بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 86
صفحہ 3 از 5
حدیث نمبر: 19303 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبَا حَمْزَةَ ، زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ،: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، يَقُولُ: أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ عَمْرٌو: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَأَنْكَرَهُ، وَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ (بچوں میں) سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19303]
حکم دارالسلام
إسناده ضيعف لجهالة أبى حمزة. وقوله الحافظ ابن حجر : "وثقة النسائي" وهم
الحكم: إسناده ضيعف لجهالة أبى حمزة. وقوله الحافظ ابن حجر : "وثقة النسائي" وهم
حدیث نمبر: 19304 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا جِئْنَاهُ، قُلْنَا: حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّا قَدْ كَبُرْنَا وَنَسِينَا، وَالْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ جب ہم لوگ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے کوئی حدیث سنانے کی فرمائش کرتے تو وہ فرماتے کہ ہم بوڑھے ہوگئے اور بھول گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19304]
حکم دارالسلام
أثر صحيح
الحكم: أثر صحيح
حدیث نمبر: 19305 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: قُلْنَا لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : حَدِّثْنَا، قَالَ: كَبُرْنَا، وَنَسِينَا، وَالْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ جب ہم لوگ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے کوئی حدیث سنانے کی فرمائش کرتے تو وہ فرماتے کہ ہم بوڑھے ہوگئے اور بھول گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19305]
حکم دارالسلام
أثر صحيح
الحكم: أثر صحيح
حدیث نمبر: 19306 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي حَمْزَةَ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّخَعِيِّ، فَأَنْكَرَهُ، وَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ (بچوں میں) سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19306]
حکم دارالسلام
إسناده ضيعف لجهالة أبى حمزة. وقوله الحافظ ابن حجر : "وثقة النسائي" وهم
الحكم: إسناده ضيعف لجهالة أبى حمزة. وقوله الحافظ ابن حجر : "وثقة النسائي" وهم
حدیث نمبر: 19307 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، أَبِي الْمِنْهَالِ ، زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ كَانَا شَرِيكَيْنِ، فَاشْتَرَيَا فِضَّةً بِنَقْدٍ، وَنَسِيئَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُمَا أَنَّ: مَا كَانَ بِنَقْدٍ، فَأَجِيزُوهُ، وَمَا كَانَ بِنَسِيئَةٍ، فَرُدُّوهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومنہال رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ ایک دوسرے کے تجارتی شریک تھے ایک مرتبہ دونوں نے نقد کے بدلے میں اور ادھار چاندی خرید نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات پتہ چلی تو ان دونوں کو حکم دیا کہ جو خریداری نقد کے بدلے میں ہوئی ہے اسے تو برقرار رکھو اور جو ادھار کے بدلے میں ہوئی ہے اسے واپس کردو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19307]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2180، م: 1589
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2180، م: 1589
حدیث نمبر: 19308 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْرَحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْرَحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَنَفَسٍ لَا تَشْبَعُ، وَعِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَدَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا"، قَالَ: فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَاهُنَّ، وَنَحْنُ نُعَلِّمُكُمُوهُنَّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ! میں لاچاری، سستی، بڑھاپے، بزدلی، کنجوسی اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتاہوں، اسے اللہ میرے نفس کو تقویٰ عطاء فرما اور اس کا تزکیہ فرما کہ تو ہی اس کا بہترین تزکیہ کرنے والا اور اس کا آقاومولیٰ ہے اے اللہ! میں خشوع سے خالی دل، نہ بھرنے والے نفس، غیرنافع علم اور مقبول نہ ہونے والی دعاء سے آپ کی پاہ میں آتاہوں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء ہمیں سکھاتے تھے اور ہم تمہیں سکھا رہے ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19308]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2722
الحكم: إسناده صحيح، م: 2722
حدیث نمبر: 19309 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، أَبَا حَمْزَةَ ، زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " مَا أَنْتُمْ بِجُزْءٍ مِنْ مِئَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ مِنْ أُمَّتِي"، قَالَ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: سَبْعَ مِئَةٍ، أَوْ ثَمَانِ مِئَةٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی سفر میں ایک مقام پر پڑاؤ کرکے فرمایا تم لوگ قیامت کے دن میرے پاس حوض کوثر پر آنے والوں کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو ہم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے فرمایا چھ سے سات سو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19309]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو حمزة مجهول. وقوله الحافظ ابن حجر : "وثقة النسائي" وهم
الحكم: إسناده ضعيف، أبو حمزة مجهول. وقوله الحافظ ابن حجر : "وثقة النسائي" وهم
