بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 110
صفحہ 5 از 6
حدیث نمبر: 18214 مسند احمد
وَكِيعٌ ، طَعْمَةُ بْنُ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيُّ ، عُمَرَ بْنِ بَيَانٍ التَّغْلِبِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا طَعْمَةُ بْنُ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ بَيَانٍ التَّغْلِبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ، فَلْيُشَقِّصْ الْخَنَازِيرَ" يَعْنِي يُقَصِّبُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص شراب بیچ سکتا ہے تو پھر اسے چاہئے کہ خنزیر کے بھی ٹکڑے کرکے بیچنا شروع کردے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18214]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال عمر بن بيان
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال عمر بن بيان
حدیث نمبر: 18215 مسند احمد
يَزِيدُ ، شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، حُصَيْنِ بْنِ عُقْبَةَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِحُجْزَةِ سُفْيَانَ بْنِ سَهْلٍ الثَّقَفِيِّ، فَقَالَ:" يَا سُفْيَانُ، لَا تُسْبِلْ إِزَارَكَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْبِلِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سفیان بن ابی سہل کی کمر پکڑ کر یہ کہتے ہوئے سنا اے سفیان بن ابی سہل! اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے مت لٹکاؤ کیونکہ اللہ ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18215]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وحصين بن عقبة مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وحصين بن عقبة مجهول
حدیث نمبر: 18216 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَسَبَّحْنَا بِهِ، فَمَضَى، فَلَمَّا أَتَمَّ الصَّلَاةَ، " سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ" ، وَقَالَ مَرَّةً: فَسَبَّحَ بِهِ مَنْ خَلْفَهُ، فَأَشَارَ أَنْ قُومُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18216]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه، روي يزيد عن المسعودي بعد الاختلاط، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح بطرقه، روي يزيد عن المسعودي بعد الاختلاط، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18217 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدًا ، عَقَّارُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، حَسَّانُ ، عَقَّارٌ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَقَّارُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ حَدِيثًا، فَلَمَّا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ لَمْ أُمْعِنْ حِفْظَهُ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَلَقِيتُ حَسَّانَ بْنَ أَبِي وَجْزَةَ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ حَسَّانُ : حَدَّثَنَاهُ عَقَّارٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَمْ يَتَوَكَّلْ مَنْ اكْتَوَى وَاسْتَرْقَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے جسم کو آگ سے داغے یا منتر پڑھے وہ توکل سے بری ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18217]
حکم دارالسلام
حديث حسن من أجل عقار بن المغيرة
الحكم: حديث حسن من أجل عقار بن المغيرة
حدیث نمبر: 18218 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، شَيْبَانُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ: كَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ، فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تھا اس دن سورج گرہن ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ سورج اور چاند کسی کی موت سے نہیں گہناتے یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں لہٰذا جب ان میں سے کسی ایک کو گہن لگے تو تم فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرو۔ یہاں تک کہ یہ ختم ہوجائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18218]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1043، م: 915
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1043، م: 915
حدیث نمبر: 18219 مسند احمد
أَبُو الْوَلِيدِ ، وَعَفَّانُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، إِيَادٌ ، سُوَيْدِ بْنِ سَرْحَانَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، حَدَّثَنَا إِيَادٌ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَرْحَانَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ طَعَامًا، ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَقَامَ، وَقَدْ كَانَ تَوَضَّأَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ لِيَتَوَضَّأَ مِنْهُ، فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ:" وَرَاءَكَ"، فَسَاءَنِي وَاللَّهِ ذَلِكَ، ثُمَّ صَلَّى، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِ انْتِهَارُكَ إِيَّاهُ، وَخَشِيَ أَنْ يَكُونَ فِي نَفْسِكَ عَلَيْهِ شَيْءٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَيْهِ فِي نَفْسِي شَيْءٌ إِلَّا خَيْرٌ، وَلَكِنْ أَتَانِي بِمَاءٍ لِأَتَوَضَّأَ، وَإِنَّمَا أَكَلْتُ طَعَامًا، وَلَوْ فَعَلْتُ، فَعَلَ ذَلِكَ النَّاسُ بَعْدِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھانا تناول فرمایا اس کے بعد نماز کھڑی ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے وضو فرما رکھا تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لے کر آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے جھڑکتے ہوئے فرمایا پیچھے ہٹو بخدا! مغیرہ کو آپ کا جھڑکنا بہت پریشان کر رہا ہے اسے اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے متعلق آپ کے دل میں کوئی بوجھ تو نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے دل میں تو اس کے متعلق سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں البتہ یہ میرے پاس وضو کے لئے پانی لائے تھے جبکہ میں نے تو صرف کھانا کھایا تھا اگر میں وضو کرلیتا تو میرے بعد لوگ بھی اسی طرح کرنا شروع کردیتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18219]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18220 مسند احمد
