بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَقِيَّةُ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 50
صفحہ 1 از 3
حدیث نمبر: 19102 مسند احمد
يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، فِرَاسٍ ، مُدْرِكِ بْنِ عُمَارَةَ ، ابْنِ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ مُدْرِكِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَزْنِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ أَوْ سَرَفٍ وَهُوَ مُؤْمِنٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص شراب نوشی کرتا ہے اس وقت وہ مومن نہیں رہتا جو شخص بدکاری کرتا ہے اس وقت وہ مؤمن نہیں رہتا اور جو کسی مالدار کے یہاں ڈاکہ ڈالتا ہے وہ اس وقت مومن نہیں رہتا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19102]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19103 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، الشَّيْبَانِيُّ ، ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، الشَّيْبَانِيِّ ، ابْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي الشَّيْبَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى . وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ" . قَالَ: قُلْتُ: فَالْأَبْيَضُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شیبانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سبز مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے میں نے ان سے پوچھا سفید مٹکے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19103]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19104 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمُزَنِيِّ ، ابْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر یہ فرماتے اے ہمارے پروردگار اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں زمین و آسمان کے بھرپور ہونے کے برابر اور اس کے علاوہ جن چیزوں کو آپ چاہیں ان کے بھرپور ہونے کے برابر۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19104]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 476
الحكم: إسناده صحيح، م: 476
حدیث نمبر: 19105 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، عُبَيْدُ بْنُ حَسَنٍ ، ابْنِ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ حَسَنٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ وَلَمْ يَقُلْ: فِي الصَّلَاةِ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 476
الحكم: إسناده صحيح، م: 476
حدیث نمبر: 19106 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، الشَّيْبَانِيُّ ، ابْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ" . قَالَ: قُلْتُ: فَالْأَبْيَضُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شیبانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سبزمٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے میں نے ان سے پوچھا سفید مٹکے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19106]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19107 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَيَعْلَى هو ابن عبيد ، ابْنُ أَبِي خَالِدٍ وَهُوَ إِسْمَاعِيلُ ، ابْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيَعْلَى هو ابن عبيد ، قَالَا: حدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ وَهُوَ إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، هاْزِمْ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر مشرکین کے لشکروں کے لئے بدعاء کرتے ہوئے فرمایا اے کتاب کو نازل کرنے والے اللہ! جلدی حساب لینے والے لشکروں کو شکست دینے والے، انہیں شکست سے ہمکنار فرما اور انہیں ہلا کر رکھ دے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19107]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2933، م: 1742
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2933، م: 1742
حدیث نمبر: 19108 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ:" قَدِمْنَا مَعَ نَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ يَعْنِي فِي الْعُمْرَةِ وَنَحْنُ نَسْتُرُهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُؤْذُوهُ بِشَيْءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ پہنچے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی اور اس دوران مشرکین کی ایذاء رسانی سے بچانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی حفاظت میں رکھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19108]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1791
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1791
حدیث نمبر: 19109 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، ابْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ: " لَوْ كَانَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ مَا مَاتَ ابْنُهُ إِبْرَاهِيمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کوئی نبی آنا ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال کبھی نہ ہوتا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19109]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6194
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6194
حدیث نمبر: 19110 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ ، إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ ، ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، مِسْعَرٌ ، إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ ، ابْنِ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَخْذَ شَيئًا مِنَ الْقُرْآنِ، فَعَلِّمْنِي مَا يُجْزِئُنِي، قَالَ: " قُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَا لِي؟ قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي، وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي"، ثُمَّ أَدْبَرَ وَهُوَ مُمْسِكُ كَفَّيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا هَذَا، فَقَدْ مَلَأَ يَدَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ" . قَالَ مِسْعَرٌ : فَسَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَّتَنِي فِيهِ غَيْرِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں قرآن کریم کا تھوڑا ساحصہ بھی یاد نہیں کرسکتا، اس لئے مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے جو میرے لئے کافی ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یوں کہہ لیا کرو سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر و لاحول ولاقوۃ الاباللہ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ تو اللہ تعالیٰ کے لئے ہے میرے لئے کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یوں کہہ لیا کرو اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت عطاء فرما، مجھے ہدایت عطاء فرما اور مجھے رزق عطاء فرما، پھر وہ آدمی پلٹ کر چلا گیا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے بند کر رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص تو اپنے ہاتھ خیر سے بھر کرچلا گیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19110]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه، وهذا اسناد ضعيف لضعف ابراهيم السكسكي
الحكم: حديث حسن بطرقه، وهذا اسناد ضعيف لضعف ابراهيم السكسكي
حدیث نمبر: 19111 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، ابْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ مَالِهِ صَلَّى عَلَيْهِ، فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِ أَبِي، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے لئے دعاء فرماتے تھے ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہم صل علی آل ابی اوفی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19111]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1497، م: 1078
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1497، م: 1078
حدیث نمبر: 19112 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي يَعْفُورٍ الْعَبْدِيِّ ، ابْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ الْعَبْدِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، فَكُنَّا نَأْكُلُ فِيهَا الْجَرَادَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی ہے ان غزوات میں ہم لوگ ٹڈی دل کھایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19112]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1952
الحكم: إسناده صحيح، م: 1952
حدیث نمبر: 19113 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةُ ، شَيْخٍ ، ابْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَجِيلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ جَارِيَةٌ تَضْرِبُ بِالدُّفِّ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَدَخَلَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَمْسَكَتْ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کاشانہ اقدس میں داخل ہونے کی اجازت چاہی اس وقت ایک باندی دف بجارہی تھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اجازت پا کر اندر آگئے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آکر اجازت طلب کی اور اندر آگئے پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آکر اجازت طلب کی تو وہ خاموش ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عثمان بڑے حیاء دار آدمی ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19113]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن ابن أبى أوفي
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن ابن أبى أوفي
حدیث نمبر: 19114 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبُو حَيَّانَ ، شَيْخًا ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا بِالْمَدِينَةِ يُحَدِّثُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى كَتَبَ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ إِذْ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ الْحَرُورِيَّةَ، فَقُلْتُ لِكَاتِبِهِ وَكَانَ لِي صَدِيقًا: انْسَخْهُ لِي، فَفَعَلَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ" قَالَ: فَيَنْظُرُ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ نَهَدَ إِلَى عَدُوِّهِ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک بزرگ کہتے ہیں کہ جب عبیداللہ نے خارجیوں سے جنگ کا ارادہ کیا تو حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے اسے ایک خط لکھا میں نے ان کے کاتب سے " جو میرا دوست تھا " کہا کہ مجھے اس کی ایک نقل دے دو تو اس نے مجھے اس کی نقل دے دی وہ خط یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے دشمن سے آمنا سامنا ہونے کی تمنا نہ کیا کرو، بلکہ اللہ سے عافیت کا سوال کیا کرو اور جب آمنا سامنا ہوجائے تو ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا کرو اور یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زوال آفتاب کا انتظار کرتے اور اس کے بعد دشمن پر حملہ کردیتے تھے اور یہ دعاء فرماتے تھے اے کتاب کو نازل کرنے والے اللہ! بادلوں کو چلانے اور لشکروں کو شکست دینے والے! انہیں شکست سے دوچار فرما اور ہماری مدد فرما۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19114]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2933، م: 1742، وهذا إسناد ضعيف على خطأ فيه، لم يقمه أبو حيان، وشيخه مبهم، وصديقه الكاتب مبهم أيضا. قوله: عبيدالله خطا، والصحيح عمر بن عبيدالله
الحكم: حديث صحيح، خ: 2933، م: 1742، وهذا إسناد ضعيف على خطأ فيه، لم يقمه أبو حيان، وشيخه مبهم، وصديقه الكاتب مبهم أيضا. قوله: عبيدالله خطا، والصحيح عمر بن عبيدالله
حدیث نمبر: 19115 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِصَدَقَةٍ، قَالَ: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ"، وَإِنَّ أَبِي أَتَاهُ بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے لئے دعاء فرماتے تھے ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللھم صل علی آل ابی اوفی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19115]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1497، م: 1078