حدیث نمبر: 19310 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، أَبَا الْمِنْهَالِ ، الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، عَنِ الصَّرْفِ، فَهَذَا يقُولُ: سَلْ هَذَا، فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ، وَهَذَا يَقُولُ: سَلْ هَذَا، فَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ، قَالَ: فَسَأَلْتُهُمَا، فَكِلَاهُمَا يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا، وَسَأَلْتُ هَذَا، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومنہال رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بیع صرف کے متعلق پوچھا وہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ لو، یہ مجھ سے بہتر اور زیادہ جانتے والے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ لویہ مجھ سے بہتر اور زیادہ جاننے والے ہیں بہرحال! ان دونوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سونے کے بدلے چاندی کی ادھارخریدوفروخت سے منع کیا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19310]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2180، م: 1589
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2180، م: 1589
حدیث نمبر: 19311 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَيْسٌ ، عَطَاءٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، زَيْدُ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا قَيْسٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: يَا زَيْدُ بْنَ أَرْقَمَ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ عُضْوُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَلَمْ يَقْبَلْهُ؟ قَالَ: بَلَى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نے مجھے وہ بات کیسے بتائی تھی کہ حالت احرام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا گیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا؟ انہوں نے کہا ہاں! اسی طرح ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19311]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1195
الحكم: إسناده صحيح، م: 1195
حدیث نمبر: 19312 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ ابْنِ حَكِيمٍ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ابْنِ حَكِيمٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَلَى جِنَازَةٍ، فَكَبَّرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَقَالَ: هَكَذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالعزیزبن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے اس میں پانچ تکبیرات کہہ دیں پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح تکبیرات کہہ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19312]
حکم دارالسلام
أشار العقيلي إلى تضعيف هذا الطريق، وقد ورد هذا الحديث من طريق أخرى، وهو صحيح
الحكم: أشار العقيلي إلى تضعيف هذا الطريق، وقد ورد هذا الحديث من طريق أخرى، وهو صحيح
حدیث نمبر: 19313 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: لَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، وَهُوَ دَاخِلٌ عَلَى الْمُخْتَارِ، أَوْ: خَارِجٌ مِنْ عِنْدِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ الثَّقَلَيْنِ"؟ قَالَ: نَعَمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علی بن ربیعہ کہتے کہ ایک مرتبہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی اس وقت وہ مختار کے پاس جارہے تھے یا آرہے تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ میں تم میں دو مضبوط چیزیں چھوڑ کر جارہاہوں؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19313]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2408
الحكم: إسناده صحيح، م: 2408
حدیث نمبر: 19314 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْمُحَلِّمِيِّ ، زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْمُحَلِّمِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يُعْطَى قُوَّةَ مِئَةِ رَجُلٍ فِي الْأَكْلِ، وَالشُّرْبِ، وَالشَّهْوَةِ، وَالْجِمَاعِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ اليهود: فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جِلْدِهِ، فَإِذَا بَطْنُهُ قَدْ ضَمُرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ہر جنتی کو کھانے، پینے خواہشات اور مباشرت کے حوالے سے سو آدمیوں کے برابرطاقت عطاء کی جائے گی ایک یہودی نے کہا کہ پھر اس کھانے پینے والے کو قضاء حاجت کا مسئلہ بھی پیش آئے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قضاء حاجت کا طریقہ یہ ہوگا کہ انہیں پسینہ آئے گا جوان کی کھال سے بہے گا اور اس سے مشک کی مہک آئے گی اور پیٹ ہلکا ہوجائے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19314]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الأعمش مدلس، وقد عنعن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الأعمش مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 19315 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، أَبِي أَيُّوبَ ، قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ مَوْلَى لِبَنِي ثَعْلَبَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَبَّ أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَقَامَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، فَقَالَ: أَمَا أَنْ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ؟! .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی گورنر کی زبان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی نامناسب جملہ نکل گیا تو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مردوں کو برابھلا کہنے سے منع فرمایا ہے پھر آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسی بات کیوں کررہے ہیں جبکہ وہ فوت ہوچکے؟ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19315]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حجاج مولى بني ثعلبة
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حجاج مولى بني ثعلبة
