بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 86
صفحہ 2 از 5
حدیث نمبر: 19283 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَائِذِ اللَّهِ الْمُجَاشِعِيِّ ، أَبِي دَاوُدَ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَنْ عَائِذِ اللَّهِ الْمُجَاشِعِيِّ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قُلْتُ: أَوْ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: " سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: مَا لَنَا مِنْهَا؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالصُّوفُ؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم کی سنت ہے انہوں نے پوچھا اس پر ہمیں کیا ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! اون کا کیا حکم ہے؟ فرمایا اون کے ہر بال کے عوض بھی ایک نیکی ملے گی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19283]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، أبو داود نفيع بن الحارث متروك، وعائذ الله ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف جدا، أبو داود نفيع بن الحارث متروك، وعائذ الله ضعيف
حدیث نمبر: 19284 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبَا حَمْزَةَ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ عَمْرٌو: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، وَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ (بچوں میں) سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19284]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو حمزة مولى الأنصار مجهول. وقول الحافظ ابن حجر: "وثقة النسائي" وهم
الحكم: إسناده ضعيف، أبو حمزة مولى الأنصار مجهول. وقول الحافظ ابن حجر: "وثقة النسائي" وهم
حدیث نمبر: 19285 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ: لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَامَنِي قَوْمِي، وَقَالُوا: مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذَا؟! قَالَ: فَانْطَلَقْتُ، فَنِمْتُ كَئِيبًا حَزِينًا، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكَ، وَصَدَّقَكَ"، قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا حَتَّى بَلَغَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ سورة المنافقون آية 7 - 8 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں کسی غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک تھا (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کہنے لگا کہ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جو زیادہ باعزت ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آکر آپ کو اس کی یہ بات بتائی، عبداللہ بن ابی نے قسم اٹھالی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی میری قوم کے لوگ مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا؟ میں وہاں سے واپس آکر غمزدہ سالیٹ کر سونے لگا تھوڑی ہی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قاصد کے ذریعے مجھے بلابھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارا عذرنازل کرکے تمہاری سچائی کو ثابت کردیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جو زیادہ باعزت ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19285]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4902، م: 2772
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4902، م: 2772
حدیث نمبر: 19286 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان بیت الخلاؤں میں جنات آتے رہتے ہیں اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں داخل ہو تو اسے یہ دعاء پڑھ لینی چاہئے کہ اے اللہ! میں خبیث مذکر و مؤنث جنات سے آپ کی پناہ میں آتاہوں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19286]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وهذا حديث تفرد به قتاده، ورواه عنه جماعة من تلاميذه، واختلفوا عليه فيه
الحكم: رجاله ثقات، وهذا حديث تفرد به قتاده، ورواه عنه جماعة من تلاميذه، واختلفوا عليه فيه
حدیث نمبر: 19287 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كَانَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَقَالَ يَوْمًا: " سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ، قَالَ: فَتَكَلَّمَ فِي ذَلِكَ النَّاسُ، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ ؛ فَإِنِّي أَمَرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ، وَقَالَ فِيهِ قَائِلُكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا سَدَدْتُ شَيْئًا وَلَا فَتَحْتُهُ، وَلَكِنِّي أُمِرْتُ بِشَيْءٍ فَاتَّبَعْتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کئی صحابہ رضی اللہ عنہ کے دروازے مسجد نبوی کے طرف کھلتے تھے ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ علی کے دروازے کو چھوڑ کر باقی سب دروازے بند کردو، اس پر کچھ لوگوں نے باتیں کیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء کی، پھر امابعد کہہ کر فرمایا کہ میں نے علی کا دروازہ چھوڑ کر باقی تمام دروازے بند کرنے کا جو حکم دیا ہے اس پر تم میں سے بعض لوگوں کو اعتراض ہے اللہ کی قسم! میں اپنے طور پر کسی چیز کو کھول بند نہیں کرتا بلکہ مجھے تو حکم دیا گیا ہے اور میں اسی کی پیروی کرتا ہوں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19287]
حکم دارالسلام
إسناده ضيعف، ومتنه منكر، ميمون أبو عبدالله ضعيف
الحكم: إسناده ضيعف، ومتنه منكر، ميمون أبو عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 19288 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مِسْعَرٌ ، الْحَجَّاجِ ، قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ مَوْلَى بَنِي ثَعْلَبَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ عَمِّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قَالَ: نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مِنْ عَلِيٍّ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ : قَدْ عَلِمْتَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ؟! .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی زبان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی نامناسب جملہ نکل گیا تو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مردوں کو برابھلا کہنے سے منع فرمایا ہے پھر آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسی بات کیوں کررہے ہیں جبکہ وہ فوت ہوچکے؟ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19288]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حجاج مولى بني ثعلبة
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حجاج مولى بني ثعلبة
حدیث نمبر: 19289 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَيْمُونًا ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَيْمُونًا يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَدَاوَوْا مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ، وَالزَّيْتِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ ذت الجنب کی بیماری میں عودہندی اور زیتون استعمال کیا کریں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19289]
حکم دارالسلام
التداوي بالعود الهندي منه صحيح، وهذا إسناد ضعيف، و ميمون أبو عبدالله ضعيف
