُوَ , قَالَ: فَسَبُّوهُ وَضَرَبُوهُ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَوْ أَنَّكَ أَهْلَ عُمَانَ أتَيْتَ، مَا سَبُّوكَ وَلا ضَرَبُوكَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو عرب کے کسی قبیلے میں بھیجا، ان لوگوں نے اسے مارا پیٹا اور برا بھلا کہا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں واپس حاضر ہوا اور اس کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم اہل عمان کے پاس گئے ہوتے تو وہ تمہیں مارتے پیٹتے اور نہ برا بھلا کہتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19798]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2544
الحكم: إسناده صحيح، م: 2544
حدیث نمبر: 19799 مسند احمد
يُونُسُ ، مَهْدِيٌّ ، جَابِرٌ أَبُو الْوَازِعِ ، أَبَا بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا جَابِرٌ أَبُو الْوَازِعِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19799]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2544
الحكم: إسناده صحيح، م: 2544
حدیث نمبر: 19800 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ ، أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مَا بَيْنَ المِئَةِ إِلَى السِّتِّينَ، وَكَانَ يَنْصَرِفُ حِينَ يَنْصَرِفُ وَبَعْضُنَا يَعْرِفُ وَجْهَ بَعْضٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء کو تہائی رات تک مؤخر فرماتے تھے، نیز اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہیں فرماتے تھے اور فجر کی نماز پڑھ کر اس وقت فارغ ہوتے جب ہم اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو پہچان سکتے تھے اور اس میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19800]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 599، م: 647
الحكم: إسناده صحيح، خ: 599، م: 647
حدیث نمبر: 19801 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قُطْبَةُ ، الْأَعْمَشِ ، رَجُلٍ ، أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: نَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلْ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ، لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَةَ أَخِيهِ، يَتَّبِعْ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، حَتَّى يَفْضَحَهُ فِي بَيْتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا اے وہ لوگو! جو زبان سے ایمان لے آئے ہو لیکن ان کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت مت کیا کرو اور ان کے عیوب تلاش نہ کیا کرو، کیونکہ جو شخص ان کے عیوب تلاش کرتا ہے، اللہ اس کے عیوب تلاش کرتا ہے اور اللہ جس کے عیوب تلاش کرنے لگ جاتا ہے، اسے گھر بیٹھے رسوا کردیتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19801]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19802 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ ، جَابِرُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو الْوَازِعِ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ ، قال: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو الْوَازِعِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ , قَالَ: " أَمِطْ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بھی پوچھا تھا یارسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو میں کرتا رہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کرو، کہ یہی تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19802]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2618
الحكم: إسناده صحيح، م: 2618