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1497، م: 1078
حدیث نمبر: 19116 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَدِيٍّ ، بَهْزٌ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، ابْنُ جَعْفَرٍ ، الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَابْنَ أَبِي أَوْفَى ، بَهْزٌ ، عَدِيٍّ ، الْبَرَاءِ ، وَابْنِ أَبِي أوْفَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ ، قَالَ بَهْزٌ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَابْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَا: أَصَابُوا حُمُرًا يَوْمَ خَيْبَرَ، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكْفِئُوا الْقُدُورَ" . وَقَالَ بَهْزٌ ، عَنْ عَدِيٍّ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، وَابْنِ أَبِي أوْفَى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر کچھ گدھے ہمارے ہاتھ لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منادی نے اعلان کردیا کہ ہانڈیاں الٹادو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19116]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4221، م: 1938
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4221، م: 1938
حدیث نمبر: 19117 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، رَجُلٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ: كَانَتْ جَارِيَةٌ تَضْرِبُ بِالدُّفِّ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عنهم، فَأَمْسَكَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کاشانہ اقدس میں داخل ہونے کی اجازت چاہی اس وقت ایک باندی دف بجا رہی تھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اجازت پا کر اندر آگئے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آکر اجازت طلب کی اور اندر آگئے پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آکر اجازت طلب کی تو وہ خاموش ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عثمان بڑے حیاء دار آدمی ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19117]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن ابن أبى أوفي
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن ابن أبى أوفي
حدیث نمبر: 19118 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ، وَرَوْحٍ ، شُعْبَةُ ، مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ . وَحَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ . وَرَوْحٍ قَالَ: حدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ، وَنَقِّنِي مِنْهَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْوَسَخِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے اے اللہ تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں زمین و آسمان کے بھرپور ہونے کے برابر اور اس کے علاوہ جن چیزوں کو آپ چاہیں ان کے بھرپور ہونے کے برابر اے اللہ! مجھے برف اولوں اور ٹھنڈے پانی سے پاک کردے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کردے جیسے سفید کپڑے کی میل کچیل دور ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19118]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 476
الحكم: إسناده صحيح، م: 476
حدیث نمبر: 19119 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةَ ، عُبَيْدًا أَبَا الْحَسَنِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، أَبُو عِصْمَةَ ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عُبَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدًا أَبَا الْحَسَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ: " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ"، قَالَ حَجَّاجٌ:" مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ" . قَالَ مُحَمَّدٌ: قَالَ شُعْبَةُ: وَحَدَّثَنِي أَبُو عِصْمَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے اے اللہ تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں زمین و آسمان کے بھرپور ہونے کے برابر اور اس کے علاوہ جن چیزوں کو آپ چاہیں ان کے بھرپور ہونے کے برابر۔ حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تودعاء کرتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19119]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 476، رجاله ثقات
الحكم: حديث صحيح، م: 476، رجاله ثقات
حدیث نمبر: 19120 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْفِئُوا الْقُدُورَ وَمَا فِيهَا" . قَالَ شُعْبَةُ: إِمَّا أَنْ يَكُونَ قَالَهُ سُلَيْمَانُ" وَمَا فِيهَا" أَوْ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَهُ مِنَ ابْنِ أَبِي أَوْفَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہانڈیاں اور ان میں جو کچھ ہے الٹادو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19120]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3155، م: 1937
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3155، م: 1937
حدیث نمبر: 19121 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي الْمُخْتَارِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ مَنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ فَلَمْ نَجِدْ الْمَاءَ، قَالَ: ثُمَّ هَجَمْنَا عَلَى الْمَاءِ بَعْدُ، قَالَ: فَجَعَلُوا يَسْقُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُلَّمَا أَتَوْهُ بِالشَّرَابِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى شَرِبُوا كُلُّهُمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی سفر میں تھے ہمیں پانی نہیں مل رہا تھا تھوڑی دیر بعد ایک جگہ پانی نظر آگیا لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر آنے لگے جب بھی کوئی آدمی پانی لے کر آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہی فرماتے کسی بھی قوم کا ساقی سب سے آخر میں پیتا ہے یہاں تک کہ سب لوگوں نے پانی پی لیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19121]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو المختار الأسدي مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، أبو المختار الأسدي مجهول