رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، أبا المنهال ، الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَحْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، أنهما سمعا أبا المنهال ، يَقُولُ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، فَقَالَا: كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ، فَلَا بَأْسَ، وَإِنْ كَانَ نَسِيئَةً، فَلَا يَصْلُحُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالمنہال کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ سے بیع صرف کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم تجارت کرتے تھے ایک مرتبہ ہم نے بھی ان سے یہی سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر معاملہ نقد کا ہو تو کوئی حرج نہیں اور اگر ادھارہو تو پھر صحیح نہیں ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19317]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2060، م: 1589
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2060، م: 1589