حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، أَبَا الْوَازِعِ جَابِرًا الرَّاسِبِيَّ ، أَبَا بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَازِعِ جَابِرًا الرَّاسِبِيَّ ذَكَرَ , أَنَّ أَبَا بَرْزَةَ حَدَّثَهُ، قَال: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَدْرِي، لَعَسَى أَنْ تَمْضِيَ وَأَبْقَى بَعْدَكَ، فَحَدِّثْنِي بِشَيْءٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" افْعَلْ كَذَا، افْعَلْ كَذَا" أَنَا نَسِيتُ ذَلِكَ , " وَأَمِرَّ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے معلوم نہیں کہ آپ کے جانے کے بعد میں زندہ رہ سکوں گا، مجھے کوئی ایسی چیزسکھادیجئے جس سے مجھے فائدہ ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کئی باتیں فرمائیں جنہیں میں بھول گیا اور فرمایا مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19785]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2618
الحكم: إسناده صحيح، م: 2618