يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، التَّيْمِيِّ ، وَيَزِيدُ ، التَّيْمِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، وَيَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ , قَالَ يَزِيدُ: الْأَسْلَمِيِّ , قَالَ: كَانَتْ رَاحِلَةٌ , أَوْ نَاقَةٌ , أَوْ بَعِيرٌ , عَلَيْهَا مَتَاعٌ لِقَوْمٍ، فَأَخَذُوا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، وَعَلَيْهَا جَارِيَةٌ، فَتَضَايَقَ بِهِمْ الطَّرِيقُ، فَأَبْصَرَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَتْ تَقُولُ: حَلْ حَلْ، اللَّهُمَّ الْعَنْهَا أَوْ الْعَنْهُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصْحَبْنِي نَاقَةٌ أَوْ رَاحِلَةٌ أَوْ بَعِيرٌ , عَلَيْهَا أَوْ عَلَيْهِ لَعْنَةٌ مِنَ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اونٹنی تھی جس پر کسی آدمی کا سامان لدا ہوا تھا، وہ ایک باندی کی تھی، لوگ دو پہاڑوں کے درمیان چلنے لگے تو راستہ تنگ ہوگیا، اس نے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو اپنی سواری کو تیز کرنے کے لئے اسے ڈانٹا اور کہنے لگی اللہ! اس پر لعنت فرما، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہمارے ساتھ کوئی ایسی سواری نہیں ہونی چاہیے جس پر اللہ کی لعنت ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19789]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2596
الحكم: إسناده صحيح، م: 2596