يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، أَبِي الْمِنْهَالِ ، زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ كَانَا شَرِيكَيْنِ، فَاشْتَرَيَا فِضَّةً بِنَقْدٍ، وَنَسِيئَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُمَا أَنَّ: مَا كَانَ بِنَقْدٍ، فَأَجِيزُوهُ، وَمَا كَانَ بِنَسِيئَةٍ، فَرُدُّوهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومنہال رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ ایک دوسرے کے تجارتی شریک تھے ایک مرتبہ دونوں نے نقد کے بدلے میں اور ادھار چاندی خرید نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات پتہ چلی تو ان دونوں کو حکم دیا کہ جو خریداری نقد کے بدلے میں ہوئی ہے اسے تو برقرار رکھو اور جو ادھار کے بدلے میں ہوئی ہے اسے واپس کردو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19307]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2180، م: 1589
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2180، م: 1589