الحكم: التداوي بالعود الهندي منه صحيح، وهذا إسناد ضعيف، و ميمون أبو عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 19290 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيِّ ، مُعَاوِيَةَ ، الْأَنْصَارِيُّ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الشَّامِ، حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ قَالَ شُعْبَةُ: يَعْنِي زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا هُمْ يَا أَهْلَ الشَّامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو عبداللہ شامی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے انصاری صحابی حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا اور مجھے امید ہے کہ اے اہل شام! یہ تم ہی ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19290]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ابي عبدالله الشامي
الحكم: مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ابي عبدالله الشامي
حدیث نمبر: 19291 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبَا حَمْزَةَ ، زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلٍ نَزَلُوهُ فِي مَسِيرِهِ، فَقَالَ: " مَا أَنْتُمْ بِجُزْءٍ مِنْ مِئَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ مِنْ أُمَّتِي"، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: كُنَّا سَبْعَ مِئَةٍ، أَوْ ثَمَانِ مِئَةٍ؟ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی سفر میں ایک مقام پر پڑاؤ کرکے فرمایا تم لوگ قیامت کے دن میرے پاس حوض کوثر پر آنے والوں کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو ہم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے فرمایا چھ سے سات سو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19291]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو حمزة مجهول، وقول الحافظ ابن حجر: «وثقه النسائي» وهم
الحكم: إسناده ضعيف، أبو حمزة مجهول، وقول الحافظ ابن حجر: «وثقه النسائي» وهم
حدیث نمبر: 19292 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! انصار کی، ان کی بیٹوں کی اور ان کی پوتوں کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19292]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4906، م: 2506
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4906، م: 2506
حدیث نمبر: 19293 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعْتَمِرٌ ، دَاوُدَ الطُّفَاوِيَّ ، أَبِي مُسْلِمٍ الْبَجَلِيِّ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ الطُّفَاوِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ: " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ، قَالَهَا إِبْرَاهِيمُ مَرَّتَيْنِ: رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، اجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ وَأَهْلِي فِي كُلِّ سَاعَةٍ مِنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، ذَا الْجِلَالِ وَالْإِكْرَامِ، اسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اللَّهُ الْأَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، اللَّهُ الْأَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، اللَّهُ الْأَكْبَرُ الْأَكْبَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر نماز کے بعدیوں کہتے تھے اے اللہ! ہمارے اور ہر چیز کے رب! میں گواہی دیتاہوں کہ آپ اکیلے رب ہیں آپ کا کوئی شریک نہیں اے ہمارے اور ہر چیز کے رب! میں گواہی دیتاہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کے بندے اور آپ کے رسول ہیں اے ہمارے اور ہر چیز کے رب! میں گواہی دیتاہوں کہ سب بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں اے اللہ! اے ہمارے اور ہر چیز کے رب! مجھے اور میرے گھروالوں کو دنیا و آخرت میں اپنے لئے مخلص بنادیجئے اے بزرگی اور عزت والے میری دعا کو سن لے اور قبول فرمالے اللہ سب سے بڑا ہے سب سے بڑا اللہ زمین و آسمان کا نور ہے اللہ سب سے بڑا ہے سب سے بڑا اللہ مجھے کافی ہے اور وہ بہترین کا رساز ہے اللہ سب سے بڑا ہے سب سے بڑا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19293]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف داود الطفاوي، ولجهالة أبى مسلم البجلي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف داود الطفاوي، ولجهالة أبى مسلم البجلي
حدیث نمبر: 19294 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَمُؤَمَّلٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، زَيْدُ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَمُؤَمَّلٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: يَا زَيْدُ بْنَ أَرْقَمَ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ عُضْوُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَلَمْ يَقْبَلْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ مُؤَمَّلٌ: فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" إِنَّا حُرُمٌ"؟ قَالَ: نَعَمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نے مجھے وہ بات کیسے بتائی تھی کہ حالت احرام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا گیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا؟ انہوں نے کہا ہاں! اسی طرح ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19294]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1195
الحكم: إسناده صحيح، م: 1195
حدیث نمبر: 19295 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ ، زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، قَالَ: لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ مَا قَالَ: لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ، قَالَ: لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَلَامَنِي نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: وَجَاءَ هُوَ، فَحَلَفَ مَا قَالَ ذَاكَ، فَرَجَعْتُ إِلَى الْمَنْزِلِ، فَنِمْتُ، قَالَ: فَأَتَانِي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ بَلَغَنِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ صَدَّقَكَ وَعَذَرَكَ" ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ سورة المنافقون آية 7..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں (کسی غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک تھا)، (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کہنے لگا کہ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جو زیادہ باعزت ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آکر آپ کو اس کی یہ بات بتائی، عبداللہ بن ابی نے قسم اٹھالی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی میری قوم کے لوگ مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا؟ میں وہاں سے واپس آکرغمزدہ سالیٹ کر سونے لگا تھوڑی ہی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قاصد کے ذریعے مجھے بلابھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارا عذر نازل کرکے تمہاری سچائی کو ثابت کردیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جو زیادہ باعزت ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19295]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4900، م: 2772
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4900، م: 2772
حدیث نمبر: 19296 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
قَالَ عَبْدُ اللهِ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ..
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4900، م: 2772
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4900، م: 2772
حدیث نمبر: 19297 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي حَمْزَةَ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
قَالَ عَبْدُ اللهِ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4900، م: 2772، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى حمزة، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 4900، م: 2772، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى حمزة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19298 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ : كَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ، وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً حَجَّةَ الْوَدَاعِ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَبِمَكَّةَ أُخْرَى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کتنے غزوات فرمائے؟ انہوں نے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انیس غزوات فرمائے تھے جن میں سے سترہ میں میں بھی شریک تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19298]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4404، م: 1254
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4404، م: 1254
حدیث نمبر: 19299 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَتَبَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ زَمَنَ الْحَرَّةِ يُعَزِّيهِ فِيمَنْ قُتِلَ مِنْ وَلَدِهِ وَقَوْمِهِ، وَقَالَ: أُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَاغْفِرْ لِنِسَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نضربن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ واقعہ حرہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے جو بچے اور قوم کے لوگ شہید ہوگئے تھے ان کی تعزیت کرنے کے لئے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے انہیں خط لکھا اور کہا کہ میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتاہوں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! انصار کی، ان کی بیٹوں کی اور ان کی پوتوں کی مغفرت فرما اور انصار کی عورتوں کی ان کے بیٹوں کی عورتوں کی اور ان کے پوتوں کی عورتوں کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19299]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4906، م:2506
الحكم: حديث صحيح، خ: 4906، م:2506
حدیث نمبر: 19300 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عَبْدِ الْأَعْلَى ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَلَى جِنَازَةٍ، فَكَبَّرَ خَمْسًا، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو عِيسَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، فَأَخَذَ بِيَدِهِ، فَقَالَ: نَسِيتَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ خَمْسًا، فَلَا أَتْرُكُهَا أَبَدًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالاعلی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے اس میں پانچ مرتبہ تکبیرکہی تو ابن ابی لیلیٰ نے کھڑے ہو کر ان کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگے کیا آپ بھول گئے ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں البتہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے " جو میرے خلیل اور ابوالقاسم تھے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم " نماز جنازہ پڑھی ہے، انہوں نے پانچ مرتبہ تکبیرکہی تھی لہٰذا میں اسے کبھی ترک نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19300]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبدالأعلى ضعيف عند الجمهور، ثم إن فى قوله: «صليت خلف زيد بن أرقم» وقفة
الحكم: إسناده ضعيف، عبدالأعلى ضعيف عند الجمهور، ثم إن فى قوله: «صليت خلف زيد بن أرقم» وقفة
حدیث نمبر: 19301 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي سَلْمَانَ الْمُؤَذِّنِ ، زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي سَلْمَانَ الْمُؤَذِّنِ ، قَالَ: تُوُفِّيَ أَبُو سَرِيحَةَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا، وَقَالَ: كَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمان مؤذن کہتے ہیں کہ ابوسریحہ کا انتقال ہوا تو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور چارتکبیرات کہیں اور فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19301]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك، وجهالة حال أبى سلمان المؤذن، وللاختلاف عليه فيه
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك، وجهالة حال أبى سلمان المؤذن، وللاختلاف عليه فيه
حدیث نمبر: 19302 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، فِطْرٌ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: جَمَعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّاسَ فِي الرَّحَبَةِ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَنْشُدُ اللَّهَ كُلَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا سَمِعَ، لَمَّا قَامَ، فَقَامَ ثَلَاثُونَ مِنَ النَّاسِ، وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَقَامَ نَاسٌ كَثِيرٌ، فَشَهِدُوا حِينَ أَخَذَهُ بِيَدِهِ، فَقَالَ لِلنَّاسِ: أَتَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَهَذَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ"، قَالَ: فَخَرَجْتُ وَكَأَنَّ فِي نَفْسِي شَيْئًا، فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَمَا تُنْكِرُ؟ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ لَهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا جس مسلمان نے غدیرخم کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد سناہو میں اسے قسم دے کر کہتاہوں کہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوجائے چناچہ تیس آدمی کھڑے ہوگئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق حاصل ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ دبا کر فرمایا جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں اے اللہ، اے اللہ! جو علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے دشمنی کرتا ہے تو اس سے دشمنی فرما میں وہاں سے نکلا تو میرے دل میں اس کے متعلق کچھ شکوک و شبہات تھے چناچہ میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ملا اور عرض کیا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس اس طرح کہتے ہوئے سنا ہے انہوں نے فرمایا تمہیں اس پر تعجب کیوں ہورہا ہے؟ میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19302]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح