بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 52
صفحہ 1 از 3
حدیث نمبر: 19763 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، مَطَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَوْضِ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ لَهُ جُلَسَاءُ عُبَيْدِ اللَّهِ: " إِنَّمَا أَرْسَلَ إِلَيْكَ الْأَمِيرُ لِيَسْأَلَكَ عَنِ الْحَوْضِ، هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا، قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ , فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کوثر کے ثبوت میں شک تھا، اس نے حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ آئے تو عبیداللہ کے ہم نشینوں نے ان سے کہا کہ امیر نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ آپ سے حوض کوثر کے متعلق دریافت کرے، کیا آپ نے اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے، اب جو اس کی تکذیب کرتا ہے، اللہ اسے اس حوض سے سیراب نہ کرے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19763]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل مطر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل مطر
حدیث نمبر: 19764 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، سَيَّارٍ أَبِي الْمِنْهَالِ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِئَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19764]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 599، م: 461
الحكم: إسناده صحيح، خ: 599، م: 461
حدیث نمبر: 19765 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، أَبِي ، أَبِي الْمِنْهَالِ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَقْرَأُ فِي الْغَدَاةِ بالسِّتِّينَ إلى المئِة وَبالسِّتِّينَ إِلَى الْمِئَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19765]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 599، م: 461
الحكم: إسناده صحيح، خ: 599، م: 461
حدیث نمبر: 19766 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ: كَانَتْ رَاحِلَةٌ أَوْ نَاقَةٌ، أَوْ بَعِيرٌ عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ، وَعَلَيْهَا جَارِيَةٌ، فَأَخَذُوا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَتَضَايَقَ بِهِمْ الطَّرِيقُ، فَأَبْصَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: حَلْ حَلْ، اللَّهُمَّ الْعَنْهَا , فَقَالَ رسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَاحِبُ هَذِهِ الْجَارِيَةِ؟ لَا تَصْحَبُنَا رَاحِلَةٌ , أَوْ نَاقَةٌ , أَوْ بَعِيرٌ , عَلَيْهَا مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اونٹنی تھی جس پر کسی آدمی کا سامان لدا ہوا تھا، وہ ایک باندی کی تھی، لوگ دو پہاڑوں کے درمیان چلنے لگے تو راستہ تنگ ہوگیا، اس نے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو اپنی سواری کو تیز کرنے کے لئے اسے ڈانٹا اور کہنے لگی اللہ! اس پر لعنت فرما، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس باندی کا مالک کون ہے؟ ہمارے ساتھ کوئی ایسی سواری نہیں ہونی چاہیے جس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19766]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2596
الحكم: إسناده صحيح، م: 2596
حدیث نمبر: 19767 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَوْفٌ ، أَبُو الْمِنْهَالِ ، أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمِنْهَالِ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: حَدِّثْنَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ؟ قَالَ:" كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ وَهِيَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ وَيَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ بِالْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، قَالَ: وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَه، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِئَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومنہال کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے والد نے ان سے عرض کیا کہ یہ بتائیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرض نماز کس طرح پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نماز ظہر جسے تم " اولیٰ " کہتے ہو، اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا، عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص مدینہ میں اپنے گھر واپس پہنچتا تو سورج نظر آ رہا ہوتا تھا، مغرب کے متعلق انہوں نے جو فرمایا وہ میں بھول گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء کو مؤخر کرنے کو پسند فرماتے تھے، نیز اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہیں فرماتے تھے اور فجر کی نماز پڑھ کر اس وقت فارغ ہوتے جب ہم اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو پہچان سکتے تھے اور اس میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19767]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 599، م: 461
الحكم: إسناده صحيح، خ: 599، م: 461
حدیث نمبر: 19768 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَوَكِيعٌ ، أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ ، أَبِي الْوَازِعِ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَوَكِيعٌ , قَالَا: ثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعُ بِهِ , قَالَ: " اعْزِلْ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے جس سے مجھے فائدہ ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19768]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2618