حدیث نمبر: 19316 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، وَأُبَيّ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، وَأُبَيّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ : كَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: تِسْعَ عَشْرَةَ، وَغَزَوْتُ مَعَهُ سَبْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، وَسَبَقَنِي بِغَزَاتَيْنِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کتنے غزوات فرمائے؟ انہوں نے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انیس غزوات فرمائے تھے جن میں سے سترہ میں میں بھی شریک تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19316]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3949، م: 1254
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3949، م: 1254
حدیث نمبر: 19317 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، أبا المنهال ، الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَحْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، أنهما سمعا أبا المنهال ، يَقُولُ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، فَقَالَا: كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ، فَلَا بَأْسَ، وَإِنْ كَانَ نَسِيئَةً، فَلَا يَصْلُحُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالمنہال کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ سے بیع صرف کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم تجارت کرتے تھے ایک مرتبہ ہم نے بھی ان سے یہی سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر معاملہ نقد کا ہو تو کوئی حرج نہیں اور اگر ادھارہو تو پھر صحیح نہیں ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19317]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2060، م: 1589
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2060، م: 1589
حدیث نمبر: 19318 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، إِسْرَائِيلُ ، عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ ، زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ ، قَالَ: شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا؟ قَالَ: نَعَمْ، صَلَّى الْعِيدَ أَوَّلَ النَّهَارِ، ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ، فَقَالَ:" مَنْ شَاءَ أَنْ يُجَمِّعَ، فَلْيُجَمِّعْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایاس بن ابی رملہ شامی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ جمعہ کے دن عید دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دن کے پہلے حصے میں عید کی نماز پڑھی اور باہر سے آنے والوں کو جمعہ کی رخصت دے دی اور فرمایا جو شخص چاہے وہ جمعہ پڑھ کر واپس جائے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19318]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة إياس بن أبى رملة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة إياس بن أبى رملة
حدیث نمبر: 19319 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَأَى نَاسًا يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ مِنَ الضُّحَى، فَقَالَ: أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ صَلَاةَ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قاسم شیبانی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اہل قباء کے پاس تشریف لے گئے وہ لوگ چاشت کے وقت نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے فرمایا یہ لوگ جانتے بھی ہیں کہ یہ نماز کسی اور وقت میں افضل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی یہ نماز اس وقت پڑھی جاتی ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19319]
حکم دارالسلام
هذا من صحيح حديث القاسم بن عوف، م: 748
الحكم: هذا من صحيح حديث القاسم بن عوف، م: 748
حدیث نمبر: 19320 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، زَيْدٌ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: كَانَ زَيْدٌ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا، وَأَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جِنَازَةٍ خَمْسًا، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر چارتکبیرات کہتے تھے ایک مرتبہ کسی جنازے پر انہوں نے پانچ تکبیرات کہہ دیں لوگوں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی کبھارپانچ تکبیرات بھی کہہ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19320]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 957
الحكم: إسناده صحيح، م: 957
حدیث نمبر: 19321 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي حَمْزَةَ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِئَةِ أَلْفٍ أَوْ: مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ"، قَالَ: فَسَأَلُوهُ: كَمْ كُنْتُمْ؟ فَقَالَ: ثَمَانِ مِئَةٍ، أَوْ: سَبْعَ مِئَةٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی سفر میں ایک مقام پر پڑاؤ کرکے فرمایا تم لوگ قیامت کے دن میرے پاس حوض کوثر پر آنے والوں کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو ہم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے فرمایا سات سویا آٹھ سو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19321]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو حمزة مجهول. وقوله الحافظ ابن حجر : "وثقة النسائي" وهم
الحكم: إسناده ضعيف، أبو حمزة مجهول. وقوله الحافظ ابن حجر : "وثقة النسائي" وهم
حدیث نمبر: 19322 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! انصار کی، ان کی بیٹوں کی اور ان کی پوتوں کی مغفرت فرما۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19322]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4906، م: 2506
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4906، م: 2506