وَكِيعٌ ، بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ ، ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَسِيتَ؟ قَالَ:" بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ، بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک وادی میں قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے وہاں سے واپس آکر وضو کیا اور موزوں پر ہی مسح کرلیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! شاید آپ بھول گئے کہ آپ نے موزے نہیں اتارے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قطعاً نہیں تم بھول گئے ہو مجھے تو میرے رب نے یہی حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18220]
حکم دارالسلام
ضعيف بهذه السياقة، تفرد بها بكير، وهو ضعيف
الحكم: ضعيف بهذه السياقة، تفرد بها بكير، وهو ضعيف
حدیث نمبر: 18221 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اكْتَوَى أَوْ اسْتَرْقَى، فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے جسم کو آگ سے داغے یا منتر پڑھے وہ توکل سے بری ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18221]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18222 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، جَابِرٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: أَمَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ، فَقَامَ، فَقُلْنَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ"، وَأَشَارَ بِيَدِهِ يَعْنِي قُومُوا، فَقُمْنَا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا ذَكَرَ أَحَدُكُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا، فَلْيَجْلِسْ، وَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا، فَلَا يَجْلِسْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ظہریا عصر کی نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور ہاتھ کے اشارے سے ہمیں بھی کھڑے ہونے کے لئے فرمایا اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور فرمایا اگر تمہیں مکمل کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جایا کرو اور اگر مکمل کھڑے ہوجاؤ تو پھر نہ بیٹھا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18222]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف، جابر الجعفي ضعيف
الحكم: حديث صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف، جابر الجعفي ضعيف
حدیث نمبر: 18223 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، سُفْيَانَ ، جَابِرِ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا، فَلْيَجْلِسْ، وَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا، فَلَا يَجْلِسْ، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص دو رکعتوں پر بیٹھنے کی بجائے کھڑا ہوجائے تو اگر وہ سیدھا کھڑا نہیں ہوا تو بیٹھ جائے اور اگر مکمل کھڑا ہوچکا ہو تو پھر نہ بیٹھے اور بعد میں سجدہ سہو کرلے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18223]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف، جابر الجعفي ضعيف
الحكم: حديث صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف، جابر الجعفي ضعيف
حدیث نمبر: 18224 مسند احمد
مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ هَاشِمٍ ، عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ هَاشِمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا، " فَأَخْبَرَنَا بِمَا يَكُونُ فِي أُمَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَعَاهُ مَنْ وَعَاهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور اپنی امت میں قیامت تک پیش آنے والے واقعات کی خبردے دی جس نے اس خطبے کو یاد رکھا سو یاد رکھا اور جس نے بھلادیا سو بھلا دیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18224]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمر بن إبراهيم
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمر بن إبراهيم
حدیث نمبر: 18225 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَأَتَيْتُ خِبَاءً، فَإِذَا فِيهِ امْرَأَةٌ أَعْرَابِيَّةٌ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يُرِيدُ مَاءً يَتَوَضَّأُ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ مَاءٍ؟ قَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَاللَّهِ مَا تُظِلُّ السَّمَاءُ، وَلَا تُقِلُّ الْأَرْضُ رُوحًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رُوحِهِ، وَلَا أَعَزَّ، وَلَكِنَّ هَذِهِ الْقِرْبَةَ مَسْكُ مَيْتَةٍ، وَلَا أُحِبُّ أُنَجِّسُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" ارْجِعْ إِلَيْهَا، فَإِنْ كَانَتْ دَبَغَتْهُ فَهِيَ طَهُورُهَا" . قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: أَيْ وَاللَّهِ، لَقَدْ دَبَغْتُهَا. فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ مِنْهَا، وَعَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ، وَعَلَيْهِ خُفَّانِ وَخِمَارٌ، قَالَ: فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ. قَالَ: مِنْ ضِيقِ كُمَّيْهَا. قَالَ: فَتَوَضَّأَ، فَمَسَحَ عَلَى الْخِمَارِ وَالْخُفَّيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پانی منگوایا میں ایک خیمے میں پہنچا وہاں ایک دیہاتی عورت تھی میں نے اس سے کہا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے ہیں اور وضو کے لئے پانی منگوا رہے ہیں تو کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ وہ کہنے لگی میرے ماں باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قربان ہوں، واللہ آسمان کے سائے تلے اور روئے زمین پر میرے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ محبوب اور معزز کوئی شخص نہیں یہ مشکیزہ مردار کی کھال کا ہے میں نہیں چاہتی کہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ناپاک کروں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں واپس آیا اور یہ ساری بات بتادی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واپس جاؤ اگر اس نے کھال کو دباغت دے دی تھی تودباغت ہی اس کی پاکیزگی ہے چناچہ میں اس عورت کے پاس دوبارہ گیا اور اس یہ مسئلہ ذکر کردیا۔ اس نے کہا بخدا! میں اسے دباغت تو دی تھی چناچہ میں اس میں سے پانی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا موزے اور عمامہ بھی پہن رکھا تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جبے کے نیچے سے ہاتھ نکالے کیونکہ اس کی آستینیں تنگ تھیں پھر وضو کیا اور عمامے اور موزوں پر مسح فرمایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18225]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، معان بن رفاعة لين الحديث ، وعلي بن زيد ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، معان بن رفاعة لين الحديث ، وعلي بن زيد ضعيف