الحكم: إسناده صحيح، م: 2618
حدیث نمبر: 19769 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَجَّاجٌ ، أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ ، أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآخِرَةٍ إِذَا طَالَ الْمَجْلِسُ فَقَامَ قَالَ: " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ"، فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا: إِنَّ هَذَا قَوْلٌ مَا كُنَّا نَسْمَعُهُ مِنْكَ فِيمَا خَلَا! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا كَفَّارَةُ مَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زندگی کے آخری ایام میں جب کوئی مجلس طویل ہوجاتی تو آخر میں اٹھتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں کہتے " سبحانک اللھم وبحمدک اشہد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک " ایک مرتبہ ہم میں سے کسی نے عرض کیا کہ یہ جملہ ہم نے آپ سے پہلے کبھی نہیں سنا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ مجلس میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19769]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، أبو هاشم لم يسمع من أبى برزة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، أبو هاشم لم يسمع من أبى برزة
حدیث نمبر: 19770 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبُو بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كَانَ أَبُو بَرْزَةَ بِالْأَهْوَازِ , عَلَى جَرْفِ نَهْرٍ، وَقَدْ جَعَلَ اللِّجَامَ فِي يَدِهِ، وَجَعَلَ يُصَلِّي، فَجَعَلَتْ الدَّابَّةُ تَنْكُصُ وَجَعَلَ يَتَأَخَّرُ مَعَهَا، فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنْ الْخَوَارِجِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اخْزِ هَذَا الشَّيْخَ، كَيْفَ يُصَلِّي! فَلَمَّا صَلَّى , قَالَ:" قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكُمْ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتًّا، أَوْ سَبْعًا، أَوْ ثَمَانِيًا، فَشَهِدْتُ أَمْرَهُ وَتَيْسِيرَهُ، فَكَانَ رُجُوعِي مَعَ دَابَّتِي أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ تَرْكِهَا، فَتَنْزِعُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقُّ عَلَيَّ , وَصَلَّى أَبُو بَرْزَةَ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ازرق بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ اہواز شہر میں ایک نہر کے کنارے پر تھے، انہوں نے اپنی سواری کی لگام اپنے ہاتھ میں تھام رکھی ہوئی تھی، اسی دوران وہ نماز پڑھنے لگے، اچانک ان کا جانور ایڑیوں کے بل پیجھے جانے لگا، حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بھی اس کے ساتھ ساتھ پیچھے ہٹتے رہے، یہ دیکھ کر خوارج میں سے ایک آدمی کہنے لگا اے اللہ! ان بڑے میاں کو رسوا کر، یہ کیسے نماز پڑھ رہے ہیں، نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے فرمایا میں نے تمہاری بات سنی ہے، میں چھ، سات یا آٹھ غزوات میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا ہوں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معاملات اور آسانیوں کو دیکھا ہے، میرا اپنے جانور کو ساتھ لے کر واپس جانا اس سے زیادہ آسان اور بہتر ہے کہ میں اسے چھوڑ دوں اور یہ بھاگتا ہوا اپنے ٹھکانے پر چلا جائے اور مجھے پریشانی ہو اور حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے (مسافر ہونے کی وجہ سے) نماز عصر کی دو رکعتیں پڑھیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19770]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1211
حدیث نمبر: 19771 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، جَابِرٌ أَبُو الْوَازِعِ ، أَبَا بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا جَابِرٌ أَبُو الْوَازِعِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فضَرَبُوهُ، وَسَبُّوهُ، فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَهْلَ عُمَانَ أَتَيْتَ، مَا ضَرَبُوكَ وَلَا سَبُّوكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو عرب کے کسی قبیلے میں بھیجا، ان لوگوں نے اسے مارا پیٹا اور برا بھلا کہا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں واپس حاضر ہوا اور اس کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم اہل عمان کے پاس گئے ہوتے تو وہ تمہیں مارتے پیٹتے اور نہ برا بھلا کہتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19771]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2544
الحكم: إسناده صحيح، م: 2544
حدیث نمبر: 19772 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ , قَالَ أَبُو الْأَشْهَبِ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ مِمَّا أَخْشَى عَلَيْكُمْ شَهَوَاتِ الْغَيِّ فِي بُطُونِكُمْ وَفُرُوجِكُمْ، وَمُضِلَّاتِ الْفِتَنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہارے متعلق ان گمراہ کن خواہشات سے سب سے زیادہ اندیشہ ہے جن کا تعلق پیٹ اور شرمگاہ سے ہوتا ہے اور گمراہ کن فتنوں سے بھی اندیشہ ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19772]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، على بن الحكم لم يسمع من أبى برزة
الحكم: إسناده ضعيف، على بن الحكم لم يسمع من أبى برزة
حدیث نمبر: 19773 مسند احمد
