حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي الْمُخْتَارِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ مَنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ فَلَمْ نَجِدْ الْمَاءَ، قَالَ: ثُمَّ هَجَمْنَا عَلَى الْمَاءِ بَعْدُ، قَالَ: فَجَعَلُوا يَسْقُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُلَّمَا أَتَوْهُ بِالشَّرَابِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى شَرِبُوا كُلُّهُمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی سفر میں تھے ہمیں پانی نہیں مل رہا تھا تھوڑی دیر بعد ایک جگہ پانی نظر آگیا لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر آنے لگے جب بھی کوئی آدمی پانی لے کر آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہی فرماتے کسی بھی قوم کا ساقی سب سے آخر میں پیتا ہے یہاں تک کہ سب لوگوں نے پانی پی لیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19121]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو المختار الأسدي مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، أبو المختار الأسدي مجهول