حَجَّاجٌ ، مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، طَلْحَةُ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى :" أَوَصّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَكَيْفَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِالْوَصِيَّةِ وَلَمْ يُوصِ؟ قَالَ: أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی وصیت فرمائی ہے؟ انہوں نے فرمایا نہیں، میں نے کہا تو پھر انہوں نے مسلمانوں کو وصیت کا حکم کیسے دے دیا جبکہ خود وصیت کی نہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت فرمائی ہے (لیکن کسی کو کوئی خاص وصیت نہیں فرمائی ') [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19123]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2740، م: 1634، وهذا إسناد ظاهرة الانقطاع، حجاج لم يصرح بسماعه من مالك بن مغول، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2740، م: 1634، وهذا إسناد ظاهرة الانقطاع، حجاج لم يصرح بسماعه من مالك بن مغول، وقد توبع