يَزِيدُ ، أَبُو الْأَشْهَبِ ، أَبِي الْحَكَمِ الْبُنَانِيِّ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَاه يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مِمَّا أَخْشَى عَلَيْكُمْ شَهَوَاتِ الْغَيِّ فِي بُطُونِكُمْ وَفُرُوجِكُمْ، وَمُضِلَّاتِ الْهَوَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہارے متعلق ان گمراہ کن خواہشات سے سب سے زیادہ اندیشہ ہے جن کا تعلق پیٹ اور شرمگاہ سے ہوتا ہے اور گمراہ کن فتنوں سے بھی اندیشہ ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19773]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، على بن الحكم لم يسمع من أبى برزة
الحكم: إسناده ضعيف ، على بن الحكم لم يسمع من أبى برزة
حدیث نمبر: 19774 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةُ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بَرْزَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بَرْزَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا" ، مَا أَنَا قُلْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَالَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قبیلہ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور قبیلہ غفار کی بخشش فرمائے یہ بات میں نہیں کہ رہا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہی یہ بات فرمائی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19774]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: ما أنا قلته ولكن الله قاله وهى زيادة منكرة، تفرد بها على بن زيد، وهو ضعيف، والمغيرة بن أبى برزة مجهول
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: ما أنا قلته ولكن الله قاله وهى زيادة منكرة، تفرد بها على بن زيد، وهو ضعيف، والمغيرة بن أبى برزة مجهول
حدیث نمبر: 19775 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي حَمْزَةَ ، حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفٍ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ جَارِهِمْ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ:" كَانَ أَبْغَضَ النَّاسِ أَوْ أَبْغَضَ الْأَحْيَاءِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَقِيفُ , وَبَنُو حَنِيفَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ لوگ قبیلہ ثقیف اور بنوحنیفہ تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19775]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال أبى حمزة جار شعبة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال أبى حمزة جار شعبة
حدیث نمبر: 19776 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، الْأَعْمَشِ ، سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ ، أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ , وَلَمْ يَدْخُلْ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ، لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعْ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ يَتَّبِعْ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا اے وہ لوگو! جو زبان سے ایمان لے آئے ہو لیکن ان کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت مت کیا کرو اور ان کے عیوب تلاش نہ کیا کرو، کیونکہ جو شخص ان کے عیوب تلاش کرتا ہے، اللہ اس کے عیوب تلاش کرتا ہے اور اللہ جس کے عیوب تلاش کرنے لگ جاتا ہے، اسے گھر بیٹھے رسوا کردیتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19776]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19777 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، سُكَيْنٌ ، سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ ، أَبَا بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سُكَيْنٌ ، حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ ، سَمِعَ أَبَا بَرْزَةَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ، إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَوْا، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حکمران قریش میں سے ہونگے، جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، وعدہ کریں تو پورا کریں اور فیصلہ کریں تو انصاف کریں اور جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19777]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 19778 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَغْزًى لَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْقِتَالِ، قَالَ: " هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟" قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَفْقِدُ فُلَانًا وَفُلَانًا , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلَكِنْ أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا، فَالْتَمِسُوهُ، فَالْتَمَسُوهُ، فَوَجَدُوهُ عِنْدَ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوهُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" قَتَلَ سَبْعَةً ثُمَّ قَتَلُوهُ! هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، قَتَلَ سَبْعَةً وَقَتَلُوهُ، هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ" فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعَهُ عَلَى سَاعِدِهِ، فَمَا كَانَ لَهُ سَرِيرٌ إِلَّا سَاعِدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَفَنَهُ، وَمَا ذَكَرَ غُسْلًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی غزوے میں مصروف تھے، جب جنگ سے فراغت ہوئی تو لوگوں سے پوچھا کہ تم کسی کو غائب پا رہے ہو؟ لوگوں نے کہا یارسول اللہ! فلاں فلاں لوگ ہمیں نہیں مل رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لیکن مجھے جلیبیب غائب نظر آرہا ہے، اسے تلاش کرو، لوگوں نے انہیں تلاش کیا تو وہ سات آدمیوں کے پاس مل گئے، حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ نے ان ساتوں کو قتل کیا تھا بعد میں خود بھی شہید ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا اس نے سات آدمیوں کو قتل کیا ہے، بعد میں مشرکین نے اسے شہید کردیا، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، یہ جملے دو مرتبہ دہرائے، پھر جب انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اٹھایا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بازوؤں پر اٹھا لیا اور تدفین تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دونوں بازو ہی تھے جو ان کے لئے جنازے کی چارپائی تھی، راوی نے غسل کا ذکر نہیں کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19778]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19779 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ العَنَزِي ، أَبِي طَالُوتَ العَنَزِي ، أَبَا بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ العَنَزِي ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ العَنَزِي ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، وَخَرَجَ مِنْ عِنْدِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَهُوَ مُغْضَبٌ، فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَعِيشُ حَتَّى أُخَلَّفُ فِي قَوْمٍ يُعَيِّرُونِي بِصُحْبَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: إِنَّ مُحَمَّدِيَّكُمْ هَذَا لَدَحْدَاحٌ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْحَوْضِ: فَمَنْ كَذَّبَ، فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوطالوت کہتے ہیں کہ حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ جب عبیداللہ بن زیاد کے پاس سے نکلے تو سخت غصے میں تھے، میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ میرا یہ خیال نہیں تھا کہ میں اس وقت تک زندہ رہوں گا جب کسی قوم میں ایسے لوگ پیدا ہوجائیں گے جو مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا صحابی ہونے پر طعنہ دیں گے اور کہیں گے کہ تمہارا محمدی یہ لنگڑا شخص ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حوض کوثر کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے، اب جو اس کی تکذیب کرتا ہے، اللہ اسے اس کا پانی نہ پلائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19779]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19780 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، أَبُو هِلَالٍ ، أَبَا بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَبُّ هَذِهِ الدَّارِ أَبُو هِلَالٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ يَتَغَنَّيَانِ، وَأَحَدُهُمَا يُجِيبُ الْآخَرَ، وَهُوَ يَقُولُ: لَا يَزَالُ حَوَارِيَّ تَلُوحُ عِظَامُهُ زَوَى الْحَرْبَ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوا مَنْ هُمَا" قَالَ: فَقَالُوا: فُلَانٌ وَفُلَانٌ , قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ ارْكُسْهُمَا رَكْسًا، وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی سفر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کان میں دو آدمیوں کی آواز آئی جو گانا گا رہے تھے اور پہلا دوسرے کو جواب دے رہا تھا (اس کا ساتھ دے رہا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ میرے جگری دوست کی ہڈیاں ہمیشہ چمکتی رہیں، اس نے جنگ کو لمبا ہونے سے پہلے سمیٹ لیا کہ اسے قبر مل جائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دیکھو، یہ دونوں کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں فلاں آدمی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! ان پر عذاب نازل فرما اور انہیں جہنم کی آگ میں دھکیل دے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19780]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً ، مسلسل بالضعفاء والمجاهيل
الحكم: إسناده ضعيف جداً ، مسلسل بالضعفاء والمجاهيل
حدیث نمبر: 19781 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، خَالِدٌ ، أَبِي الْمِنْهَالِ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ، وَلَا يُحِبُّ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عشاء سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19781]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 568
الحكم: إسناده صحيح، خ: 568
حدیث نمبر: 19782 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ أَبُو الْمِنْهَالِ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ أَبُو الْمِنْهَالِ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ ، وَإِنَّ فِي أُذُنَيَّ يَوْمَئِذٍ لَقُرْطَيْنِ، وَإِنِّي غُلَامٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ , ثَلَاثًا , مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا: مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا، وَعَاهَدُوا فَوَفَوْا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حکمران قریش میں سے ہوں گے، جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، وعدہ کریں تو پورا کریں اور فیصلہ کریں تو انصاف کریں اور جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19782]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي