يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَائِذِ اللَّهِ الْمُجَاشِعِيِّ ، أَبِي دَاوُدَ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَنْ عَائِذِ اللَّهِ الْمُجَاشِعِيِّ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قُلْتُ: أَوْ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: " سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: مَا لَنَا مِنْهَا؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالصُّوفُ؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم کی سنت ہے انہوں نے پوچھا اس پر ہمیں کیا ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! اون کا کیا حکم ہے؟ فرمایا اون کے ہر بال کے عوض بھی ایک نیکی ملے گی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19283]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، أبو داود نفيع بن الحارث متروك، وعائذ الله ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف جدا، أبو داود نفيع بن الحارث متروك، وعائذ الله ضعيف