حدیث نمبر: 18226 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، الْمُغِيرَةِ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ:" ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ، فَسَكَبْتُ عَلَيْهِ الْمَاءَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ عَنْهُمَا كُمُّ الْجُبَّةِ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضاء حاجت کے لئے چلے گئے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آئے اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور انہیں دھو کر موزوں پر مسح کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18226]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4421، م: 274
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4421، م: 274
حدیث نمبر: 18227 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ الطَّائِفِيُّ ، أَبِي عَوْنٍ ، أَبِيهِ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي أَوْ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى فَرْوَةٍ مَدْبُوغَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دباغت دی ہوئی پوستین پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18227]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يونس بن الحارث، وقد اضطرب فيه، ولجهالة والد ابي عون
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يونس بن الحارث، وقد اضطرب فيه، ولجهالة والد ابي عون
حدیث نمبر: 18228 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، عُرْوَةَ ، الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، سُرَيْجٌ ، والْهَاشِمِيُّ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ :" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظُهُورِ الْخُفَّيْنِ" . حَدَّثَنَاه سُرَيْجٌ ، والْهَاشِمِيُّ أَيْضًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18228]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 182، م: 274
الحكم: حديث صحيح، خ: 182، م: 274
حدیث نمبر: 18229 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، شَرِيكٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَبَا السَّائِبِ ، الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا، فَتَبَرَّزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبِعْتُهُ بِإِدَاوَةٍ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، " فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک وادی میں قضاء حاجت کے لئے چلے گئے میں بھی ایک برتن میں پانی لے کر پیچھے چلا گیا اور پانی ڈالتا رہا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر ہی مسح کرلیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18229]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 182، م: 274، رجاله ثقات
الحكم: حديث صحيح، خ: 182، م: 274، رجاله ثقات
حدیث نمبر: 18230 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَرَّادٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَقِيلَ وَقَالَ، وَمَنْعَ وَهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تین چیزوں کو تمہارے حق میں ناپسند کرتا ہے قیل وقال، کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تم پر بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا اور دست سوال کرنا حرام قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18230]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 844، م: 593، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 844، م: 593، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18231 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَسَبَّحَ الْقَوْمُ، قَالَ: فَأُرَاهُ فَسَبَّحَ وَمَضَى، ثُمَّ " سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا سَلَّمَ، وقَالَ: هَكَذَا فَعَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . إِنَّمَا شَكَّ فِي سَبَّحَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن انہوں نے اشارہ سے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ہمارے ساتھ اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18231]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه ، وهذا اسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
الحكم: حديث صحيح بطرقه ، وهذا اسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 18232 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، الْمُغِيرَةُ ، عَامِرٍ ، وَرَّادٍ ، الْمُغِيرَةُ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، أخبرنا عَامِرٍ ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: اكْتُبْ إِلَيَّ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَانِي الْمُغِيرَةُ . قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ" . وَسَمِعْتُهُ " يَنْهَى عَنْ: قِيلَ وَقَالَ، وَعَنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ، وَعَنْ وَأْدِ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ، وَمَنْعٍ وَهَاتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور آپ کے سامنے کسی مرتبے والے کا مرتبہ کام نہیں آسکتا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا، بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا ممنوع قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18232]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 844، م: 593، على ابن عاصم ضعيف، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 844، م: 593، على ابن عاصم ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18233 مسند احمد
عَلِيٌّ ، الْجُرَيْرِيُّ ، عَبْدَ ربه ، وَرَّادٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدَ ربه ، عَنْ وَرَّادٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ" مِثْلَ حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ وَأْدَ الْبَنَاتِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام پھیرتے وقت یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18233]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 844، م: 593، على بن عاصم ضعيف، وسمع من الجريري بعد الاختلاط، لكنه توبع، وعبد ربه توبع كذلك
الحكم: حديث صحيح، خ: 844، م: 593، على بن عاصم ضعيف، وسمع من الجريري بعد الاختلاط، لكنه توبع، وعبد ربه توبع كذلك