مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، رَجُلٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ: كَانَتْ جَارِيَةٌ تَضْرِبُ بِالدُّفِّ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عنهم، فَأَمْسَكَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کاشانہ اقدس میں داخل ہونے کی اجازت چاہی اس وقت ایک باندی دف بجا رہی تھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اجازت پا کر اندر آگئے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آکر اجازت طلب کی اور اندر آگئے پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آکر اجازت طلب کی تو وہ خاموش ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عثمان بڑے حیاء دار آدمی ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19117]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن ابن أبى أوفي
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن ابن أبى أوفي